پیار کا مہینہ

رواں ماہ کو پیارکامہینہ بھی کہا جاتا ہے،اس میں عشق و محبت کا جذبہ اپنے عروج پر ہوتا ہے اور ہر طرف پیار کے نغمے اور محبت کے سر سنائی دیتے ہیں،ہر عاشق اپنے اپنے انداز میں اپنے محبوب کی تعریف و توصیف مگن ہوتا ہے،کہیں منظوم کلام تخلیق ہو رہا ہے اور کہیں نثر میں ہی شوق و محبت کا اظہار ہو رہا ہے،غرض اس موسم میں ہر طرف بہار ہی بہار دکھائی دیتی ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ اس مہینے کا نام ہی ربیع الاول ہے یعنی پہلی بہار(ان قارئین سے معذرت خواہ ہوں جو اس مہینے سے مراد دسمبر اور پیار سے کچھ اور مرادلے رہے تھے)

یہ مہینہ اس مبار ک ہستی کی ولادت باسعادت کا ہے جو آیا ہی محبتیں بانٹنے کے لیے، جس نے اپنی مبارک زبان سے خود ہی اپنی آمد کا مقصد یہ بیان کیا کہ "بعثت لاتمم مکارم الاخلاق” میری آمد و بعثت کا مقصد ہی نفرتوں کو ختم کر کے اخلاق عالیہ کی تکمیل کرنا ہے۔آپ ﷺ کی نے نہ صرف زبانی یہ تعلیمات دیں بلکہ عملی نمونہ بھی بن کر دکھایا،فتح مکہ کے موقع پر بڑے بڑے دشمنوں کو معاف فرما دیا،کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کے لیے چلے گئے،جانی دشمنوں میں مواخآت قائم کر کے انہیں بھائی بھائی بنا دیا،غلاموں کو تعلیم دے کر سالار بنا دیا اور اتحاد انسانیت کا ایسا آفساقی درس دیا کہ فرمایا : کسی عربی کو کسی عجمی پر خون و رنگ کی بنیاد پر کوئی فوقیت حاصل نہیں،برتری کا معیار تقوی اور داخلی نیکی ہے.

اخلاق عالیہ کیا ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بلند اخلاق یہ تین چیزیں ہیں:
صل من قطعک،
اعط من حرمک،
واعف عمن ظلمک،
کہ جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو،
اور جو تمہیں تمہارے حق سے محروم کرے تم اسے بھی عطا کرو
اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو،

اگر ہم ان تین صفات کو مد نظر رکھ کر اپنا جائزہ لیں ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ہم اخلاق کے پست ترین درجے پر ہیں، ،کیا ہم اپنے قرابت داروں اور متعلقین کی ناراضی پر انہیں منانے میں پہل کرتے ہیں؟

ہماری طرف سے پہل ہمیشہ ناراض ہونے اور تعلق توڑنے پر ہی ہوتی ہے نہ کہ جوڑنے پر،صلہ رحمی کرنے والوں کے ساتھ صہر رحمی کرنے کے ساتھ ساتھ قطع رحمی کرنے والوں کے ساتھ بھی محبت سے پیش آنا ہمارے دل کی صفائی اور اجلے پن کو ظاہر کرتا ہے.

ایک دفعہ ایسا کر کے دیکھیے، وہ آپ کا دوست اور قدر دان بن جائے گا ،دوسرا کیا ہم اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے یاحق دبانے والے کو کبھی تحفہ،گفٹ دیتے ہیں؟

تحفہ کو چھوڑیے کیاایسے شخص کو اس کا حق بھی دینے کے لیے ہم تیار ہوں گے؟ اگر کوئی بخل سے کام لیتا ہے تو آپ سخاوت کو اپنا شعار بنائیے اس سے آپ کی روح کو تسکین پہنچے گی ،اور کیا ایسا ممکن ہے کہ ظلم و زیادتی کرنے والے کو ہم معاف کر دیں؟

جب تک بدلہ لے کر کسی کو ہم زیر نہ کر لیں تب تک ہمارے اندر سے انتقام کی آگ نہیں بجھتی، بلکہ انتقام لینے کےبعد بھی ہمارے کلیجے ٹھنڈے نہیں ہوتے اور ریشہ دوانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہم شروع کر دیتے ہیں،اگر آپ معاف کر دیں تو سمجھ لیں کہ آپ نے دشمن کا ہتھیار توڑ دیا ہے اور وہ اپنی زیادتی پر شرمندہ ہو گا،معاف کرنے والا ہی اصل فاتح ہے ، یہ تو تھی اخلاق کی بلندی،اگر ہم سب آخری درجہ کے اخلاق کی پابندی ہی کر لیں تو بھی ہمارا معاشرہ امن وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے،اور اخلاق کا آخری درجہ یہ ہے کہ ہم اگر ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑنے میں پہل نہیں کر سکتے تو کم از کم تعلق توڑنے کی ابتدا بھی نہ کریں اور صلہ رحمی کو قائم رکھیں،

اگر ہمارا ظرف اتنا نہیں کہ ہم محروم کرنے والے کو بھی عطا کریں تو اتنا تو ہمیں لازمی کرنا چاہیے کہ کسی کو عطا سے محروم نہ کریں اور کسی دوسرے کا حق نہ دبائیں،اگر ہمیں کسی کو معاف کرنے کا یارا نہیں اورکسی کی زیادتی کو نہیں بھلا پاتے تو اتنا تو کرسکتے ہیں کہ ظلم و زیادتی سے گریز کریں اور کسی پر ناجائز ہاتھ نہ اٹھائیں؟کیونکہ حدیث کی رو سے مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ،اگر آج کے موقع پر ہم ان تین باتوں کو اپنانے کا عزم کر لیں تو ہمارا معاشرہ سب سے اعلی معاشرہ بن سکتا ہے،

ہر سال ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یہی پیغام دینے کے لیے آتا ہے،

پیار و محبت کا پیغام۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے