وزیر اعظم کا احساس پروگرام

عمران خان جب وزیر اعظم بنے تو سعودی شاہ محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر آئے، محمد بن سلمان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، ایک محفل لگی جس میں سبھی لوگ بیٹھے تھے، بات چیت جاری تھی کہ عمران خان سیٹ سے اٹھے اور گفتگو شروع کر دی، گفتگو کسی اور کے بارے میں نہیں بلکہ ان لوگوں کے بارے میں تھی جو پردیسی تھے ،شاید یہ پہلا موقع تھا جب کسی حکمران نے سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا درد دل سعودی شاہ کے سامنے رکھا، عمران خان نے محمد بن سلمان کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کے ملک میں جو لوگ مزدوری کرنے گئے ہیں وہ لوگ میرے دل کے بہت قریب ہیں، میرے ملک کے لوگ آپ کے ملک کی جیلوں میں ہیں، آپ انہیں رہا کر دیں، یہ عام لوگ ہیں، آپ کا یہ احسان ہو گا،

عمران خان کی اس اپیل کے بعد سعودی شاہ نے کہا میں سعودیہ میں آپ کا سفیر ہوں، آپ بے غم رہیے،وہ لوگ آپ کے ہی میرے بھی دل کے قریب ہیں، میں انکے مسائل حل کرونگا، سعودی شاہ کے ملک پہنچنے سے پہلے کئی قیدی رہا کر دیے گئے،یہ عمران خان تھے جنہوں نے ایک عام آدمی کا درد محسوس کیا، عام لوگ خاص لوگوں کے تذکرے ویسے بھی کرتے ہیں لیکن یہ وہ خاص تھا جس نے باشاہوں کی محفل میں گفتگو کی تو وہ بھی عام لوگوں کے بارے میں، یہ ہو سکتا تھا کہ لوگ کھانے کھاتے اور چلے جاتے لیکن عمران خان نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنا درد دل سعودی شاہ کے سامنے رکھا،

حالیہ وبا کو ہی دیکھ لیں،

جب کرونا وبا پھیلی تو اس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لیا، کل جہاں اس سے متاثر ہوا، شہر بند ہوئے اور لوگ گھروں میں نظر بند ہو گئے، جو جہاں تھا وہ وہیں رک گیا، کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو گیا ہے، اس وبا کا حل کیا ہے؟

مسیحاوں نے وقتی حل یہ نکالا کہ لاک ڈاون کیا جائے، دنیا لاک ڈاون کی طرف گئی، ترقی یافتہ ممالک نے خوشی سے اس فیصلے کو قبول کیا لیکن پسماندہ ممالک کے حکمران پریشانی کا شکار تھے، عمران خان لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانا چاہتے تھے، انہوں نے کہا اس سے عام آدمی متاثر ہو گا، جب تک ان کا حل نہیں نکالا جاتا تب تک لاک ڈاؤن فائدہ مند نہیں ہو گا ، لوگ وبا سے بچ بھی گئے تو بھوک سے مر جائینگے،

ہم نے لوگوں کو بھوک سے بچانا ہے،

عمران خان نے عام لوگوں کی بھوک سے بچانے کے لیے احساس پروگرام شروع کیا، احساس پروگرام کیا ہے ؟ یہی کہ لوگوں کو یہ آسرا دیا جائے کہ کوئی آپ کی خبر لینے والا ہے،

احساس پروگرام کا طریقہ انتہائی آسان رکھا گیا، آپ گھر بیٹھے 8171پر اپنا شناختی کارڈ نمبر ایس ایم ایس کر کے اندراج کروائیں ،پھر ایک پیغام موصول ہو گا جس میں رقم وصول کرنے اور دیگر طریقہ کار کا بتایا جائے گا، ایک میسج کے ذریعے آپ کا معاملہ حل ہو جائے گا،

جن لوگوں کے شناخت نہیں ہو پاتی انہیں میسج کے ذریعے ہی یہ پیغام بجھوایا جاتا ہے کہ آپ ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتے ہیں، احساس پروگرام کی ہیلپ لائن پر کال کے لئے درج ذیل نمبر0800-26477 بھی بتایا جاتا ہے ،لوگ انتظامیہ کے ذریعے اپنی شناخت کروا کے اپنا معاملہ حل کر سکتے ہیں اور احساس پروگرام کے ذریعے پیسے لے سکتے ہیں ۔

تیسرا طریقہ ان لوگوں لیے رکھا گیا جو کرونا سے بے روزگار ہوئے ایسے لوگوں کے لئے ویب سائٹ کا اجرا کیا گیا جہاں وہ اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروا کر رقم وصول کر سکتے ہیں۔احساس راشن پورٹل کا بھی اجرا کر دیا گیا جس میں مختلف تنظیموں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر مستحق افراد تک راشن پہنچایا جا رہا ہے۔

یہ عام سادہ سا طریقہ ہے جسے ایک دیہاتی بھی سمجھ سکتا ہے،

عمران خان نے اعلان ہی نہیں کیا بلکہ اس کام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قدم بھی اٹھائے،

اب تک احساس پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت کل 93 ارب 65 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد رقم 76 لاکھ 82 ہزار سے زائد افراد میں تقسیم کی جا چکی ہے۔ اور یہ رقم چاروں صوبوں میں ایک ہی طرح سے تقسیم کی جا رہی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ آزاد کشمیر میں ایک ارب ستاون کروڑ سے زائد لوگوں میں تقسیم کی جا چکی ہے

بارہ ہزار کی یہ رقم لوگوں کو کم لگتی ہو گی مگر پسماندہ ممالک میں عام آدمی کے لیے یہ رقم کسی نعمت سے کم نہیں، عام لوگ یہ رقم لیکر بھی خوش ہیں، انکی آنکھوں میں خوشی کا احساس جھلکتا ہے، وہ عمران خان کو دعائیں دیتے ہیں،

اس پروگرام کی سب سے اہم بات جسے میرے خیال میں میڈیا سمیت بہت سے لوگوں نے نظر انداز کیا ، وہ ہے اس پروگرام میں شفافیت ، احساس پروگرام کو مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ رکھا گیا ہے . کئی لوگ اس پروگرام میں درخواست نہیں دے رہے تھے کیونکہ وہ سوچتے تھے کہ ان کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق بھی نہیں اور ان کی کوئی سفارش بھی نہیں ، پیسے ملیں گے نہیں ، اس لیے میسج کرنا محض وقت کا ضیاع ہے . تاہم جب انہوں نے اپنے اڑوس پڑوس میں ایسے لوگوں کو دیکھا جو غریب تھے ، ان کی بھی کوئی سفارش یا جان پہچان نہیں تھی . نہ ہی ان کے سیاسی تعلقات تھے . تاہم صرف ایک میسج پر تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں بلا کر 12 ہزار روپے دیے گئے تو لوگوں کو پروگرام کی شفافیت کا یقین ہوا . احساس پروگرام پر عوام کے اعتماد کی واحد وجہ اس کی شفافیت ہے . اس شفافیت کی وجہ سے ہی اب تک اپوزیشن جماعتوں کو بھی اسے سراہنا پڑا

عمران خان نے جو پروگرام شروع کیا ہے، اس میں عام لوگوں کو ایک تسلی ضرور ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی انکی خبر لینے والا بھی ہے، یہ احساس بھی کافی ہے، اللہ کرے کرونا ختم ہو اور لوگوں کا سلسلہ رزق بحال ہو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے