زندہ قوم

“پاپا ماما کے لئے دوائیں ضرور کارگو کر دیجیئے گا۔ یہاں تو شارٹ ہو گی بلیک میں بھی نہیں مل رہی ” فون بند کرتے کرتے پھر میری بیٹی نے مجھے تاکید کی اور میں سوچ رہا تھا کب اس وباء سے جان چھوٹے تو میں اپنی فیملی کو بھی یہیں بلا لوں ۔ کیا فائدہ ایسے ملک میں رہنے کا جہاں اتنے سال محنت کرکے بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔ اور یہاں حکومت کے پروگرام کے تحت لگائے گئے ڈیری فارم اور دیسی مرغی پولٹری فارم میں مزدوری کرکے اپنے بچوں کو خوشحال زندگی دے پا رہا ہوں۔

اور ایک یہ ملک ہے کہ چند سالوں میں ہی اس ملک کی کایا پلٹ گئی۔ سچ ہے نیک حکمران ہو تو ایسے ہی رحمت برستی ہے ملک پہ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ یہ ملک دہشتگردی اور کرپشن سے اٹا ہوا تھا اور آج اس کا روپیہ پوری دنیا کی اکانومی ڈیزائن کرتا ہے۔ اور ہم جیسے لاکھوں لوگوں کو یہاں باعزت روزگار فراہم کر رہا ہے۔ بس بیوی بچے بھی یہیں آ جائیں تو انکی تعلیم اور میڈیکل کی طرف سے بھی بےفکری ہو جائے گی۔

یہی کچھ سوچتا ہوا میں قریبی میڈیکل سٹور گیا اپنی بیوی کی دوائیاں مہینے بھر کے حساب سے پیک کروائیں اور دو سو سو کے نوٹ بڑھائے تو کیشیئر نے 50کا نوٹ واپس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی طرف سے وباء کے باعث دوائیں اور سستی کر دی گئیں اور سٹاک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی مریض کو پریشانی نہ ہو۔ اور میں یہ سوچتا باہر آگیا ہے اپنے ملک میں ہوتا تو یہی دوائیں ہزاروں ڈالرز کی ملتیں اور پھر ان کے نقلی ہونے کا خدشہ الگ ہوتا ہے۔ اور یہاں ہر چیز خالص اور وافر مقدار میں موجود۔

انھی سوچوں میں غلطاں میں فلنگ سٹیشن پہنچا۔ فیول ٹینک فل کروا کے وہی 50کا نوٹ لڑکے کی طرف بڑھایا تو اس نے 11 روپے 25پیسے واپس کئے۔ اور بتایا کہ کل رات سے تیل کی قیمت مزید کم ہو گئی ہے۔ دل میں اس ملک اور اسکی حکومت کے احترام میں مزید کچھ اضافہ محسوس کرتے ہوئے میں نے گاڑی گارگو آفس کے باہر پارک کی اور ڈس انفیکٹڈ گیٹ سے گزر کر اندر چلا گیا پیکٹ آفس کے حوالے کرکے ویسٹرن یونین کی طرف آگیا تاکہ ماہانہ خرچ بھی گھر بھیج سکوں۔

ذہن میں یہی خیال تھا یہ ملک بھی تو وبا سے نمٹ رہا ہے کیسے اس کے ٹک ٹاکرز نے آگاہی پھیلائی کیسے اسکی ٹائیگر فورس سڑک پار کرنے سے لے کر ٹڈی دل اور وائرس تک سے نمٹنے کے لیے فرنٹ لائن پہ موجود، تمام کاروبار کھلا معشیت اتنے برے حالات میں بھی عروج پہ اور ایک ہمارا ملک ہے کہنے کو سپرپاور اور لوگوں کی جانیں نہیں بچا سکا اسے حکمت عملی ہی نہیں بنانی آئی کہ سمارٹلی اس وبا سے نمٹتے۔

“ڈیوڈ اس مرتبہ پیسے زیادہ بھیجنا تاکہ میں غریب گھروں میں گروسری بھجوا سکوں ویسے بھی بچے گھر بیٹھے ہیں تو انکی فرمائیشیں بھی پوری کرنی ہوتی ہیں۔”

بیوی کی ہدایت یاد آتے ہی میں نے معمول سے زیادہ رقم 400روپے نکالے اور ویسٹرن یونین والے تھما دیئے۔ گلوز والے ہاتھوں سے سرخ سرخ نوٹ پکڑتے ہوئے ماسک کی ذریعے تھینک یو کی مسکراتی ہوئی آواز میں سماعتوں سے ٹکرائی۔

اسکی مسکراتی آنکھیں دیکھ کر اندر کہیں مجھے کچھ شرمندگی سی محسوس ہوئی کہ ہم گوروں نے اس ملک پہ دو سو سال اتنا ظلم کیا۔ ہمارے آباء و اجداد نے اس قوم کو غلام بنائے رکھا۔ ان کے کچھ غداروں کو بڑی بڑی جاگیریں دے کر خرید لیا۔امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کرنے کی سازش کرکے چلتے بنے۔ اورایک یہ ہیں ایک اچھا لیڈر ملنے کی دیر ہے کہ یہ قوم کہاں سے کہاں پہنچ گئ اب ہم انکے ملک نوکریاں ڈھونڈنے آتے ہیں اور یہ آج بھی ہمیں خوشدلی اور کھلے دل سے اپنے ملک میں پال رہے ہیں کاش اور کچھ نہیں تو وباء کے دنوں میں ہی اس ملک کا ماڈل میرے حکمرانوں نے کاپی کر لیا ہوتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے