منگل : 21 ستمبر 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]کینڈا: جسٹن ٹروڈو کی جماعت الیکشن میں کامیاب[/pullquote]

کینڈا میں عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی نے الیکشن میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ مقامی نشریاتی ادارے سی بی سی نے بتایا ہے کہ حکومتی جماعت نے قدامت پسند جماعت کے مقابلے میں زیادہ نشتیں جیتی ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ دنیا بھر میں رقبے کے اعتبار سے اس دوسرے سب سے بڑے ملک میں جسٹن ٹروڈو فیصلہ کن اکثریت کے لیے 170 پارلیمانی نشتیں جیت پائیں گے یا نہیں۔ ابھی تک متعدد حلقوں کے نتائج آنا باقی ہیں۔ کینیڈین وزیراعظم نے چند ہفتے قبل ہی قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا تاکہ وہ پارلیمان میں اکثریت حاصل کر سکیں۔ اپنی کامیاب کورونا پالیسی اور دیگر اقدامات کے سبب وہ اس کے لیے پر امید ہیں۔

[pullquote]امریکا کا مزید مہاجرین کو پناہ فراہم کرنے اعلان[/pullquote]

واشنگٹن حکومت پناہ کے متلاشی افراد کو ملک میں پناہ فراہم کرنے کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق آئندہ مالی سال میں جس کا آغاز اکتوبر سے ہوگا، ایک لاکھ پچیس ہزار پناہ گزینوں کے حق میں مثبت فیصلے کی امید کی جاسکتی ہے۔ یہ تعداد پہلے کے مقابلے میں دوگنا بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پناہ کے متلاشی زیادہ افراد کو ملک میں پناہ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تعداد کو 15 ہزار تک محدود کردیا تھا۔ وزارت خارجہ نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں انسانی بحرانوں میں اضافے کی وجہ سے بھی زیادہ سے زیادہ افراد کو پناہ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

[pullquote]صنعتی ممالک پر ماحولیاتی تحفظ کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، گوٹیرش[/pullquote]

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ماحول کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ نیو یارک میں سربراہان حکومت اور مملکت کے ساتھ ملاقات کے دوران گوٹیرش نے کہا کہ ’کرہ ارض کے خلاف جنگ‘ ختم ہونی چاہیے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں صنعتی ممالک کو آگے بڑھنا چاہیے۔ گوٹیرش نے مزید کہا کہ امریکا، چین، بھارت، اور یورپی ممالک کو دوسروں کا انتظار کیے بغیر اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہیے۔ اس اجلاس کو رواں برس نومبر میں گلاسگو میں منعقد ہونے والے ماحولیاتی تبدیلیوں کے عالمی اجلاس کی تیاری کے اعتبار سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔

[pullquote]لبنانی پارلیمان نے نئی حکومت کی منظوری دے دی[/pullquote]

لبنان کی پارلیمنٹ نے وزیراعظم نجیب میکاتی کی سربراہی میں قائم کردہ نئی حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ دارالحکومت بیروت میں کئی گھنٹوں تک جاری بحث و مباحثے کے بعد 85 ارکانِ پارلیمان نے حکومتی کابینہ کی حمایت میں جبکہ صرف 15 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ وزیراعظم میکاتی نے اپنے خطاب میں ملک میں جاری معاشی بحران سے جلد از جلد نمٹنے کا وعدہ کیا۔ لبنان کو اس وقت پٹرول اور ادویات کی قلت، بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری سمیت دیگر اقتصادی مسائل کا سامنا ہے۔ اس ملک کی تقریباﹰ تین چوتھائی آبادی غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے۔

[pullquote]صدر بائیڈن کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب[/pullquote]

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس آج نیویارک میں شروع ہورہا ہے۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والے اس عالمی اجلاس کے آغاز میں امریکی صدر بائیڈن کا خطاب متوقع ہے۔ اس کے بعد برازیل، فرانس، ایران، ترکی، اور سوئٹزرلینڈ کے رہنما تقاریر کریں گے۔ صدر بائیڈن پہلی مرتبہ اس عالمی ادارے کے اہم رکن کی حیثیت سے جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ امریکی سفارتکاروں کے مطابق صدر بائیڈن دیگر امور کے علاوہ کورونا وائرس کی عالمی وبا اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے بارے میں بات کریں گے۔ جرمنی کی جانب سے صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر جمعہ کے روز جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

[pullquote]پولینڈ پر کوئلے کی کان بند کرنے تک یومیہ پانچ لاکھ یورو کا جرمانہ[/pullquote]

یورپی یونین کی عدالت نے جرمنی اور چیک جمہوریہ کی سرحد کے قریب براؤن کوئلے کی کان کنی بدستور جاری رکھنے پر پولینڈ کو بھاری جرمانے کا فیصلہ سنایا ہے۔ وارسا حکومت کی جانب سے ماضی میں یورپی عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اب اسے یومیہ پانچ لاکھ یورو کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ چیک جمہوریہ نے پولینڈ کے خلاف یورپی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا کہ اس کی جانب سے براؤن کوئلے کی کان کنی کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی علاقے میں آب و ہوا کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ چیک جمہوریہ کا دعویٰ ہے کہ ٹورو نامی کوئلے کی کان کے لائسنس میں توسیع کی اجازت ماحولیاتی اثرات کے مطلوبہ جائزوں کے بغیر دی گئی ہے۔

[pullquote]پاکستان نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی، بھارتی فوج[/pullquote]

بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ کشمیر میں طالبان یا پھر مبینہ پاکستانی عسکریت پسندوں سے متعلق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ سرینگر میں صحافیوں سے بات چیت میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تعینات افواج کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے بتایا کہ وادی کشمیر میں اس وقت ساٹھ سے ستر کے درمیان بیرونی عسکریت پسند سرگرم ہیں تاہم جو بھی ہتھیار اٹھائے گا اس کے ساتھ فوج نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ پانڈے کے مطابق اس برس پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی نہیں کی گئی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان فروری میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔

[pullquote]آبدوز معاملہ یورپ کے لیے ’ویک اپ کال‘ ہے، جرمن وزیر[/pullquote]

امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے کے نتیجے میں فرانس کی طرف سے آسٹریلیا کو آبدوز فراہم کرنے کا معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ اس اقدام کو جرمن وزیر مائیکل روٹھ نے یورپ کے لیے ’ایک ویک اپ کال‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے برسلز میں وزرا کے اجلاس کے موقع پر کہا کہ امریکا اور آسٹریلیا کے اس فیصلے کے بعد یورپ کو اپنے اتحادیوں کے ساتھ آزادانہ طور پر کام کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا۔ ان کے مطابق یورپ کو سوچنا ہوگا کہ وہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی سے متعلق مسائل پر اپنی خودمختاری کو کیسے مضبوط بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کی جانب سے 29 ستمبر کو منعقد ہونے والی ای یو امریکا ٹریڈ اور ٹیکنالوجی کونسل کی تیاری کے لیے مذاکرات کو احتجاجاﹰ ملتوی کردیا گیا ہے۔

[pullquote]طالبان کی نئی کابینہ، خواتین کی عدم شمولیت[/pullquote]

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے پانچ ہفتوں کے بعد عسکریت پسند گروہ طالبان نے اپنی عبوری حکومت کے نئے ارکان کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق سترہ افراد کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ وزارت صحت کے ایک اہلکار کا تعلق ہزارہ اقلیتی برادری سے بتایا گیا ہے۔ تاہم افغان طالبان کی حکومت میں خواتین کو ابھی تک شامل نہیں کیا گیا۔ مجاہد نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان حکومت کو تسلیم کریں۔ اس مقصد کے لیے مغربی ریاستوں نے طالبان سے ایک ایسی حکومت کا مطالبہ کیا ہے جس میں خواتین سمیت تمام دھڑوں کی نمائندگی شامل ہو۔

[pullquote]سوڈان میں فوجی بغاوت کی کوشش، مقامی میڈیا[/pullquote]

سوڈان میں مقامی میڈیا کے مطابق فوجی بغاوت کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی سنا کی اطلاعات کے مطابق سوڈانی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے منگل کی صبح حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی، جس کے بعد اس بغاوت میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ خرطوم میں حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ فوج نے سرکاری میڈیا کے اداروں کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی تھی۔ سن 2019 میں صدر عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سوڈانی فوج اور سول سوسائٹی کی ایک عبوری حکومت قائم تھی۔ تاہم دونوں میں کافی تناؤ رہتا تھا۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے