اس کا احوال بھی لکھئے

ابھی کچھ روز کی بات ہے، ہم کشمیر کے باشندوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ ان پر جو کچھ بیت رہی ہے، کہیں لکھتے جائیں۔ ہر روز کے احوال کا روزنامچہ سا تیار کریں اور ضروری نہیں کہ وہ کہیں کتاب یا رسالے میں چھپے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ ادب کا کوئی شاہکار ہو۔ بس، لکھئے، قلم بند کیجئے اور احتیاط سے کہیں رکھ دیجئے۔ دس سال بعد پڑھیں گے تو کتنی ہی بھولی بسری باتیں سامنے آئیں گی جنہیں پڑھ کر آپ خود ہی حیران ہوں گے، اور پچاس ساٹھ سال بعد آپ کی آئندہ نسلیں پڑھیں گی تو جانیں گی کہ قیامت کے شب و روز کیسے ہوتے ہیں۔ یادوں کا اثاثہ کتنا پُراثر ہوتا ہے، اُس لمحے تو شاید نہیں پر وقت ہمارے اوپر سے پھلانگ کر اور بڑا سا ڈگ بھر کر گزر جائے تو ماضی کی اس سوغات کی قدر ہوتی ہے۔ یہ اسی چوٹ کی بات ہے جس کا درد دیر بعد محسوس ہوتا ہے۔

آج بات کشمیر کی نہیں، اس کے لاک ڈاؤن کی بھی نہیں جس کا دنیا نے نوٹس ہی نہیں لیا۔ جب سانس لینے پر بھی پابندی لگی ہو تو انسان پر کیا گزرتی ہے، دنیا والے سننے، سمجھنے اور محسوس کرنے کے لئے تیار ہی نہیں تھے تب قدرت نے ایک اور چال چلی۔ جب حکمرانی کے نشے میں چور حاکم اپنی چالیں چل چکے تو عرصے سے خوابیدہ قدرت حرکت میں آئی اور اس نے اور کافی گہری نیند میں سوئی ہوئی دنیا کو لاک ڈاؤن کا مزا چکھانے کا فیصلہ کیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ چین سے چلا یا چمگادڑ سے، کورونا نام کا وائرس آندھی طوفان کی طرح اٹھا اور گھٹا بن کر اس کرّہ ارض کے گوشے گوشے تک جا پہنچا۔ کچھ ملک اور کچھ جزیرے باقی دنیا سے الگ تھلگ تھے اور خود کو محفوظ سمجھتے تھے، وہاں بھی کورونا کے جراثیم دندناتے ہوئے پہنچے اور وہاں بھی لاک ڈاؤن کی ہاہاکار شروع ہو گئی۔

جو بات دکھ دیتی ہے وہ یہ کہ ایک خلقت ماننے ہی کے لئے تیار نہیں کہ دنیا پر کتنی بھاری قیامت اتر رہی ہے۔ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ موت کس طرح دانت نکوسے گلی گلی کوچے کوچے جنازوں پر جنازے اٹھا رہی ہے اور بعض لوگوں کو جیسے یقین ہے کہ انہیں کچھ نہیں ہوگا۔ بازاروں میں گاہکوں کا مجمع لگا ہے، دکانوں میں ہجوم ٹوٹا پڑ رہا ہے اور حکام گلا پھاڑ پھاڑ کر سمجھا رہے ہیں کہ ایک دوسرے سے فاصلے پر رہو لیکن لوگ کتنی سہولت سے ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا رہے ہیں۔

دکھ اس بات کا ہے کہ لوگ اسے ایک واقعہ، ایک واردات سمجھ بیٹھے ہیں جو ہمیشہ ہوتی رہی ہیں اور ہوکر اپنے انجام کو پہنچتی رہی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ تاریخ نسلِ انسانی کو اس بار جو داستان سنا رہی ہے اس کا انجام خود تاریخ کو بھی معلوم نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ایک وبا پھوٹ پڑی ہے، دشواری یہ ہے کہ یہ اگر گئی تو جاتے جاتے کیسے گل کھلائے گی۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔ ہمارا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، سب اس کی زد میں آئیں گے اور ان کا ایسا حلیہ بنے گا کہ پہچاننا مشکل ہوگا۔ ایسے میں ہم پر لازم ہے کہ آج ہمارے جینے کے جو ڈھنگ ہیں ان کی روداد رقم کر دی جائے۔

آپ کے آس پاس کیا ہو رہا ہے، پاس پڑوس پر کیا بیت رہی ہے۔ گلی محلے کی کیا خبریں ہیں، کہاں وبا نے سنّاٹا طاری کیا ہے اور کہاں شور برپا ہے۔ رقم کیجئے۔ روزنامچہ لکھئے۔ اپنے علاقے کی روداد لکھئے۔ آپ کو شاید آج محسوس نہ ہو لیکن کچھ عرصے بعد آپ جانیں گے کہ آپ وقت کی آندھی کے کیسے جھکڑوں سے گزرتے رہے ہیں۔ اپنی تحریر آنے والے وقتوں کے لئے چھوڑ دیجئے۔ ان وقتوں کے لئے جن میں پتا نہیں کون کس حال میں ہوگا۔

لاک ڈاؤن کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وقت کیسے گزارا جائے۔ جواب آسان ہے۔ کوئی مشغلہ اختیار کیجئے۔ کبھی کوئی ساز بجاتے تھے پھر وہ بند ہوگیا، اسے نئی زندگی عطا کیجئے۔ کبھی مصوری سے شغف تھا پھر وہ بھی کہیں گم ہوگئی، اسے زندہ کیجئے، نئے نقش و نگار میں نئے رنگ بھرئیے۔ کبھی فوٹو گرافی میں جی لگتا تھا، دوبارہ لگائیے اور قدرت کے نظاروں کو نت نئے زاویوں سے دیکھ کر آج کے جدید کیمروں میں محفوظ کیجئے۔ کبھی بلیک اینڈ وائٹ فلموں کے زمانے کے گانوں سے جی بہلتا تھا، دوبارہ بہلائیے۔

آج کے یوٹیوب میں پرانے گانے خوب خوب محفوظ ہیں، ان سے محظوظ ہوئیے۔ خاندان کے اور اپنے کنبے کے پرانے فوٹو گراف کہیں لفافوں یا بکسوں میں بھرے خاک کھا رہے ہوں گے، انہیں نکالئے، جھاڑیے، پونچھئے اور پرانی یادیں تازہ کیجئے۔ کچھ نہ ہو تو پڑھئے، نوعمری کی کتابوں پر سرسری نگاہ ڈالئے اور اس مطالعے کی یادیں تازہ کیجئے۔ طبیعت ادھر بھی نہ جا رہی ہو تو کھانا پکائیے۔ اپنی پسند کی چیزیں پکانے کے تجربے کیجئے، نئی نئی چیزیں پکائیے اور شوق سے کھائیے۔

یہاں مغرب میں ایک اور مشغلہ ہے جسے یہ لوگ ڈی آئی وائی کہتے ہیں، گھر کی دیواروں کو پوتنا، نیا وال پیپر لگانا، دروازوں کھڑکیوں کو پینٹ کرنا، ٹوٹے پھوٹے کھلونوں سے لے کر بڑے فرنیچر تک ان سب کی مرمت کرنا، یہ سب خود کو مصروف رکھنے کے حربے ہیں، انہیں اختیار کیجئے۔ بس ایک کام ہرگز نہ کیجئے، ادھر سے آئے کچھ کھا لیا، اُدھر سے آئے کچھ کھا لیا۔ بیکاری کی سب سے بڑی بیماری یہی ہوتی ہے۔ مشتاق احمد یوسفی کہہ گئے ہیں کہ بندوق سے نکلی ہوئی گولی اور بدن سے نکلی ہوئی توند کبھی واپس نہیں آتی۔ گُڈ لگ۔

[pullquote]بشکریہ جنگ نیوز[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے