ڈالڈا اور کرونا یہودیوں کی سازش ہےِ

یہ 60 کی دہائی کی بات ہے ۔ مانسہرہ بازار کی اکلوتی سڑک پر بیڈ فورڈ کے دو ٹرک کھڑے تھے ۔ بازار میں کام کرنے والے کچھ دکاندار ان ٹرکوں کے ارد گرد پینٹ اور شرٹ میں ملبوس اہلکاروں سے مصروف گفتگو تھے ۔ مارکیٹ کا صدر اونچی نیچی آواز میں ٹرک والوں کے ساتھ کچھ مزاکرات کر رہا تھا ۔ اس زمانے صبح تڑکے لوگ جاگ جایا کرتے تھے اور بلعموم سبزی یا گوشت خریدنے بازار نکل کھڑے ہوتے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ رش نہیں ہوتا تھا ۔

بہر حال ٹرکوں کی کہانی آہستہ آہستہ بازار سے ہوتی ہوئی گھروں تک بھی پہنچ گئی ۔ جتنے منہ اتنی باتیں ۔ ہر کوئی اپنی محدود اور سنی سنائی بات کے مطابق ٹرکوں بارے اپنا تجزیہ دینے میں مصروف تھا۔ سب سے معروف کہانی یہ تھی کہ ٹرکوں میں لدا سامان مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی سازش ہے۔ اگر یہ استعمال کیا گیا تو ہمارے مرد و خواتین اولاد پیدا کرنے سے قاصر ہو جائیں گے۔ اور مسلمانوں کی نسل خطرے میں پڑ جائے گی۔ یہاں پہنچ کر لالہ جاوید نے دو انگلیوں میں پکڑی سگریٹ کو ہاتھ کی مٹھی بنا کر سوٹا لگایا اور مجھ سے پوچھا کہ تم تو جدید زمانے کے لڑکے ہو۔ زرا بتاؤ کہ ہمارے ملک کی آبادی کتنی ہے ۔ میں نے کہا ۔ لالہ آبادی تقریبا 14 سے 16 کروڑ ہے ۔ ( یہ سن دو ہزار کی گفتگو ہے)

لالہ جاوید نے مجھے آنکھ ماری اور کہا کہ شکر ہے یہودیوں نے سازش کی۔ ورنہ ہماری آبادی 32 کروڑ ہونی تھی ۔ میں نے کہا کہ لالہ ٹرکوں میں کیا سامان تھا؟ لالے نے قہقہہ لگایا اور بولا – "ڈالڈے کے ڈبے” ۔۔۔۔۔

لالہ جاوید کی سپئر پارٹس کی دکان تھی ۔ اس نے بتایا کہ دو مہینے یہاں ٹرک کھڑے رہے ۔ اور مفت میں ڈالڈے کے ٹین آفر کرتے لیکن کوئی بھی لینے کو تیار نہ تھا۔ دو چار مولویوں نے ڈالڈے کے استعمال کو دینی غیرت کے منافی قرار دیا اور کہا کہ اس سے بے حیائی پھیلنے کے امکانات ہیں۔ سو ڈر کے مارے ٹرکوں کے نزدیک کوئی نہیں جاتا تھا۔ بہر حال ایک وقت آیا کہ ڈالڈا گھر گھر استعمال ہونے لگا ۔ لیکن آبادی بڑھتی گئی ۔ بادی النظر میں لگا کہ جیسے یہ واقعی یہودیوں کی سازش ہے کیونکہ کم وسائل پر آبادی کا بوجھ ملک کو تباہ کرنے کے لئے کافی تھا ۔

دسمبر 2019 کے اوائل میں چائنا میں مقیم میری بہن کی زبانی پتہ چلا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے وہ اپنے گھروں میں ہی مقید ہیں ۔ ہفتے میں صرف ایک مرتبہ ضروریات زندگی لینے کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت ہے ۔ وہ بھی صرف ایک فرد کو۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کرونا کے بارے متضاد خبریں آنی شروع ہوئیں ۔ سوشل میڈیا بھانت بھانت کی خبروں کی آماجگا ہ بن گیا –پاکستان میں سب سے اولین طبقہ جس نے وائرس پر اپنے یو ٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا کے صفحات پر پراپیگنڈہ شروع کیا وہ مذہبی نمائندے تھے ۔ جن کا کہنا تھا کہ کرونا ، چائنا پر اللہ کا عذاب ہے ۔ کیونکہ وہ ہر حرام چیز کھاتے ہیں ۔ آغاز کے دنوں میں یہی مشہور تھا کہ ووہان میں چمگادڑ کھانے سے کرونا پھیلا۔

پھر عالمی سطح پر چائنا اور امریکہ کے آپسی متنازعہ بتانات سے یہ تعبیر نکالی گئی کہ کرونا کا وائرس امریکہ نے تیار کر کے چائنا میں پھیلا دیا ۔ جب کہ کچھ کے متضاد خیالات تھے۔ بات آگے بڑھی اور وائرس نے دھیرے دھیرے یورپ اور امریکہ کے بعد مسلمان ملکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا۔ مسلمانوں کی عبادت کے دو بڑے مراکز ، بیت اللہ اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بند کر دیا گیا ۔ پاکستان میں فروری کے آغاز میں کرونا کے مریض آنا شروع ہوئے۔ حرام کھانے والی تھیوری مقبولیت کے بعد ختم ہو گئی۔ اور سوشل میڈیا پر نئی سازشی تھیوریوں اور جھوٹی خبروں نے ڈیرے ڈالنے شروع کیے ۔ ان خبروں میں مقبول ترین افواہ یہ تھی کہ حکومت جان بوجھ کر دیگر امراض کے لوگوں کو بھی کرونا متاثر ڈکلئیر کر رہی ہے تا کہ وبا کے نام پر دنیا کے امدادی اداروں سے پیسے حاصل کئے جا سکیں ۔ اس مقصد کے لئے مریضوں کو زہر کا ٹیکا لگایا جا رہا ہے ۔ اگرچہ Myths اور حقائق کے لئے کئی مضامین درکار ہیں ۔ لیکن اختصار کے ساتھ معاملہ کچھ ایسا ہے

افواہ : حکومت کو ایک لاش کے بدلے 3 سے 10 ہزار ڈالر مل رہے ہیں –
حقیقت: وائرس نے اس وقت پوری دنیا کو لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ اور ترقی یافتہ ممالک بھی مالی لحاظ سے بحران کا شکار ہیں ۔ اس وقت ایسی امید رکھنا بھی عبث ہے ۔

افواہ : مذہبی طبقے نے اس کو یہودیوں کی ایک سازش قرار دیا تا کہ مساجد کو خالی کرایا جائے ۔
حقیقت:کرونا سے دنیا بھر میں ہر مذہب کے لوگ متاثر ہوئے ۔ مندر ، مسجد ، گرجا گھر اور سیناگوگ سمیت تمام مذہبی ، سماجی اور سیاحتی مقامات کو بند کر دیا گیا۔

افواہ : یہ وائرس بل گیٹس نے بنا کر پھیلایا ہے اور ا س کے پاس اس کی ویکسین ہے جو وہ مہنگے داموں بیچ کر پیسہ کمائے گا۔ اور یہ کہ بل گیٹس ایک چپ تیار کر رہا ہے ۔ جو انسانی جسم میں فکس کی جائے گی ۔ اور وائرس کے بہانے وہ مسلمانوں کی حرکت و سکنات کو مانیٹر کریں گے –
حقیقت: بل گیٹس کو ایک نیا وائرس پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بچوں کے حفاطتی ٹیکوں سے لے کر ملیریا ، ہیپا ٹائٹس ، پولیو اور دیگر متعددی بیماریوں کی فنڈنگ بل گیٹس کی فاؤنڈیشن کرتی ہے ۔ اگر ایسے مقاصد ہوتے – تو وہ دیگر ویکسین سے پورے کئے جا سکتے تھے۔

افواہ : وائرس سے صرف بوڑھے مرتے ہیں جب کہ جوان اور بچے زندہ رہتے ہیں اور وائرس سے گھبرانا نہیں یہ ایک فلو ہے ۔
حقیقت: وائرس کے پھیلنے سے واضح ہو گیا کہ یہ کوئی فلو نہیں ہے ۔ بلکہ ایک ایسا وائرس ہے جو ایک دن میں انسان کو موت کی دہلیز پر پہنچا دیتا ہے ۔ اور پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو اس نے مضبوط اور صحت مند نوجوانوں کی زندگیاں نگل لیں ۔

افواہ : وائرس گپ شپ ہے ۔ بس نماز پڑھو ،وائرس ختم ہو جائے گا ۔
حقیقت: وائرس سے بڑی تعداد میں مذہبی افراد بھی متاثر ہوئے ۔ ایسے لوگ جنہوں نے ساری زندگی تکبیر اولی بھی قضا نہیں کی ۔ ان کی اموات طاہر کرتی ہیں ۔ کہ وائرس کا نماز سے کوئی تعلق نہین ہے ۔

افواہ :اسی طرح مختلف ہربل ادویات جیسا کہ ادرک ۔ سنا مکھی ، لہسن اور پیاز وغیرہ کے ٹوٹکے بتائے گئے کہ ان کے کھانے کے بعد کرونا اثر ہی نہیں کرے گا۔
حقیقت: تاحال ایسی ویکسین یا ادویات دستیاب نہیں جس سے کرونا کا علاج ہو سکے ۔ یہ اشیاء عمومی طور پر صحت کے لئے اچھی ہوں گی ۔ لیکن خاص کرونا کا علاج ہیں ۔ ایسی شہادت موجود نہیں۔ بلکہ سنا مکھی کے استعمال سے کئی لوگوں کو ڈائیریا ہوا ۔ جس سے ان کی حالت مزید خراب ہو گئی ۔

افواہ :کرونا دنیا میں ہر شخص کو ہونا ہے – کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا ۔ اور یہ کہ جس کو کرونا کی علامات ظاہر نہ ہوں ۔ اس سے وائرس منتقل نہیں ہوتا۔
حقیقت: ابھی تک کے اعداد و شمار کے مطابق اکیاسی لاکھ لوگ کووڈ پازیٹو ہیں ۔ جب کہ دنیا کی آبادی سات ارب لگ بھگ ہے ۔ دنیا میں گزشتہ صدی میں ایسا کوئی بھی وائرس نہیں آیا جس نے ساری دنیا کو متاثر کیا ہو۔ جب کہ ابھی تک کوئی مصدقہ تحقیق سامنے نہیں آئی کہ علامات نہ ہونے والے فرد سے دوسرے فرد کو وائرس منتقل نہیں ہوتا۔

الغرض سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں اور سازشی تھیوریوں کی ایک یلغار جاری ہے۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا کے ڈیڑھ لاکھ کے قریب کیس کنفرم ہو چکے ہیں ۔ اور اموات تین ہزار کے قریب قریب پہنچ چکی ہیں ۔ 20مئی کو لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ایک لاکھ کیس کنفرم ہوئے ۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ اسد عمر نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں خبردار کیا – کہ جون کے آخر تک کیسز کی تعداد تین لاکھ جب کہ جولائی کے آخر تک 12 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے ۔ اگست تک کیسز کا تخمینہ بیس لاکھ تک لگایا گیا ہے ۔

یہ اعداد و شمار الارمنگ ہیں ۔ حکومت اپنے تئیں اقدامات کر رہی ہے ۔ لیکن ابلاغ اور پیغام رسانی کے حوالے سے میڈیا ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور ٹیلی کام کی آگہی مہمات کے باوجود ابھی تک ”وائرس کی حقیقت اور اثرات” سے متعلق عوام میں موجود خدشات اور افواہوں کا خاتمہ نہیں کر سکی ۔ اور اس کی وجہ خود سیاستدانوں کے بیانات ، نیشنل میڈیا پر سازشی تھیوریا ں جوڑنے والے افراد کے پروگرام اور مذہبی طبقے کی طرف سے وائرس کے بارے غیر سنجیدہ طرز عمل ہے۔ اپنے بارے میں خود سوچیں ۔ کیونکہ سوچ و فکر ہی بچاؤ کے راستے نکال سکتی ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے