عمران خان کا دورہ سعودی عرب اور معاہدہ ابراہیم کے اثرات

چین کا پاکستان میں اور سعودی عرب کا انڈیا میں بھاری سرمایہ کاری کا مستقبل انڈیا ، پاکستان اور افغانستان میں اندرونی سیاسی استحکام اور علاقائ امن سے جڑا ہوا ہے۔

امریکہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری چاہتا ہے اور وہ جنرل باجوہ سے کئیے گے وعدوں پر قائم ہے کیوں کہ اسے افغانستان سے افواج کا انخلا چاہیے جس کے لیے اسے پاکستان کے مرکزی کردار کے ساتھ ساتھ بھارت، ایران ،روس اور عرب ممالک خصوصی طور سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کو امن عمل میں پارٹنر کے طور ضرورت ہے چونکہ افغانستان میں مختلف سیاسی و عسکری دھڑوں جتھوں کے ساتھ ان ممالک کے براہ راست تعلقات ہیں یا ان کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ امریکہ نے اپنے پلان میں ان سب کو آن بورڈ رکھا ہوا ہے اور ان سے الگ الگ بات بھی کر رہا ہے۔ اور اس سارے عمل میں چین کا بھی اسے تعاون حاصل ہے۔

جنرل باجوہ کی مدعیت میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران مفاہمتی یادداشتوں اور اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ بیان کا جائزہ لیں تو اس کا خاصا تعلق معاہدہ ابراہیم اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے اس امریکی حکمت عملی سے جا ملتا ہے، جو جنرل باجوہ اور امریکی پینٹاگون کے درمیان براہ راست ملاقاتوں میں طے ہوئ۔

یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی کوششوں سے ۱۳ اگست ۲۰۲۰ کو حضرت ابراہیم کے نام سے منسوب اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان “معاہدہ ابراہیم “ ہوا۔

ابراہیم معاہدہ پر ٹرمپ انتظامیہ کے تعاون سے اسرائیل ، متحدہ عرب امارات ، بحرین ، مراکش اور سوڈان نے دستخط کئیے تھے۔

خلاف توقع بائیڈن انتظامیہ نے نہ صرف ابراہیم معاہدہ کی توثیق کی ہے بلکہ ٹرمپ دور کی مارچ ۲۰۱۷ کی جنوبی ایشیا پاک بھارت تعلقات مسلہ کشمیر اور افغانستان کے بارے طے کی گئ حکمت عملی اور پالیسی کو بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

حال ہی میں صدر بائیڈن اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اتفاق ہوا کہ بائیڈن انتظامیہ کے حکام کو معاہدوں کی تعمیل میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لینا چاہئے۔

“ابراہیم معاہدہ “ کی طے شدہ تشریحات اور روح کے مطابق اسرائیل ، متحدہ عرب امارات ، یونان اور قبرص کے عہدیداروں نے اس سال اپریل میں ملاقات کی ، تاکہ توانائی سے لے کر کورونا جیسی وبائی امراض سے لڑنے تک ہر چیز پر باہمی تعاون گہرا کیا جاسکے۔

ایک وقت امریکی انتظامیہ کی موجودہ ٹیم کی سوچ یہ تھی کہ امریکی حکومت کے مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے امور بہ شمول عراق اور افغانستان سے دستبرداری ایک خطرناک خلا پیدا کرے گی۔

مگر اب نئی سوچ یہ ہے کہ کچھ فاصلہ رکھنے سے تنازعات میں الجھے ممالک کو خود ایک دوسرے کے قریب لانے اور زیادہ سے زیادہ خود انحصاری کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں کو وائٹ ہاؤس آتے ہی حیرت ہوئ کہ ان کی سوچ کو عملی جامعہ پہنانے کی لئیے تاریخی موقع اتنی جلدی سامنے آیا ہے۔

اس خطے میں واقعات کا ایک مثبت سلسلہ کشیدگی کو کم کرنے ، تنازعات کے خاتمے ، معاشی پیشرفت کی تعمیر ، اور عرب اسرائیل اتحاد کو آگے بڑھانے کے لئے ابراہیم معاہدہ بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

پاکستانی آرمی چیف اور وزیر اعظم کے موجودہ دورے سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کے اشارے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کشمیر کے حوالے سے سعودی عرب پاکستان کی کھل کر حمایت کرے گا ؟۔ ماہرین کے مطابق بھارت سعودی عرب کا اہم تجارتی پارٹنر ہے اور سعودی عرب بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتا”۔

عمران خان کے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران جن مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوے وہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لئیے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ ان معاہدوں اور دورے کے دوران سامنے آنے والی خبروں میں بین السطور ابراہیم معاہدہ کی روح آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہے ۔

پاک سعودی مشترکہ بیان کا مکمل متن سعودی گزٹ نے شائع کیا ہے ۔

اس مشترکہ بیان میں فلسطین پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا تذکرہ تو ملتا ہے مگر کشمیر کے بارے پاکستان کے سرکاری موقف یو این کی قراردادوں یا حق خودارادیت کا کوئ ذکر نہیں۔

سعودی عرب اور پاکستان نے "خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لئے ، دونوں ممالک کے درمیان جموں کشمیر تنازعہ کو حل کرنے کے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیا ہے”۔

تاہم ، سعودی حکومت کی جانب سے عمران خان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کے مابین ہونے والی ملاقات کے بارے میں جاری کردہ بیان میں ہندوستان یا مسئلہ کشمیر کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

البتہ پاک بھارت تعلقات کے حوالہ سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادے نے "لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام کے مابین حالیہ مفاہمت کا خیرمقدم کیا ہے ، جوپاکستان اور بھارت کے مابین 2003 کی مفاہمت پر مبنی ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی حکمت عملی میں بائیڈن انتظامیہ نے بہت معمولی ترمیم کے ساتھ سرعت سے عمل درآمد کے لئیے ایک ٹائم فریم دیا ہے ۔

ٹرمپ دور میں امریکہ نے افغانستان سے واپسی کے حوالے سے پاکستان کے بعض اہم مطالبات مانے جن میں پاکستان کی معطل شدہ فوجی امداد کی بحالی، پاکستان کو مالی مشکلات سے نکالنے کے لئیے ہنگامی مدد ، آئ ایم ایف کو قرضہ کی شرائط نرم کرنے اور کشمیر پر بھارت کے ساتھ مصالحتی کردار ادا کرنے اور بھارت کو پاکستان کے اندر بلوچستان اور وزیرستان میں ٹی ٹی پی کے ذریعہ آپریشن بند کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔ پاکستان نے پوری دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوے طالبان کو قطر اور یو اے ای میں ہونے والے مذاکرات کی میز پر کایا ، جواب میں امریکہ نے بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیم کو دہشت گرد قرار دے کر پابندی لگائی، ٹی ٹی پی کے لیڈروں کو براہ راست ڈرون اٹیک کر کے مارا، صدر ٹرمپ نے ذاتی طور نریندر مودی کو پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے اور اپنی مصالحت کرانے کی آفر پر راضی کیا ، مگر پلوامہ حملہ کے بعد جو ہر عمل کا رد عمل ہوا ، وہ ۵ اگست ۲۰۱۹ کو بھارت کے ایک انتہائی قدم جس میں اس نے اپنے زیر قبضہ کشمیر کی آہینی خصوصی اور متنازعہ حیثیت ختم کرتے ہوے پاکستان سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا .
یہ ایک خطر ناک صورت حال پیدا ہوئی اور جب بالا کوٹ پر ہندوستان کی فضائیہ نے حملہ کیا اور جواب میں پاکستان کی فضائیہ نے انڈیا کے اندر جا کر بعض حساس فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور اس کے جواب میں بھارتی فضائیہ کے جہاز کو مار گرانے اور پائلٹ کی گرفتاری سے صورت حال گھمبیر ہوئ ایٹمی میزائلوں کا رخ ایک دوسرے کے شہروں کی جانب موڑ دیے جانے کی اطلاعات اور خلا سے بنائی گئی فوٹیج وائٹ ہاؤس دکھائی گئی تو امریکہ نے سارا معاملہ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوے سعودی حکومت سے مدد کی درخواست کی چنانچہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے علاقے کا ہنگامی دورہ کر کے بھارتی پائلٹ کو رہا کرا کر حالات کو قابو کرنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کیا ۔

امریکہ بعض مطالبات پاکستان سے بالواسطہ منوانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ اس نے مشرق وسطی میں موجود اپنی فوجی طاقت کی موجودگی اور بحری بیڑے کی فوجی استعداد بڑھانے کے لئیے حال ہی میں بمبار جہازوں کی ایک کھیپ بھیجی ہے اور پاکستان کے باخبر صحافی نجم سیٹھی کے بقول پاکستان سے ایک دو ائیر بیس استعمال کرنے کی اجازت بھی مانگی ہے۔

یہ وہ حالات ہیں جن سے پورے خطہ کا مستقبل جڑ چکا ہے۔

چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری ہو یا سعودی عرب کی انڈیا میں دونوں کا مستقبل ریجن میں امن اور سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے ۔

کشمیر :- کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادں کے مطابق نہیں نکل سکتا کیوں کہ وہ پرانی ہونے کے سبب لاگو ہونے کے قابل نہیں رہی ہیں۔

کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے دونوں ملکوں کو درمیانی راستہ اپنانا ہو گا ، دونوں ملک اگر جموں کشمیر سے اپنی اپنی افواج کے نکالنے کے ۱۹۴۹ کے معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کریں تو ایک ایسا حل نکل سکتا ہے جس سے کشمیری عوام بھی مطمئن ہو جائیں تو علاقہ میں امن استحکام آ جائے گا ۔ سر دست عمران خان اور نریندر مودی کو پرویز مشرف اور منموہن سنگھ کے اتفاق کردہ چار نکاتی حل کو آگے لے کر چلتا دیکھا جا سکتا ہے ۔

مصنف راجہ مظفر کا ایک انٹرویو عرب نیوز نے شایع کیا تھا جس میں انہوں اس وقت کے فرمانروا سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی تجویز پیش کی تھی ۔ عرب نیوز کا لنک

راجہ مظفر امریکہ میں رجسٹرڈ دو تنظیموں کشمیر گلوبل کونسل اور ساوتھ ایشیا ڈیمو کریسی واچ کے بورڈ ڈائرکٹر بھی ہیں اور کشمیر کی خود مختاری کی حامی تنظیم جے کے ایل ایف کے سابق قائمقام چئیرمین اور سینئر وائس چئیرمین رہے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے