جب گائنی ڈاکٹرنے جراحی میں تولیہ اندر چھوڑ دیا

ایک سوشل میڈیا سٹار اور ان کی بیگم کی ایک وڈیو نے آج کل خواتین کے گروپوں میں کافی ہل چل مچا رکھی ہے۔ اس میں سوشل میڈیا سٹار اور ان کی بیگم نے ایک معروف امراض نسواں کی ماہر ڈاکٹر پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے نا صرف کیس خراب کیا، بلکہ دوران جراحی کچھ تولیے کے ٹکڑے بھی اندر ہی چھوڑ دیے۔ جس سے ظاہر ہے مریضہ کی جان کو خطرات لاحق ہوئے۔

اس ویڈیو کو لیکر کئی ایک خواتین نے فیس بک گروپس میں اپنے اپنے تجربے بیان کرنا شروع کیے۔ لگ بھگ سو مختلف خواتین کی رائے پڑھ کر لگتا ہے پاکستان میں گائنی کی ڈاکٹرز نہیں ہوتیں بلکہ قصائی ہوتی ہیں۔ اکثر کو شکایت تھی ڈاکٹر کے پاس اتنا وقت ہی نہین ہوتا کہ وہ اصل مسائل سن سکے یا کم از کم تھوڑا رحم دلی سے بات سن ہی سکے۔

کچھ عورتوں نے لکھا تھا ڈاکٹر تک آنا اور ان کی فیس بھرنا اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے اور پھر جب وہاں کلینک پر رش میں دیر تک الٹرا ساؤنڈ کے انتظار میں سیروں پانی پی رکھا ہو، بار بار پیشاب کی حاجت محسوس ہو رہی ہو، مگر چیک اپ سے پہلے رفع حاجت کے لئے نہیں جا سکتے، پیر سوج جاتے ہیں، اور طبیعت پر بوجھ آجاتا ہے۔ اس تمام اذیت سے گزر کر جب ڈاکٹر صاحبہ تک پہنچیں اور مناسب جواب بھی نا ملے تو دل بہت دکھتا ہے۔

کسی خاتون نے یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ گھر میں ساس اور شوہر کی ڈانٹ سن کر پھر اپنی ڈاکٹر سے بھی ڈانٹ ہی سننی پڑے تو بہت غصہ آتا ہے۔ اسی طرح کچھ خواتین کو ماہر ڈاکٹرکے کلینک پر ان کی ہزاروں روپے فیس بھر کر بھی جونیئر ڈاکٹروں نے نمٹا دیا تھا۔

لاتعداد شکائتوں میں کہیں کہیں کوئی خاتون اپنی ڈاکٹرسے خوش بھی تھی، جیسے ایک فیس بک صارف نے لکھا تھا کہ ان کی ڈاکٹر نے نا صرف ان کی بہترین مدد کی بلکہ بعد میں کورونا کے دوران ان کی فون کالز اور واٹس ایپ پیغامات کے مفت جواب بھی دیے۔

میری ایک سہیلی جو بیرون ملک رہتی ہے، اس نے بتایا اس کے یہاں بچوں کی ولادت میں مڈ وائف نے اس کی مدد کی، جو بہت مہربان تھی، تربیت یافتہ اور تجربہ کار تھی۔ اس نے بچے کی ولادت سے پہلے، اور بعد میں میری سہیلی کو ممکنہ مسائل سے نا صرف آگاہ رکھا، کسی ایمرجنسی کی صورت میں کیا کرنا ہے یہ بتایا اور ساتھ ساتھ نئی ماں کو بچہ سنبھالنے کے گر بھی بتائے۔

ہمارے ملک میں لیڈی ہیلتھ ووکرز، مڈ وائف یا تربیت یافتہ دایہ موجود تو ہیں مگر اب کچھ عرصے سے ان پر بھروسہ نا ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں اور اسی کا فائدہ زچہ بچہ کے نجی ہسپتال اٹھاتے ہیں۔

سوشل میڈیا سٹار کی بیگم کی جان بچ گئی اور ہمارے سوشل میڈیا پر ڈاکٹرکے حق میں اور خلاف بحث کا آغاز ہو گیا۔ الزامات کا لامتناہی سلسلہ چل نکلا۔ اور ایک بار پھر اصل بات کہیں اس دھینگا مشتی می دھول میں کھو گئی۔

ڈاکٹرز کا بوجھ کم کرنے کے لئے تربیت یافتہ عملہ تیار کیجیے، ان پر بھروسے کے لئے ان کے کام کو پرکھنے کا طریقہ کار طے کریں اور پھر ان کی کارکردگی کی برانڈنگ کریں۔

ڈاکٹروں پر بھی کوئی چیک اینڈ بیلینس رکھیں۔ ان کو ہر کچھ عرصے بعد تازہ دم ہونے کے لئے تعطیلات پر جانے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ اور ان کے سکون کے لئے انہیں مدد بھی فراہم کی جاسکتی ہے، جیسے کبھی کبھار کوئی ایسا سیمینار یا ورک شاپ جہاں کام کی باتیں نا ہوں صرف ازسرنو تازہ دم کرنے کی مشقیں کروائی جائیں۔ اور ان کو یاد دلایا جائے جب وہ ایف ایس سی کے بعد میڈیکل کالج میں داخل ہو رہی تھیں، انسانیت کی خدمت کا عہد کیا تھا۔ اپنے یا دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کی اپنی صلاحیت کو پھر سے کھوج نکالیے۔
آپ قابل احترام ہیں، محبت بھی جیتئے ناں !

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے