[pullquote]قندھار ميں دھماکہ، جانی و مالی نقصان[/pullquote]
جنوبی افغان شہر قندھار ميں آج جمعے کی نماز کے دوران شيعہ مسلمانوں کی ايک مسجد کو نشانہ بنايا گيا۔ دھماکے ميں اب تک تيس سے زائد افراد کی ہلاکت اور پچاس سے زائد کے زخمی ہونے کی تصديق کی جا چکی ہے۔ عينی شاہدين کے مطابق ايک سے زائد دھماکے ہوئے۔ جس وقت دھماکا ہوا، اس وقت ایک بڑی تعداد میں شیعہ مسلک کے افراد عبادت میں مصروف تھے۔ قندھار کی مقامی طالبان انتطامیہ نے بھی اس دھماکے کی تصدیق کر دی ہے۔ طالبان حکومت کی وزراتِ داخلہ نے بھاری انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے ابھی تک قبول نہیں کی لیکں نظریں جہادی دہشت گرد گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) کی جانب ہیں۔
[pullquote]کشمير ميں دو بھارتی فوجی ہلاک[/pullquote]
بھارت کے زير انتظام کشمير ميں مشتبہ عليحدگی پسندوں نے بھارتی فوج کے دو اہلکاروں کو ہلاک کر ديا ہے، جن ميں ايک افسر بھی شامل ہے۔ يہ واقعہ مینڈھر کے علاقے ميں پيش آيا جہاں گزشتہ دو ہفتوں ميں بائيس افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ جنوبی کشمير کے اس حصے ميں فوجی گھنے جنگل ميں باغيوں کے تعاقب ميں تھے، جب جمعرات کو يہ واقعہ پيش آيا۔ چند ايام قبل اسی جنگل ميں پانچ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ مسلح حملہ آوروں کے پچھلے ہفتے ايک حملے ميں سات شہری بھی ہلاک ہو گئے تھے، جن ميں کشمیر کی ہندو اقليت کے افراد بھی شامل تھے۔ جوابی کارروائی ميں بھارتی فوج آٹھ باغيوں کو ہلاک کر چکی ہے۔
[pullquote]غربت کی شرح، پاکستان بھارت سے بہتر پوزيشن ميں[/pullquote]
رواں برس جاری ہونے والی ورلڈ ہنَگر انڈکس کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تقریباً ایک ارب انسانوں کو بھوک کے مسئلے کا سامنا ہے۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر بھارت میں غربت کی سطح کو خطرناک قرار دیا گيا ہے اور انڈکس میں وہ اپنے پڑوسی ملکوں نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان سے بھی کافی نیچے آ چکا ہے۔ گزشتہ برس بھارت عالمی سطح پر 94ویں نمبر پر تھا تاہم اس برس بھوک کے لحاظ سے اس کی پوزیشن مزید خراب ہو گئی اور اب وہ اس انڈکس میں افغانستان یا پھر نائجیریا اور کانگو جیسے چند افریقی ممالک سے ہی آگے ہے۔ انڈکس کے مطابق پاکستان 92، بنگلہ دیش 76، سری لنکا 65 اور نیپال کی پوزیشن 76 ہے۔ بھارت 103 نمبر ہے۔
[pullquote]روس ميں مردم شماری شروع[/pullquote]
روس ميں آج سے مردم شماری کا عمل شروع ہو گيا ہے۔ يہ عمل چودہ نومبر تک جاری رہے گا اور ابتدائی نتائج آئندہ برس اپريل تک متوقع ہيں۔ سن 1991 ميں سابق سوويت يونين کے انہدام کے بعد سے روس کی آبادی ميں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ گزشتہ برس مجموعی آبادی ميں پانچ لاکھ سے زائد کی کمی نوٹ کی گئی تھی۔ مبصرين بچوں کی پيدائش کی کم شرح، غير موثر نظام صحت اور لوگوں کے وطن سے باہر جانے کو کليدی وجوہات قرار ديتے ہيں۔ کورونا کی وبا کی وجہ سے بھی کافی فرق پڑا ہے۔ روس ميں کووڈ انيس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ روس ميں آخری مرتبہ مردم شماری گيارہ برس قبل کرائی گئی تھی۔
[pullquote]بھارت نے غير ملکی سياحوں کو داخلے کی اجازت دے دی[/pullquote]
کورونا وائرس کے گرتے ہوئے کيسز کے تناظر ميں بھارتی حکومت نے غير ملکی سياحوں کے ليے ملک کے دروازے کھول دينے کا اعلان کيا ہے۔ وہ غير ملکی مسافر يا سياح، جنہیں کورونا سے بچاو کے دونوں ٹيکے يا مکمل خوراکيں لگ چکی ہيں، وہ اب آئندہ ماہ پندرہ نومبر سے بھارت جا سکتے ہيں۔ فوری طور پر يہ واضح نہيں کہ مسافروں و سياحوں کو قرنطينہ ميں رہنا پڑے گا يا نہيں۔ بھارت نے گزشتہ برس مارچ سے کورونا کی وبا کے تناظر ميں غير ملکی سياحوں کی آمد پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ بھارت ميں کورونا کی وبا کے عروج پر يوميہ چار لاکھ کيسز سامنے آ رہے تھے جبکہ اب يہ اوسط بيس ہزار سے بھی کم ہے۔
[pullquote]سعودی و امریکی وزرائے خارجہ کی ملاقات[/pullquote]
سعودی وزير خارجہ شہزادہ فيصل بن فرحان نے جمعرات چودہ اکتوبر کو واشنگٹن ميں اپنے امريکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ايران کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خيال کيا۔ دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ کا ایک انٹرویو فنانشل ٹائمز میں بھی شائع ہوا ہے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے بتايا ہے کہ ايران کے ساتھ بات چيت اچھے ماحول ميں ہوئی اور کئی ايسے امور سامنے آئے جن پر مکالمت کی گنجائش موجود ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ رياض حکومت ایران کے ساتھ با معنی مذاکرات کے معاملے ميں کافی سنجيدہ ہے۔ فوری طور پر يہ واضح نہيں کہ مشرق وسطی کے ان روايتی حريف ممالک کے مابين مذاکرات کا يہ دور کب اور کہاں منعقد ہوا۔
[pullquote]امريکا پھر سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن[/pullquote]
امريکا ساڑھے تين برس کے وقفے کے بعد پھر سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن بن گيا ہے۔ عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی نے جمعرات کو اٹھارہ نئے ارکان کا انتخاب کيا۔ امريکا کے علاوہ ارجنٹائن، بينين، کيمرون، اريٹريا، فن لينڈ، گيمبيا، ہنڈوراس، بھارت، قزاقستان، لتھوينيا، لکسمبرگ، ملائيشيا، مونٹينيگرو، پيراگوائے، قطر، صوماليہ اور متحدہ عرب امارات بھی ہيومن رائٹس کونسل کے ارکان منتخب ہوئے۔ کونسل کے منتخب ارکان کی تين سالہ مدت آئندہ برس جنوری ميں شروع ہو گی۔ امريکا نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور ميں اسرائيل پر تنقيد کے تناظر ميں اس کونسل سے عليحدگی اختيار کر لی تھی۔
[pullquote]سابق امريکی صدر بل کلنٹن ہسپتال ميں زير علاج[/pullquote]
سابق امريکی صدر بل کلنٹن ہسپتال ميں زير علاج ہيں۔ ان کے ترجمان کے مطابق سابق صدر انفيکشن کا شکار ہيں مگر انہيں کووڈ انيس نہيں ہوا ہے۔ کلنٹن اس وقت کیلیفورنیا یونیورسٹی کے اروين میڈیکل سینٹر ميں داخل ہيں۔ اطلاع ہے کہ وہ پيشاب کی نالی ميں انفيکشن کا شکار ہيں، جس کے اثرات اُن کے خون ميں بھی پھيل گئے ہیں۔ کلنٹن امريکا کے بياليسويں صدر تھے۔ بل کلنٹن وائٹ ہاؤس کی ملازمہ مونيکا لوئنسکی کے ساتھ رومانوی تعلق کی وجہ سے کافی مشہور ہوئے تھے، جس کے بارے ميں غلط بيانی پر انہيں سن 1998 ميں مواخذے کا بھی سامنا رہا تھا۔
[pullquote]درجنوں فٹ بال کھلاڑی افغانستان سے قطر پہنچ گئے[/pullquote]
اعلیٰ قطری حکام نے تصديق کر دی ہے کہ افغانستان کے ايک سو سے زائد فٹ بال کھلاڑی کابل سے ايک پرواز پر قطر پہنچ چکے ہيں۔ اسسٹنٹ وزير خارجہ للواح الاختر نے ٹوئٹر پر اپنے ايک پيغام ميں بتايا کہ جمعرات کی شب آٹھواں خصوصی جہاز دوحہ پہنچا، جس پر يہ تمام کھلاڑی سوار تھے۔ مجموعی طور پر جہاز ميں 357 افراد تھے۔ فيفا کی جانب سے فی الحال فٹ بالرز کے وہاں سے نکلنے کی تصديق نہيں ہو پائی ہے تاہم برطانوی ميڈيا نے يہ تصديق کر دی ہے کہ افغانستان کی خواتين فٹ بال ٹيم کے بيس ارکان اس پرواز پر سوار تھے۔ طالبان نے اگست کے وسط ميں افغانستان کا کنٹرول سنبھال ليا تھا۔ تب سے سے غير ملکيوں اور افغان شہریوں کے انخلاء کا سلسلہ جاری ہے۔
[pullquote]اسرائيلی فوج کی فائرنگ سے فلسطينی لڑکا ہلاک[/pullquote]
اسرائيلی فوج نے ايک فلسطينی لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کر ديا ہے۔ جمعرات کی شب جاری کردہ فوجی بيان کے مطابق مذکورہ فلسطينی لڑکا ايک سرنگ کی جانب جانے والی سڑک پر بارود سے بھری بوتليں پھينک رہا تھا، جس سے ڈرائيورز کو خطرہ تھا اور اسی کے رد عمل ميں اس کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی ميں ايک اور لڑکا زخمی بھی ہوا ہے۔ دوسری جانب فلسطينی حکام نے بتايا ہے کہ بيت جالا ميں اسرائيلی فوج کے ايک عسکری آپريشن کے دوران جھڑپيں شروع ہو گئيں۔ فی الحال اس بارے ميں مزيد تفصيلات دستياب نہيں۔
[pullquote]لبنان ميں جھڑپيں، ذمہ دار کون؟[/pullquote]
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں 14 اکتوبر جمعرات کے روز ہونے والی ہلاکت خیز جھڑپوں اور فائرنگ کے واقعات کے لیے شیعہ گروپ حزب اللہ اور دائیں بازو کی سخت گیر مسیحی جماعت لبنانیز فورسز ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ جمعرات کو مظاہروں کے دوران ہونے والی فائرنگ کے متعدد واقعات میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 30 دیگر زخمی ہوئے۔ حزب اللہ نے مظاہروں کا اہتمام اس جج کے خلاف کیا تھا، جو گزشتہ برس بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے بہت بڑے اور شدید تباہ کن دھماکے کی تفتیش کر رہے ہیں۔ دھماکے کی تفتیش جاری ہے اور ابھی تک کسی کو بھی حتمی طور پر اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔تاہم حزب اللہ اور امل گروپ نے انکوائری کمیٹی کے سربراہ جج طارق بطر پر جانب داری کا الزام عائد کیا ہے۔
[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو[/pullquote]