گلگت کے ایک تحصیلدار سے معمولی تلخ کلامی اور دخل اندازی کا ایک واقعہ چندروز قبل پیش آیا جس میں سوشل میڈیا نے تحصیلدار کے عمل کو صحافتی امور میں مداخلت قرار دیکر ایک مہم چلائی ۔ میرا موبائل مجھ کو ملے چند گھنٹے ہوئے تھے کہ غذر کے ہر دلعزیز صحافی راجہ عادل غیاث کی کال آگئی ۔ صحت خیریت دریافت کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ صحافت کا چھوٹا سا قبیلہ ہے ، اگر ہم بھی ایک دوسرے کی بھی خبر نہیں رکھیںگے تو ہماری خبر رکھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ عید کے دوسرے روز آنکھوں کو یقین نہیں آیا کہ راجہ عادل غیاث جیسا ہنس مکھ چہرہ اور مسکراتی آنکھیں دل کا دورہ پڑنے سے ہمیشہ کے لئے بند ہوگئی ہیں۔ یہ خبر ان چند خطرناک خبروں میں سے ایک تھی جس کی تصدیق سے قبل اس کی تردید کی تلاش کی لیکن راجہ عادل غیاث داعی اجل کو لبیک کہہ گیا تھا۔ قتیل شفائی مرحوم کیا خوب کہہ گئے کہ
اب تو بیداد پہ بیداد کرے گی دنیا
ہم نہ ہوںگے تو ہمیںیاد کرے گی دنیا
زندگی بھاگ چلی موت کے دروازے سے
اب قفس کون سا ایجاد کرے گی دنیا
راجہ عادل غیاث صحافت کے قبیلے کا چمکتا ستارہ اور مسکراتاچہرہ تھا جو اب ہم میں نہیں رہا۔ میرے کانوں میں راجہ عادل غیاث کے وہی الفاظ گونج رہے ہیں کہ اس چھوٹے سے قبیلے میں ہم بھی ایک دوسرے کی خبر نہیں رکھیں گے تو ہماری خبر کون رکھے گا ، افسوس ہم کسی قیمت پر انہیں واپس نہیں لا سکتے ہیں۔ راجہ صاحب کا صحافتی کیریئر سالوں نہیں بلکہ دہائیوں پر مشتمل تھا ان کی رحلت کی خبر کے ساتھ ہی میں نے حکومتی عہدیداروں کی وہ روایتی خبر تلاش کرنا شروع کردیا کہ مرحوم کے خدمات کے عوض ان کے بیٹے یا بھائی کو فلاں اعزاز یا سرکاری نوکری دی جائے گی لیکن کسی اخبار کے گوشے یا سوشل میڈیا کے کونے میں ایسی خبر نہیں تھی کیونکہ راجہ عادل غیاث ایک صحافی تھا، جن کی نہ کوئی جاب سیکیورٹی ہے اور نہ ہی معاوضہ کا موثر نظام ہے ۔ راجہ عادل غیاث عید سے تین روز قبل لاک ڈاﺅن کے متاثرین کے لئے امدادی سامان لیکر غذر کے بالائی علاقے گئے تھے جہاں پر ان کے ہمراہ غذر کے سینئر صحافی اور روزنامہ اوصاف کے بیوروچیف غذر دردانہ شیر بھی موجود تھے، عید کے دوسرے روز راجہ عادل غیاث دل کے خطرناک دورہ کا شکار ہوگئے جبکہ دردانہ شیر پر کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آگیا ۔ راجہ عادل غیاث کا ابھی تک کرونا ٹیسٹ رزلٹ جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم بعض اطلاعات کے مطابق انہوں نے آخری روز ایک قریبی دوست سے اس بات کااظہار کیا تھا کہ ان پر کرونا کے آثار ظاہر ہوچکے ہیں۔ ملک بھر میں صحافیوں کو فرنٹ لائن فائٹر قرار دیکر اس ناگہانی آفت میں گرفتار ہونے والوں کے لئے ایک پیکج کا اعلان کردیا گیا ہے جو کہ نعم البدل تو نہیں لیکن ایک امداد ضرور ہے اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے زبانی طور پر اس کا اعلان کردیا تھا کہ جو پیکج ملک بھر میں رائج ہے وہی پیکج گلگت بلتستان کے صحافیوں کو بھی دیا جائیگا۔ امید ہے وزیراعلیٰ اپنے اعلان اور زبان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
گزشتہ عید اپنی نوعیت کا عجیب عید بھی تھا اور گلگت بلتستان کے لئے انتہائی افسردہ بھی ۔ کرونا وائرس کی موجودگی میں عید منانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ، ہر گھڑی منڈلاتے خطرے سے جیسے بھی گزرے گزرے ۔ عید سے قبل رمضان المبارک کے دوران محلہ کھر میں ایک ہی گھر سے دو میتیں اٹھی، جن میں سے ایک کا کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا ، ایک گھر کے لئے دو میتیں کسی آفت سے کم نہیں ہیں۔مذکورہ گھرانہ ابھی تک اس زہنی ازیت سے باہر نہیں نکل سکا ہے ، انہوں نے دوسرے واقعہ پر ڈاکٹروں پر غفلت کا الزام بھی لگایا ہے جس پر لواحقین کو اعتماد میں لینا اور مطمئن کرنا لازمی ہے تاہم کرونا وائرس کے حوالے سے اگر کوئی بھی اپنی عقل استعمال کرکے کسی بھی قسم کا نظریہ اور رائے قائم کررہا ہے تو یہ بیوقوفی ہوگی ۔
عید سے قبل ضلع غذر سے آنے والی گاڑی بے قابو ہوکر ہینزل کے مقام پر دریا کے بے رحم موجوں کی نذر ہوگئی ۔ اس بدقسمت کار میں 7افراد شریک تھے جن میں سے صرف ایک کو زخمی حالت میں نکال لیا گیا جبکہ 6 افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ میت کی تلاش میں افرادی قوت نہ ہونے اور متعلقہ محکمے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے تاخیر ہوگئی تاہم اس کے باوجود بھی چار میتیں مل گئی جبکہ حادثے کا شکار ہونے والے میاں بیوی کی میتیں تاحال نہیں ملی ہیں۔
عید کے روز ہی نلتر میں ایک المناک واقعہ پیش آگیا جس میں دو فریقین نے معمولی سی بات پر فائرنگ شروع کردی نتیجے میں دو افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ، ابھی صبر کا درس دینے والا رمضان کا مہینہ ختم ہوکر اسی صبر کے سبق پر عید منائی جارہی تھی کہ چھوٹی سی بات پر دو انسانی جانوں کو سفر آخرت پر روانہ کردیا۔ اس واقعہ کا ایک خطرناک پہلو فرقہ وارانہ ہے ، واقعہ کی اطلاع ملتے ہوئے فرقہ وارانہ مواد سے سوشل میڈیا بھر گیا تاہم تنظیم اہلسنت والجماعت گلگت بلتستان اور انجمن امامیہ گلگت بلتستان کی بصیرت کے باعث فرقہ وارانہ آگ مزید بھڑک نہ سکی اور محدود ہوگئی ۔
گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کی وباءنے اپنا جال بچھالیا ہے جس کا مرکز ضلع گلگت ہے ۔ گزشتہ تین مہینوں سے ایک طرف صحتیابی کا عمل تیزی سے جاری ہے وہی پر نئے کیسز بھی مسلسل سامنے آرہے ہیں۔قرنطینہ مراکز کی ایڈوانس بکنگ ہورہی ہے ، ایک مریض کے صحتیاب ہونے سے قبل ہی دوسرے مریض کو داخل کردیا جاتا ہے ۔ اب تک گلگت بلتستان میں سامنے آنے 711کیسز میں سے 253 کیسز کا تعلق ضلع گلگت سے ہے ۔ اس وقت کے کل ایکٹو 204 کیسز میں سے 109 کا تعلق ضلع گلگت سے ہے اور کل 11اموات میں سے پانچ اموات کا تعلق بھی ضلع گلگت سے ہے۔ضلع گلگت کی ناگفتہ بہہ حالت میں حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ رمضان المبار ک کے دوران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن سے لاک ڈاﺅن میں نرمی کے منفی نتائج پر سوال کیا تو سوال کو گول کرگئے حالانکہ اس وقت گلگت میں کیسز ابھی دوسرے فگر میں داخل ہورہے تھے لیکن ہماری بدقسمتی کہ رواں سال صوبائی حکومت کا آخری سال ہے جس کے لئے ایک مہینے کی مدت بھی نہیں بچی ہے اسی وجہ سے ترجیحات تبدیل ہوگئیں ہیں ۔ ضلعی انتظامیہ سے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کااظہار کیا تو انہوں نے بے بسی کااظہار کردیا لیکن بعد ازاں عوامی مطالبے پر انہوں نے داخلی دروازوں کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے جو کہ خوش آئند ہے کیونکہ گلگت کو آگ میں دہکتا چھوڑ کر کسی بھی دوسرے ضلع کو محفوظ تصور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے کہ بین الاضلاعی داخلے پر پابندی عائد ہوگی اور ضروری امور سے آنے والے اپنے ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے اجازت نامہ لیکر آجائیں لیکن اس پر ابھی تک من و عن عملدرآمد نہیں ہوسکا ہے تاہم توقع ہے کہ بہت جلد گلگت کو لاک ڈاﺅن کرکے کرونا کو تنہا کیاجائیگا۔