عالمی برادری سیلاب سے متاثر پاکستان کی مدد اورقرضوں میں چھوٹ دے :انتونیو گوتریس

اسلام آباد / شرم الشیخ: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کی بھرپور مدد کرے جب کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضوں میں چھوٹ دیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مصر میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق کوپ27 سربراہی کانفرنس کے موقع پر مختلف سربراہان حکومت اور اہم عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں دوطرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق کانفرنس کے موقع پر سیلاب اور متاثرین کی مدد کیلیے کاوشوں پر شہباز شریف مرکز نگاہ بن گئے، عالمی رہنمائوں نے وزیراعظم کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں مسلسل موجودگی کو غیرمعمولی جذبہ قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شہباز شریف سے ملاقات کے بعد پاکستان پویلین میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کی بھرپور مدد کرے، پاکستان کو سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے، عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضوں میں چھوٹ دیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث جو تباہی پاکستان میں ہوئی وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گی، سیلاب سے ہمارے سماجی و اقتصادی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے، دنیا کی طرف سے تباہی اور نقصانات کا ازالہ واحد امید ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل نے کہا سیلاب سے پاکستان میں فصلوں، لوگوں کے روزگار اور نظام زندگی کو شدید نقصان پہنچا اور لوگوں کا سب کچھ تباہ ہو گیا، پاکستان عالمی برادری کی بھرپور مدد کا مستحق اور موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بحالی اور تعمیرنو کے عمل کیلئے بہت کچھ کرنیکی ضرورت ہے، تباہی اور نقصان کے ازالہ کے حوالہ سے کوپ۔27 کو واضح روڈ میپ بنانا چاہئے، پاکستان جیسے متاثرہ ممالک کو قرضوں کی واپسی کے حوالے سے بحالی اور تعمیرنو کی شکل میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو قرضوں میں چھوٹ دیں، پاکستان سمیت قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کو رعایتی فنانسنگ ہونی چاہئے، امید ہے کہ جی۔20 ممالک اس حوالہ سے اقدامات کریں گے۔

شہباز شریف نے کہا عالمی برادری کے طور پر ہم ایک نئے گرین ڈیل کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں سے واپس جانا ناممکن ہوگا، آپ جانتے ہیں کہ پاکستان جیسے کچھ ممالک زیادہ متاثر ہوں گے۔ دنیا کے نقصانات اور تباہی کے ازالے کیلئے اس طرح کی کانفرنسیں واحد امید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں افراد کو موسم سرما پناہ اور معاش کے بغیر بسر کرنا ہوگا۔ خواتین اور بچے اب بھی اپنی بنیادی ضروریات کے تحفظ کیلئے ہماری طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ دیہات بہتر مستقبل کے تحفظ کے منتظر ہیں اور ایسی بحالی کے لئے وسائل کی ضرورت ہے جن کی ہم ضمانت دینے سے قاصر ہیں، ملک کے جنوبی علاقوں میں کھڑا پانی بڑی بڑی جھیلوں کا منظر پیش کر ر ہا ہے جہاں پر لاکھوں افراد کو فصلوں سے خوراک حاصل ہوتی رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث ہمارا 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ ہماری بحالی کا سفر بڑھتے ہوئے قرضے، توانائی کی عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، موافقت فنڈ تک حقیقی رسائی نہ ہونے سے متاثر ہوگا۔ ہم نے قومی امدادی کوششوں کیلئے تمام دستیاب وسائل استعمال کئے ہیں اور بجٹ کی تمام ترجیحات کو متعین کیا ہے جن میں ترقیاتی فنڈز بھی شامل ہیں لیکن لاکھوں افراد کو رہائش اور خوراک کی فراہمی کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا پڑیگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے متاثرہ ملک ہونے کے ناطے ہمارا مقصد ہے کہ کلائمیٹ فنانس کے اہداف حاصل کئے جائیں، ہم موسمیاتی ایجنڈے کے حوالے سے نقصان کے ازالے کے خواہاں ہیں اور پرامید ہیں کہ تمام ممالک کوپ 27 کے اجلاسوں میں اسی جذبے کے ساتھ شریک ہوں گے کہ سب کے لئے موسمیاتی انصاف کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو مکمل تباہی کی طرف نہیں لے جانا چاہئے اور ہمیں ان حالات میں ایک عزم کے طور پر منصوبہ بندی کرنی چاہئے کیونکہ جو کچھ پاکستان میں ہوا ہے وہ پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔

قبل ازیں انتونیو گوتریس سے ملاقات میں وزیر اعظم نے کہا پاکستان کو بحالی اور تعمیر نو کے بہت بڑے کام کے لیے پائیدار ترقی کے ماڈل کی بنیاد پر سرسبز بنانے کیلئے خاطر خواہ بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان تمام ترقیاتی شراکت داروں کو اکٹھا کرنے کیلئے ایک بین الاقوامی ڈونرزکانفرنس بلانے کا منتظر ہے۔

وزیراعظم عراق کے صدر عبداللطیف راشد، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، انڈونیشیا کے انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو، لبنان کے وزیراعظم نجیب میکاتی نے بھی الگ الگ ملاقات کی۔

شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خوردنی تیل کی فوری ترسیل پر آپ کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاجکستان کے صدر رواں سال دسمبر میں پاکستان آئیں گے۔ موسمیاتی تبدیلیوںکے منفی اثرات کم کرنے کیلئے اجتماعی کوششیں لازم ہیں۔ آج ہمیں صدی کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، آنے والی نسلوں کیلئے صاف ستھرا اور سرسبز و شاداب ماحول چھوڑ کر جانا ہماری ذمہ داری ہے۔کوپ27 کو ہر قیمت پر کامیاب بنانا ہو گا۔

آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا سے ملاقات میں شہباز شریف نے کہا پاکستان آئی ایم ایف کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کو پورا کیا جائے گا۔ سیلاب متاثرین کی فوری مدد اور بحالی کے لئے بجٹ تخمینوں میں تبدیلی لائی گئی ہے، کورونا اور عالمی کساد بازاری کے بعد سیلاب کی صورتحال کے پاکستان کی معاشی بحالی کی رفتار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، عوام کی جان بچانا اور متاثرین سیلاب کی بحالی پہلی ترجیح ہے۔

یورپی یونین کے صدر چارلس مائیکل اور وزیر اعظم نے ملاقات میں اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات تمام ممالک کے اتحاد کے متقاضی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف عالمی اتحاد درکار ہے، فیٹف کی گرے لسٹ سے پاکستان کے نکلنے میں یورپی یونین کے تعاون کو سراہتے ہیں، پاکستان اور یورپی یونین میں کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ ماضی کے اعتماد اور تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہشمند اور منتظر ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

یورپی یونین کمشنر ارسلا وون ڈیر لین سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ وزیراعظم اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان کی ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے باہمی مفاد کے مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنا صرف ترقی پذیر ممالک کے بس میں نہیں، عالمی برادری کو مل کر کرہ ارض کی بقا کا مشترکہ چارٹر بنانا ہوگا۔

شہباز شریف اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیث نے ملاقات میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچائو کیلئے بھرپور تعاون پر اتفاق کیا۔ ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے آذربائیجان کے ’’یوم فتح‘‘ پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف اور عوام کو مبارکباد دی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے