اتوار : 17 اکتوبر 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں ایک بار پھر اضافہ[/pullquote]

جرمنی میں اس سال ستمبر کے آخر تک سیاسی پناہ کے متلاشی ایک لاکھ سے زائد تارکین وطن نے پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں۔ یہ تمام غیر ملکی پہلی مرتبہ پناہ کی درخواستیں دینے والے تھے۔ پناہ گزینوں کے امور کے نگران وفاقی جرمن دفتر کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برس کے پہلے نو ماہ کے مقابلے میں پینتیس فیصد زیادہ تھی۔ اس سال جنوری سے ستمبر تک کُل ایک لاکھ دو سو اٹھہتر تارکین وطن نے جرمنی میں پناہ کی باقاعدہ درخواستیں جمع کرائیں۔ اس سے پہلے گزشتہ کئی برسوں میں یہ تعداد مسلسل کم ہوتی رہی تھی۔ پناہ گزینوں سے متعلق یورپی ادارے کے ڈیٹا کے مطابق جرمنی اس سال کے پہلے نو ماہ کے دوران یورپی یونین کا وہ ملک بن گیا جہاں پناہ کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دی گئی۔ جرمنی کے بعد چون ہزار درخواستوں کے ساتھ فرانس دوسرے اور بیالیس ہزار درخواست دہندگان کے ساتھ اسپین تیسرے نمبر پر رہا۔

[pullquote]خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں نمازیوں کو گنجائش کے مطابق آنے کی اجازت مل گئی[/pullquote]

آج اتوار سترہ اکتوبر سے سعودی عرب میں مسجدالحرام اور مسجد نبوی میں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیاں اور سماجی فاصلوں کی شرط ختم ہو گئی ہیں۔ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک نافذ رہنے والی یہ پابندیاں اب اٹھا لی گئی ہیں۔ آج اتوار کے دن پہلی بار دوبارہ ہزارہا نمازیوں نے وہاں فجر کی باجماعت نمازیں کندھوں سے کندھے ملا کر پڑھیں۔ سعودی حکام نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ حرمین کو ایسے تمام مسلمانوں کے لیے کھول دیا جائے گا، جن کی مکمل کورونا ویکسینیشن ہو چکی ہو۔

[pullquote]ساٹھ برس قبل فرانس نے الجزائر کے باشندوں کے خلاف ناقابل معافی جرائم کا ارتکاب کیا، صدر ماکروں[/pullquote]

پیرس میں 1961ء میں کیے جانے والے الجزائر کے باشندوں کے قتل عام کے ساٹھ برس پورے ہونے کے موقع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ان واقعات کو ’ناقابل معافی‘ جرائم قرار دیا۔ صدارتی رہائش گاہ ایلیزے پیلس کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر ماکروں نے کہا کہ فرانسیسی جمہوریہ کے لیے یہ جرائم ’ناقابل معافی‘ ہیں۔ ماکروں ایسے پہلے ملکی صدر ہیں، جنہوں نے پیرس کے نواح میں کولمبس نامی صنعتی شہر میں اس حوالے سے منعقدہ ایک یادگاری تقریب میں حصہ بھی لیا۔ 17 اکتوبر 1961ء کو پیرس میں الجزائر سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی بڑی تعداد نے فرانسیسی نو آبادیاتی حکمرانی کے خاتمے اور الجزائر کی آزادی کے حق میں مظاہرے کیے تھے۔ ان مظاہرین کے خلاف پولیس کریک ڈاؤن میں ہلاکتوں کی تعداد مؤرخیں کے مطابق سینکڑوں میں رہی تھی۔

[pullquote]جنوبی بھارت میں شدید بارشیں: آٹھ افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ[/pullquote]

جنوبی بھارتی ریاست کیرالہ میں شدید بارشوں کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہو گئے۔ ہفتے کو شروع ہونے والی مسلسل بارشیں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ بنیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرین کی مدد کے لیے ریسکیو آپریشن آج اتوار کے روز بھی جاری رہے۔ کئی علاقوں میں ایمرجنسی نیشنل فورس اور فوج کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ فوجی دستے خاص طور پر دو اضلاع میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ زیادہ تر افراد وہیں لاپتہ ہوئے ہیں۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے مطابق مرکزی حکومت کیرالہ میں صورت حال پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہے اور اس ریاست کی مرکز کی طرف سے ہر ممکنہ مدد کی جائے گی۔

[pullquote]آئی ایس ایس پر فلم بندی کے بعد روسی فلمی ٹیم کی زمین پر واپسی[/pullquote]

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن آئی ایس ایس پر فلم بندی کے بعد ایک روسی فلمی ٹیم بحفاظت واپس زمین پر پہنچ گئی ہے۔ بارہ دن خلائی اسٹیشن میں گزارنے کے بعد اداکارہ جولیا پےریسلڈ اور ڈائریکٹر کلِم شیپینکو کو لے کر روسی خلائی کیپسول وسطی ایشیائی ریاست قزاقستان میں زمین پر اترا۔ یہ خلا میں کسی فلم کی پہلی شوٹنگ تھی۔ اس حوالے سے روس امریکا پر سبقت لے گیا ہے۔ اس منصوبے کے خبر عام ہونے سے کچھ ہی عرصہ قبل امریکی خلائی ادارے ناسا نے ہالی وُڈ اسٹار ٹام کروز کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر فلم شوٹنگ کا اعلان کیا تھا۔

[pullquote]ناروے میں ہلاکت خیز حملہ کرنے والے ملزم کے مسلم مذہبی محرک سے متعلق شبہات میں اضافہ[/pullquote]

ناروے کے شہر کونگزبرگ میں گزشتہ ہفتے تیر کمان سے حملہ کر کے پانچ افراد کو ہلاک کرنے والے مشتبہ ملزم کے اس اقدام کے مسلم مذہبی محرکات سے متعلق شبہات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے اس واقعے کی تفتیش کرنے والے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ 37 سالہ ملزم نے درحقیقت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اب اس کے مسلم انتہا پسندانہ رجحانات کا حامل ہونے کے بجائے ذہنی طور پر بیمار ہونے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ یہ ملزم پیدائشی طور پر ڈنمارک کا شہری ہے۔ اس نے گزشتہ بدھ کی شام ناروے کے شہر کونگزبرگ میں تیر کمان سے حملہ کر کے پانچ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ مرنے والوں کی عمریں 50 اور 70 برس کے درمیان تھیں۔ ان میں سے ایک مرد تھا اور باقی چار خواتین، جن میں سے ایک جرمن تھی۔

[pullquote]پوپ فرانسس کا ہر کسی کے لیے طے شدہ بنیادی آمدنی اور مختصر اوقات کار کا مطالبہ[/pullquote]

کیتھولک مسیحییوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے ہر کسی کے لیے طے شدہ بنیادی آمدنی اور مختصر اوقات کار متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی تحریکوں کے چوتھے عالمی اجتماع کے موقع پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں پوپ فرانسس نے بین الاقوامی سطح پر کام کے اوقات مختصر کیے جانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں یہ اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ پاپائے روم کے مطابق بنیادی آمدنی تمام انسانوں کی بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی کی ضامن ہو گی اور کارکنوں کے اوقات کار میں کمی سے روزگار کے مواقع میں اضافہ کیا جا سکے گا۔ پوپ فرانسس نے اس امر کی مذمت کی کہ بہت سے انسان تو بہت زیادہ محنت کرنے پر مجبور ہوں اور کارکنوں کی بہت بڑی تعداد کو روزگار دستیاب نہ ہو۔

[pullquote]یورپ میں توانائی کے بحران میں شدت کے خلاف انتباہ[/pullquote]

یورپی یونین کے روزگار اور سماجی حقوق کے کمشنر نکولاس شمٹ نے یورپ میں توانائی کے بحران میں اضافے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں قیمتوں میں اضافے کے باعث توانائی کی شدید قلت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے ساتھ گفتگو میں نکولاس شمٹ نے کہا کہ پہلے ہی لاکھوں باشندے توانائی کے بحران کا شکار ہیں اور اب یورپی یونین میں ان متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نکولاس شمٹ نے مزید کہا کہ یورپی کمیشن اس بلاک میں شامل تم رکن ممالک میں توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محدود رکھنے میں مدد کر سکتا ہے تاہم بنیادی ذمہ داری قومی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔

[pullquote]روم میں نئے فاشسٹوں کے خلاف بڑے پیمانے پر عوامی مظاہرے[/pullquote]

اطالوی دارالحکومت روم میں پچاس ہزار سے زائد افراد نے ملک میں نئے فاشسٹ عناصر کے خلاف مظاہرے کیے اور انتہا پسند پارٹی ’فورسا نووا‘ پر پابندی عائد کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں کے منتظمین کے مطابق شرکاء کی تعداد تقریباﹰ دو لاکھ رہی۔ مظاہرین نے ایسے بینرز اُٹھا رکھے تھے، جن پر ’’فاشزم، دوبارہ کبھی نہیں‘‘ جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ ایک ہفتہ قبل ’فورسا نووا‘ نامی پارٹی کے اراکین نے اپنے دفاتر میں یا کام کی جگہوں پر کورونا وائرس کی وبا کے باعث پابندیوں میں توسیع کے خلاف پرامن احتجاج کے بعد ملکی ٹریڈ یونین فیڈریشن CGIL کے صدر دفتر پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے کے بعد پولیس نے کئی حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا تھا، جن میں اس پارٹی کے سرکردہ نمائندے بھی شامل تھے۔

بشکریہ ڈی ڈبلیو اردو

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے