ہفتہ : 02 اکتوبر 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]لداخ میں چینی فوج کی تعیناتی پر بھارت کی گہری تشویش[/pullquote]

بھارتی فوجی سربراہ نے کہا ہے کہ لداخ کے سرحدی علاقوں میں چینی افواج کی تعیناتی تشویش کی بات ہے۔ جنرل منوج مکند نروانے نے لداخ کے دو روزہ دورے کے بعد آج بھارتی میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ چین نے لداخ کے متعدد متنازعہ سرحدی علاقوں میں اپنی فوج کی تعداد اور ان کی تعیناتی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اس وقت کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ چند روز قبل ہی چین نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت ’فارورڈ پالیسی‘ پر عمل پیرا ہے اور سرحد پر کشیدگی کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے چین کے علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے۔ بھارت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوطرفہ کشیدگی کی وجہ باہمی سرحد پر فوجوں کی تعیناتی ہے۔

[pullquote]برطانیہ میں پٹرول بحران، فوج مدد کرے گی[/pullquote]

برطانیہ میں جاری پٹرول کی عدم دستیابی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے آئندہ ہفتے کے آغاز سے ملکی فوج مدد کرے گی۔ لندن حکومت نے بتایا ہے کہ اس سلسلے میں تقریباﹰ دو سو فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا، جن میں ایک سو فوجی ٹرک ڈرائیور کے فرائض انجام دیں گے۔ برطانیہ میں پچھلے کئی دنوں سے پٹرول سپلائی کی قلت کے باعث ملک بھر کے پٹرول پمپس پر عوام کی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بریگزٹ کے بعد ایسے لگ بھگ ایک لاکھ ٹرک ڈرائیور برطانیہ چھوڑ چکے ہیں، جو پٹرول سپلائی کی سہولت کو ممکن بناتے تھے۔ لندن حکومت کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد پٹرول کا ذخیرہ بھی کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے بحران کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

[pullquote]تائیوان کا چین پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام[/pullquote]

تائیوان نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے 38 جنگی طیارے غیر قانونی طور پر اس کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ تائیوان کے مطابق یہ چینی فضائیہ کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہے۔ تائیوانی وزارت دفاع کے مطابق صورتحال کے پیش نظر ملکی دفاعی میزائل نظام کو تیار کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اقدامات کی بھی تیاری کر لی گئی تھی۔ تائیوان کے وزیر اعظم سو سینگ چانگ نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چین خطے میں امن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ تائیوان سن 1949 میں چین سے الگ ہو گیا تھا۔ تاہم بیجنگ اسے ایک آزاد ریاست کے بجائے اب بھی ایک الگ صوبہ کے طور پر دیکھتا ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

[pullquote]فلپائن: صدر ڈوٹیرٹے آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے[/pullquote]

فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ڈوٹیرٹے نے کہا کہ وہ ملک میں ہونے والے سن 2022 کے عام انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے لیے حصہ نہیں لیں گے۔ ان کے بقول یہ ’آئین کی خلاف ورزی‘ ہوگی۔ ڈوٹیرٹے کے اس فیصلے کے بعد اُن کی بیٹی کے لیے صدر کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ فلپائن میں صدر کی آئینی مدت چھ سال تک محدود ہے۔

[pullquote]کیلی فورنیا: اسکول کے طلبہ کے لیے کووڈ ویکسین لازمی قرار دینے کا منصوبہ[/pullquote]

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں اسکولوں کے تمام طالب علموں کو کورونا وائرس کے خلاف ویکسین لازمی لگائی جانا چاہیے۔ یہ بات گورنر گِیون نیوسوم نے سان فرانسیسکو میں کہی ہے۔ ان کے مطابق یہ نئے ضوابط نجی اور سرکاری اسکولوں پر آئندہ برس جنوری سے لاگو ہوں گے۔ تاہم اس کے لیے امریکی ڈرگ اتھارٹی ایف ڈی اے کی جانب سے 12 برس سے زائد عمر کے بچوں کے لیے ویکسین کی منظوری ضروری ہوگی۔ اس عمر کے بچوں کے لیے اب تک صرف بائیو این ٹیک اور فائزر کی ویکسین کی ہنگامی منظوری دی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسکول کے بچوں کو محض مذہبی اور طبی وجوہات کی بنا پر کووڈ ویکسین لازمی لگوانے سے چھوٹ دی جائے گی۔

[pullquote]سوشل میڈیا پر کمنٹس لکھنے پر بیلاروس میں گرفتاریاں[/pullquote]

بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں متعدد افراد کو سوشل میڈیا پر کمنٹس لکھنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپ ویسنا کے مطابق 85 سے زائد افراد اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔ ان پر ریاستی اہلکاروں کی توہین کا الزام ہے۔ قبل ازیں منگل کو دارالحکومت منسک میں سکیورٹی فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مارا تھا۔ اس کارروائی کے دوران ایک 31 سالہ شخص نے، جس کا تعلق اپوزیشن سے تھا، خفیہ ایجنسی کے اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ یہ شخص خود بھی اس کارروائی میں مارا گیا۔ آئی ٹی کے اس ماہر کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

[pullquote]جرمنی: سابق فوجی تارکین وطن کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث[/pullquote]

جرمن فوج کے چند سابق اہلکار مبینہ طور پر تارکین وطن کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل نے اس بات کا انکشاف کیا ہے۔ سابق جرمن فوجیوں کے اس گروہ کا تعلق جرمنی کے شمالی حصے سے بتایا گیا ہے۔ جرمن شہر لیونبرگ کے دفتر استغاثہ نے 37 سے 53 سال کی عمر کے نو مشتبہ افراد کے خلاف تحقیقات کی تصدیق کی ہے۔ ان پر کسی مسلح گروہ میں شمولیت یا پھر ایسے گروہ کی سربراہی کا شبہ ہے۔ اس کے علاوہ چھاپوں کے دوران ان افراد سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں اس کے پیچھے غیر ملکیوں سے نفرت کے امکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

[pullquote]جارجیا کے سابق صدر گرفتار[/pullquote]

جارجیا کے سابق صدر میخائل ساکاآشویلی کو جلاوطنی سے واپس وطن پہنچنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ جارجیا کے وزیراعظم ایراکلی غریباشولی کے مطابق سابق صدر کو جیل میں منتقل کردیا گیا ہے۔ ساکاآشویلی کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ وہ بلدیاتی انتخابات سے کچھ دیر قبل یوکرائن سے جارجیا پہنچے تھے۔ انہوں نے فیس بک پر عوام کو اپنی جماعت یونائیٹڈ نیشنل موومنٹ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا کہا تھا۔ جارجیا کے حکام سابق صدر پر سن 2004 سے سن 2013 کے دوران اپنے دور اقتدار میں اپنے عہدے کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہیں۔ سابق صدر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

[pullquote]ایکواڈور کی جیل میں پرتشدد لڑائی کے بعد سکیورٹی سخت[/pullquote]

جنوبی امریکی ملک ایکواڈور کی ایک جیل میں خونریز لڑائی کے واقعے کے بعد ہزاروں پولیس اور فوجی اہلکاروں کو جیلوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ دارالحکومت کِیٹو میں وزیر داخلہ الیکزانڈرا وَیلا نے بتایا کہ تین ہزار چھ سو پولیس اور فوجی اہلکار جیلوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔ ایکواڈور کے جنوبی شہر گُوایاکِل کی ایک جیل میں دو مخالف دھڑوں کے درمیان پرتشدد لڑائی کے نتیجے میں 118 قیدی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں متعدد متاثرین کے سر قلم کردیے گئے تھے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے