محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے ، پاکستان کو ایٹمی طاقت سے نوازنے والے کو فوجی اعزاز کے ساتھ خیر آباد کہ دیا گیا، صبح سویر ان کے انتقال کی خبر ملی تو بطور صحافی اپنی زمیداری سرانجام دی اور انتقال کی خبر سے لیکر تدفین تک لمحہ با لمحہ لوگوں کو آگاہ رکھا، جب ڈاکٹر عبد القدیر خان کی انتقال کی خبر ملی تو کے آر ایل ہسپتال کے باہر چلا گیا ، وہاں پر سیکورٹی انتہائی سخت تھی کہ نہ کسی کو جانے دیا جارہا تھا اور نہ کوئی بات بتا رہا تھا، کے آر ایل ہسپتال کو دو گیٹ تھے فرنٹ گیٹ پر سیکورٹی سخت کی گئی تاکہ یہ لگے کہ میت کو یہیں سے لیکر جایا جائے گا لیکن جب تھوڑا شک ہوا تو میں اپنی ایک میڈیا کی کولیگ کے ہمراہ پچھلے گیٹ پر چلا گیا کیوں کہ یہ شک تھا کہ وہاں سے لیکر جا سکتے ہیں، جیسے ہی وہاں پہنچے تو ان کا جسد خاکی وہاں سے نکال لیا گیا اور دوسرے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، ہم نے ایمبولینس کو کسی طرح پیچھا کیا اور وہاں پہنچ گئے، جس کی خبر ہم نے ساتھ ہی اپنے چینل کو دے دی۔
تقریباً دو گھنٹے سے زیادہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی میت دوسرے ہسپتال میں رہی اور پھر وہاں سے ان کے گھر منتقل کیا گیا، دوسرے ہسپتال سے لیکر ان کے گھر تک تمام راستے پر روٹ لگا دیا گیا تھا تاکہ رش میں نہ پھنسا جائے، انتہائی سخت سیکورٹی میں ہسپتال سے ان کے گھر جسد خاکی کو لایا گیا، ان کے گھر کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئیے گئے تھے ، کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ان کے گھر کے پاس نہیں جانے دیا جارہا تھا، ہم خود ان کے گھر سے تھوڑا دور بیٹھے رہے اور رپورٹ کیا، ساڑھے تین بجے کا وقت ان کی نماز جنازہ کا دیا گیا تھا ، جس کے لئیے لوگوں کی بڑی تعداد آئی تھی، جہاں جہاں نظر گھمائی وہاں وہاں لوگ ہی لوگ نظر آ رہے تھے، ہر کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے آخری دیدار کے لئیے آیا ہوا تھا۔
جیسے ہی نماز جنازہ کا وقت قریب آیا تو موسم میں بھی تبدیلی آتی گئی ، نماز جنازہ سے کچھ دیر پہلے ہی تیز بارش شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دن میں رات سا سماں ہو گیا تھا، ان کی تدفین تک بارش کا سلسلہ نہ تھما ، جیسے ہی تدفین ہوئی تو بارش رک گئی،ان کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کے جسد خاکی کو سخت سیکورٹی میں قبرستان لیکر آیا گیا ، اس دوران راستے کو عام ٹریفک کے لئیے بند کر دیا گیا تھا، تدفین کے وقت پاک فوج نے گارڈ آف آنر دیا اور پھر تدفین کی گئی، عام دنوں میں کام کر کے شام کو تھکاوٹ ہو جاتی تھی لیکن آج جب شام کو کام سے فارغ ہو تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ بھی نہیں کیا ، بلکل تازہ دم اور اگر کوئی اور کام دے تو وہ بھی کریں۔
آج پاکستان کے روح رواں اس دنیا سے کوچ کر گے جس سے ہر آنکھ اشک بار تھی، ہر کوئی دکھ اور افسوس کا اظہار کر رہا تھا کیوں جو ان کے ساتھ رویہ رکھا گیا شاید لوگ اس سے نا خوش تھے اور کچھ نہیں سکتے تھے ، لیکن آج اگر پاکستان ایک مضبوط اور محفوظ ملک ہے تو وہ صرف ڈاکٹر عبد القدیر خان کی وجہ سے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین۔