فرقہ وارانہ مواد اور فرقہ واریت

فرقہ واریت ہمارے ملک کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے اور اس کی بنیادی وجوہات میں کلچر، غیر عقلامی نظامِ تعلیم، علومِ عقلیہ کا فقدان ہے،ایک روایت میں ہے کہ امام حسین رضی اللّہ عنہ نے 59 ہجری میں خطبہ دیا اور فرمایا کہ

"کیا تم جانتے ہو اللّہ نے علمائے یہود کو قرآن مجید میں لعنت کی ہے، جانتے ہو کہ کیوں کی ہے۔۔؟ اس لئے کہ وہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر نہیں کرتے تھے” ہمیں بھی بھی نیکی کو پھیلانے اور برائی سے روکنے کی اشد ضرورت ہے ۔

صداقت کو عمل جامہ پہنانے کی ضرورت ہے، تعلیمی اداروں سے منطق فلسفہ استدلال سوچ و بچار ختم ہوتی چلی جا رہی ہے ،جس کی وجہ سے فرقہ واریت بڑھتی چلی جا رہی ہے، فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ طلباء کو علومِ فکرِ جدید سے آراستہ کیا جائے، فقہ کے اصول و ضوابط کی صحیح تعلیم دی جائے اور ان اصول و ضوابط کا صحیح استعمال کرنا سکھایا جائے، مناظرانہ طریقہ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنی گفتگو کو مدلل و مستحکم بنایا جائے۔
یہ دور اشتعال کا نہیں بلکہ ٹہراؤ اور سمجھاؤ کا ہے۔

حکومتِ پاکستان کو اس میں اپنا رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ،حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے مضامین مرتب کریں، جس سے نواجوانانِ عالَم کی اصلاح کا پہلو نکلتا ہو، افکار و نظریات پر مکالمہ جات ہوں ،جس سے ہماری سوچ و فکر میں تبدیلی واقع ہو ۔

مذہبی رسائل و جرائد سے امن کا پیغام عام ہونا چاہیے، نفرت انگیز مواد کی تشہیر کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔

مذہبی علماء و مشائخ کی نفرت انگیز تقاریر ہی اشتعال اور بد امنی کا سبب بنتی ہیں۔

آزادی اظہارِ رائے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم دوسروں کے مذہب و مسالک پر کیچڑ کا ایک طوفان اچھالتے رہیں، مل بیٹھ کر اپنی سوچ و فکر کو اعلیٰ ترین سطح پر رکھتے ہوئے اختلافات کو ختم کرنا چاہیے، اپنی فکر کے مطابق جو کام آپ کرتے ہیں اس کے تناظر میں بہت سارے لوگ آپ سے ملتے ہیں، آپکو ہر ایک کی بات کو سننا اور اس کامدلل جواب دینا چاہیے ،لڑائی جھگڑے کی طرف جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

میڈیا میں غیر سنجیدگی بہت زیادہ ہے، میڈیا بھی اپنا مثبت کردار ادا کرے ،سوشل میڈیا بھی اسی حکم میں شامل ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے سے فرقہ وارایت کو تیزی کے ساتھ ہوا دی جاتی ہے ،جس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑتا ہے۔

ہمیں نیک اور ایک بن کر اپنے ملک و قوم کی خاطر سوچنے کی ضرورت ہے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے محافظ و نگہبان ہیں، ملک کی سرحدوں اور باشندوں کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے، ہمارا کوئی بھی عمل ایسا نہ ہو جو ہمارے ملک کے لئے بدنامی کا سبب بنے۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے