ماورائی علوم

کائنات آج ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔ ہم بڑی بڑی دوربینوں سے اس کی وسعت کے نظارے تو کر رہے ہیں لیکن یہ بے پناہ وسعت ہمارے تجربے اور ادراک کی زد میں نہیں۔ لہذا کائنات کی وہ بے تحاشا ظاہر اور پوشیدہ اسرار جو ہمارے ادراک اور تجربات کی ذد میں نہیں دیگر ذرائع سے ان کا کھوج لگانے اور ہر ممکن طریقے سے ان کا علم حاصل کرنے کے علوم کو ہم نے میٹافزکس، پیراسائیکالوجی، روحانیت وغیرہ کے نام دئیے ہیں۔ انہیں علوم اور دیگر تمام روحانی علوم کو ماورائی علوم کہا جاتا ہے۔

ہزاروں سال سے خارق العادات (سپر نارمل) مظاہر کا چرچا جاری رہا اور آج بھی جاری ہے، مثلاً ہمزاد، آسیب، جنات ، دیو، پری زاد، جسم مثالی، نادیدہ دنیا کا مشاہدہ، کشف، مستقبل بینی،پیش گوئی، علم النجوم( Astrology)، علم الجواہر ،اشراق (ٹیلی پیتھی) مسمرزم (ہپناٹزم ) یوگا، تنترا، "جادو، دم، تعویذ، تعبیر الرویا، مراقبہ، عمل تصور (Visualization) ، لا آف اٹریکشن، تصوف ،قبالہ ،فری میسن، روزی کروزی، سلسلہ ہرمی، نائٹس ٹمپلر ،کیتھاری ،غناسطحیت ،حشیش، الکیمیا، تارو ،حاضرات ارواح، روحانیت وغیرہ۔ صدیوں تک نوع انسانی کا ہر طبقہ اور دنیا کی ہر قوم آنکھیں بند کرکے ان عقیدوں کو تسلیم کرتی رہی۔ ہر زمانے میں ایسے حیرت انگیز واقعات پیش آتے رہے جنھیں عقل انسانی نے وہم اور خرافات سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ ہر عہد میں دانشمندوں کا ایک گروہ ان اوہام کے خلاف آواز بلند کرتا رہا، یہ کشمکش آج بھی جاری ہے۔ سائنس داں صرف ان حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہیں جن کا تجربہ وہ فطرتی قوانین اور سائنسی آلات کے ذریعے کرسکیں، مثلاً وہ اس بات کے قائل ہیں کہ ایک سیل میں زندہ نامیاتی مواد RNA, DNA وغیرہ موجود ہے لیکن اس دعوے کو مسترد کردیتے ہیں کہ ہمزاد، روح یا جن نام کی کوئی مخلوق دنیا میں پائی جاتی ہے سائنس صرف ان چیزوں کو تسلیم کرتی ہے جن کا علم وہ حواس خمسہ کے ذریعے دیکھ کر، سن کر، چھو کر، چکھ کر اور سونگھ کر حاصل کرے۔ سائنس دانوں کے اصول کے مطابق حواس خمسہ کے علاوہ علم و ادراک (چیزوں کی حقیقت کو جاننے پہچاننے) کا کوئی اور ذریعہ موجود نہیں۔

سائنس کی حد تک یہ نتیجہ سو فیصد صحیح ہے۔ زندگی کے قوانین کا تقاضا یہ ہے ہم اس مادی کائنات کی تسخیر کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور یہ کائنات ایسے قوانین سے مرکب ہے ،جن کو عقل، منطق اور سائنسی طریق کار پر عمل کرکے سمجھا جاسکتا ہے۔ مادی کائنات کی تسخیر تک سائنس کا منطقی اور تجرباتی طریقہ کار بالکل صحیح ہے۔ یہ مان لینا چاہیے کہ دو اور دو کی جمع چار ہی ہوگی اور آگ کی خاصیت ہمیشہ جلانا ہی رہے گی۔ یہاں تک ہم سائنس کے قدم بہ قدم چلتے ہیں، لیکن جب ’’ذہنی مظاہر‘‘ کی جانچ پڑتال شروع ہوتی ہے تو نہ سائنس کی لیبارٹری کام آتی ہے نہ ریاضی کے قوانین، نہ کیمیا کے فارمولے چلتے ہیں نہ انجینئرنگ کے ضابطے۔ تمام سائنسی علوم ’’ذہن‘‘ کی پیداوار ہیں اور ذہن؟ … یہاں آکر سوچ ٹھہر جاتی ہے اور عملی عقل جواب دے جاتی ہے۔ آج ادراک ماورائے حواس (E.S.P) Extra Sensory Perception اور پیراسائیکالوجی و مابعدلطبیات کی عملی انداز سے چھان بین ہورہی ہے اور اس کے نتیجے حیرت انگیز ہیں۔ ادراک ماورائے حواس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، بہت کچھ لکھا جائے گا۔

نفس انسانی کی تحقیق اور دماغ کی کرشمہ آفرینیوں کو سمجھنے کے لیے دماغ کے میکانزم اور ترکیب کو سمجھنا ہی پڑے گا ،جو اس قسم کے مظاہر میں بروئے کار آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اب تک دماغ کی پوری فعالیت اور کارکردگی کو نہیں سمجھا گیا، اس کا سبب علم کی کمی ہے لیکن جوں جوں مابعد النفسیاتی طریق تحقیق معیاری ہوتا چلا جائے گا، اس قسم کے خارق العادات (سپر نارمل) مظاہر و معاملات کی دریافت آسان سے آسان تر ہوتی چلی جائے گی۔ آج اکیسویں صدی میں اس جہت میں کافی پیش رفت ہورہی ہے اور آنے والے دور میں نفس انسانی کے علم و تحقیق کا درجہ اتنا بلند ہوجائے گا جتنا بیسویں صدی کے نفسیات دان اس کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ہمارے دماغ میں کچھ ایسے پرزے لگے ہوئے ہیں جو سانس اور استغراق کی مشقوں سے متحرک ہوجاتے ہیں، چلنے لگتے ہیں، دماغ کی پیچیدہ کمانی کھلنے لگتی ہے اور انسان شعور برتر کی سطح پر پہنچ جاتا ہے۔

کئی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس بات کی بھی بہت شہادتیں ملی ہیں کہ امریکہ، روس، اسرائیل، انگلینڈ، فرانس، جرمنی میں حکومتی سطح پر ایسی Lab’s اور ادارے کام کر رہے ہیں ،جہاں Pera Psychology اور Metaphysics پر اعلیٰ درجے کی تحقیقات ھو رہی ہیں ان Labs میں سر فہرست انسانی ذہن کے افعال پر عملی تجربات شامل ہیں ،اس موضوع پر وقتاً فوقتاً آرٹیکل اور کتب شائع ہوتا رہتی ہیں جن میں ان پر اسرار علوم کے بارے میں معلوم ہوتا رہتا ہے لیکن ان تحقیقات کے نتائج عوام الناس تک نہیں پہنچ پاتے کیوں کہ یہ علم وہ لوگ اپنے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہودیوں کا؛ قبالہ ازم؛ اب کوئی راز نہیں ہے ۔

اگر دیکھا جائے تو دنیا کی ہر ایک ایجاد کا خیال سب سے پہلے کسی کے ذہن میں ہی پیدا ہوتا ہے اور اس کے بعد اس مادی دینا میں ظہور پذیر ہوتا ہے ایک سائنسدان Visualization کے ذریعے اپنے ذہن میں اس ایجاد کی تصویر دیکھتا ہے اور پھر ہو بہو وہ چیز اس مادی دنیا میں پیدا ہو جاتی اس کی سب سے بڑی مثال عمارت ہے جو کسی آرکیٹیکچر کے ذہن میں ڈیزائن کی صورت میں ہوتی ہے جس کو کوئی بھی دیکھ نہیں سکتا مگر جب وہ اسے کمپیوٹر یا قلم کے ذریعے پردہ سکرین پر نمودار کرتا ہے اور پھر اس کے ڈیزائن کے مطابق وہ عمارت زمین پر کھڑی ہو جاتی ہے تو سب کو نظر آ جاتی ہے تو ہم کس طرح اس ذہنی صلاحیت کا انکار کر سکتے ہیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے