کیا ہم کرونا کے ساتھ بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟؟

ماشا اللہ سے کرونا اب سال بھر کا ہونے لگا ہے، اب تو پاؤں پاؤں چلنے بھی لگا ہے، یوں ہی عمر عزیز کے مدارج طے کرتے کرتے ایک دن جوان بھی ہو جائے گا۔اب یہ مان لینے ہی میں ہم سب کی عافیت ہے کہ کرونا صاحب ایک مہلک مرض اور وبائی بیماری ہوتے ہوئے بھی ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔کرونا کو ڈیل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اسے بیماری سمجھا جائے، اس کے خوف سے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے موت کا انتظار کیا جائے، وقت مقررہ سے پہلے ہی سارا خون خشک کر بیٹھیں اور مردہ قسم کے زندوں میں شامل ہو جائیں، آدھی آمدن سے ماسک اور باقی سے سینی ٹائزرز خرید کر کے نفسیاتی مریضوں کی طرح اوھام کے شکار ہو جائیں اور اگر ان ٹوٹکوں سے جان بچ بھی گئی تو باقی کی زندگی کسی مینٹل ہسپتال میں ڈاکٹرز یہ باور کراتے رہیں گے کہ جناب! آپ صحتمند ہیں، آپ ٹھیک ہیں، آپ معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ لیکن تب ہم یہ ماننے کی پوزیشن میں شاید نہ ہوں گے۔

کرونا صاحب کو ڈیل کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اسے بیماری اور وبا ہوتے ہوئے بھی لائف سٹائل بنا لیا جائے، اسے اپنا محسن سمجھا جائے، اسے اپنے خاندان کا ذی وقار بزرگ تسلیم کر لیا جائے اور جو یہ کہے اسے مان لیا جائے۔ اس کی مثال کرونا سے سو گنا مہلک مرض ذیابطیس سے دی جا سکتی ہے۔ جن لوگوں نے ذیابطیس کو بیماری مانا، وقت سے پہلے پہلے مر گئے اور باقی کی رسمی کارروائی عزرائیل نے کئی سال بعد پوری کی۔ اسی طرح زیابطیس کے بےشمار مریض ایسے ہیں جنہوں نے زیابطیس کو اپنا لائف سٹال بنا لیا، وہ ہشاش بشاش اور خوش وخرم زندگی گزار رہے ہیں بلکہ بہت سے تو پھیکے لوگوں سے بھی زیادہ صحتمند زندگی گزار رہے ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو شوگر کی کہی ہر بات کو بیگم کا حکم بجا لانے سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، نتیجہ یہ کہ انہیں شوگر کچھ نہیں کہتی۔

اور پھر یہ بیچاری کہتی بھی کیا ہے، صرف یہ کہ صبح شام اچھی چہل قدمی کرو، ہفتے میں ایک دن ہائیکنگ کرو، ڈھور ڈنگروں کی طرح ہر کھانے کو آخری سمجھ کر مت کھاؤ، زندگی کو ایک شیڈول کے تابع کرو، چائے کو چائے سمجھ کر پیو نہ یہ کہ پیالی میں چمچ کھڑا کرنے کا تماشہ اور اسی طرح کی دیگر چھوٹی موٹی ہدایات شوگر کی طرف سے ملتی ہیں، انہیں مان لیا جائے تو شوگر بہترین لائف پارٹنر ثابت ہوتی ہے۔

ایسا ہی حا کچھ کرونا صاحب کا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ کرونا ایک مہلک وبائی مرض ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عزت مآب حکومت پاکستان اد وبا پر قابو پا لے گی اور تمام تر نافرمانیوں کے باوجود وزیر سائنس کے کسی کرشمے سے ہم اس وبا سے بچ جائیں گے۔تو ان حالات میں میری ناقص رائے میں واحد حل یہی ہے کہ ہم کرونا کو لائف سٹا ئل بنا لیں، اسے اپنا محسن اور بزرگ سمجھتے ہوئے اس کے ہر حکم کو بلا چون وچراں تسلیم کر لیں، اور پھر یہ بیچارہ کہتا بھی کیا ہے، بس اتنا ہی کہ ہم تہذیب یافتہ بن جائیں، ہم مہذب قوم بن جائیں، ملی نغموں اور ترانوں سے باہر آ کر عمل کی دنیا میں بھی ایک زندہ قوم بن جائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اچھے مسلمان بن جائیں۔

مثلا کھانستے یا چھینکتے ہوئے تہذیب کے دائرے میں رہیں، دودھ یا دہی لینے جائیں تو راستے میں مداری کے پاس لگے ہجوم میں دودھڑ والا بچہ دیکھنے کے شوق میں سارا دن نہ گزار دیں، ہسپتال، کلینک، شاپنگ مال اور بازاروں میں آپا دھاپی والی کیفیت سے باز آجائیں، ویلے مصروف رات گئے تک گلی کی نکر پر جمع ہو کر آنے جانے والوں کے لیے دردسر نہ بنیں، پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھیں تو یہ نہ لگے کہ بکریوں کا ایک ریوڑ ہے جو ایک دوسرے پر سوار ہے، مناسب اور متوازن غذا کا استعمال کریں، ایک دوسرے کے مونہوں پر تھوک اڑاتے ہوئے بات کرنے کی بجائے کچھ فاصلے سے بات کریں، آلودگی وجراثیم سے بچنے کے لیے ماسک پہنیں، صبح تڑکے سے اٹھیں اور سر شام ہی ڈالر کی تلاش چھوڑ کر بال بچوں کے پاس آجائیں اور پھر کسی آوارگی اور غیر ضروری مٹر گشت کی کوئی گنجائش نہ ہو، ایک دوسرے سے مناسب فاصلہ اختیار کریں تاکہ دوسرا آپ کی دہشت اور ہراسانی سے محفوظ ہو، امن شانتی بنی رہے، مناسب چہل قدمی اور کسرت لازمی ہو، صفائی کا اتنا خیال کہ دن میں بار بار صابن سے ہاتھ دھوئیں، سب سے اہم بات یہ کہ گھروں کو وقت دیں اور بیگمات سے ناروا فاصلوں کو ختم کریں، ازدواجی زندگی کو خوب سے خوب تر بنانے کی ترکیبیں تلاش کریں جس کے لیے کبھی کبھار کھانا بنانا اور برتن دھونا اکسیر ہے۔

قارئین ذی وقار کرونا کہتا ہی کیا ہے بس یہی ناں کہ ہجوم سے بچو، سلیس اردو میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ھجوم کے بجائے قوم بن کر رہو، ایک زندہ اور پائندہ قوم، عمل سے بھر پور قوم۔۔۔۔۔۔کرونا بس اتنا ہی کہتا ہے کہ بدتہذیبی کی گندگی کے ڈھیر پر بیٹھی ہوئی اپنے تئیں سب سے افضل امت چودہ سو سال کے پارینہ سبق کو دوبارہ یاد کر لے۔۔۔۔۔۔یوں کرونا یقینا ہمارا محسن ثابت ہو گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
اپنا خیال رکھیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے