ہماری اقدار و روایات ،کن فیکون ذات اور جاہل عوام

خیبر پختونخواہ کی روایتی سیاست کا محور کوئی بھی سیاسی جماعت رہی ہو-چند گنے چنے واقعات کو چھوڑ کر ہماری اقدار و روایات ہمیشہ ہماری سیاسی چپقلش پر حاوی رہی ہیں- لہذا باچا خان ہوں یا قیوم خان،سردار عبدالرب نشتر ہوں یا حیات شیرپاؤ، فضل حق ہوں یا میر افضل خان بابا حیدر زمان ہوں یا حیدر ہوتی ہماری اقدار و روایات ہمیشہ ہماری سیاست سے مقدم رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ سیاست کو گندے لوگوں کا کھیل ہے کا نعرہ لگانے والے بھی چار و ناچار ہماری سیاسی پاسداری کے معترف رہے ہیں-

لیکن اب نئی پود کی سیاست نئی ڈگر پر چل نکلی ہے اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنے والے سرکاری ملازمین کو حرام خور قرار دینا ہو یا کسی بھی سطح کے اساتذہ کرام کو ہڈ حرام کہنا ہو کسی صحافی کو لفافہ صحافی کہنا ہو یا حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والوں کا تیاپانچہ کرنا ہو کسی پوسٹ کی بنیاد پر کسی کو یوتھیا کہنا ہو یا باپ کی عمر کے کسی سیاسی مخالف کو پٹواری یا ڈیزل کہنا ہو یا پھر کسی کو گستاخ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم یا کافر کہنا ہو یا کسی بھی شخص کی عزت و حرمت کو نقصان پہنچانا ہو سوشل میڈیا کے دانشوروں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے لہذا سیاست نفیس لوگوں کے بس کی بات نہیں شاید یہی تو ہم چاہتے تھے ان سارے مراحل میں حکومت کیا کرے عوام اور خصوصا عوام کو سمجھنا حکومت کے بس کی بات تھوڑی ہے

دوسری جانب ہماری سادہ لوح عوام کو اسلام کے نام پر الو/ بیوقوف بنانے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے سے لیکر عوام کو باجماعت نماز پڑھانے تک ریاست مدینہ کے خواب سے قرآن مجید کے ترجمہ تک سارے گھات اور شکار وہی ہیں حتی کہ شکاری بھی وہی ہیں بس چہرے بدل رہے ہیں

قرآن مجید کو یونیورسٹی کی سطح پر ترجمے کے ساتھ لازمی قرار دینا شاید کچھ لوگوں کی نظر میں احسن اقدام ہوگا لیکن راقم چند خدشات اور تحفظات کا اظہار ضروری سمجھتا ہے- قران مجید کا ترجمہ تفسیر کرنے والی قابل قدر شخصیات کی نیت اور قابلیت پر شک نہیں لیکن کیا مختلف مکاتب فکر کی نظر میں ان کی اہلیت تضادات کا شکار نہیں رہی؟ کیا تمام مکاتب فکر کسی ایک ترجمہ پر اتفاق کرکے اس کو متفقہ طور پر لاگو کریں گے؟اگر اتفاق نہ ہو سکا تو حکومت دیوبندی بریلوی اور شیعہ مسلک کے علماء کرام صاحبان مولانا مودی صاحب سمیت کس کا ترجمہ لازم قرار دیں گے-

قرآن مجید کا ترجمہ ہر عالم نے ایک مخصوص سوچ یا نظریہ پیش نظر رکھ کر کیا ہے کیا ایسی صورت میں کسی بھی مخصوص سوچ کے پنپنے کا اندیشہ نہیں ہے-یونیورسٹی کے غیر مسلم طلباء کے لئے کیا ان کی مذہبی کتابوں کا ترجمہ لازم قرار دیا جائے گا یا صرف مسلمان طلباء ہی اس کارخیر سے مستفید ہوں گے

اگر یہ قانون سب پر لاگو ہو گا تو ہندو اور عیسائی مذہب کی کون سی کتابیں مذہبی کتابوں کو شامل نصاب کیا جائے گا اور کیا ہندو مذہب کی کتابوں کا ترجمہ اردو میں موجود ہے؟اگر جواب نہیں ہے تو کیا سنسکرت جانے والے ہندو پنڈتوں یا سکالز صاحبان کی خدمات مستعار لی جائیں گی-لہذا بہتر ہوتا کہ پنجاب حکومت کے مشیر جلد بازی میں اٹھائے گئے اس اقدام کے حوالے سے باہمی مشاورت کے ذریعے ایک لائحہ عمل طے کریں آس کے باوجود بھی اگر حکومت اس اقدام پر ہر صورت قائم ہے تو اپنے فیصلے میں تھوڑی سی تبدیلی کرتے ہوئے اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے معزز ارکان کو بھی جلد از جلد ترجمے کے ساتھ قران مجید سکھانے کے اس عمل میں شامل کریں تاکہ وہ مجھ جیسے جاہل عوام سے بالاتر ہو کر یہ جان سکیں کہ اللہ تعالی کو کسی کام کے سرانجام دینے کے لئے اضافی کام کرنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں "اللہ تعالی جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو کہتا ہے کن فیاکون کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے” القران

مرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے