[pullquote]پرویز الہی کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے روکنے کی استدعا مسترد[/pullquote]
گجرات: پولیس نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کی رہائشگاہ پر ایک بار چھاپہ مارا ہے۔
میڈیاکے مطابق پرویز الٰہی کے گھر پولیس کی جانب سے یہ چوتھا چھاپہ مارا گیا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے پرویز الہٰی کی رہائشگاہ کو حصار میں لیتے ہوئے رہائشگاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
ترجمان کنجاہ ہاؤس نے بتایا کہ پولیس اینٹی کرپشن کے مقدمے میں کنجاہ ہاؤس آئی ہے تاہم چھاپے کے وقت گھر میں نہ ہی پرویز الٰہی اور نہ ہی دیگر اہلخانہ موجود ہیں سوائے ملازمین کے۔
تحریک انصاف کےرہنما مونس الہٰی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کنجاہ ہاوس چھاپے پر ردعمل دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس کے پاس چھاپے کیلئے ابھی تک کوئی سرچ وارنٹ موجود نہیں، اس کے باوجود میں نے کہا ہے کہ انہیں رسائی دی جائے۔
دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چھاپے میں سٹی اور صدر سرکل کے 15 سے زائد تھانوں کی پولیس نفری شامل ہے جس کی قیادت ڈی پی او احمد نواز شاہ کررہے ہیں جبکہ چھاپہ اینٹی کرپشن کے اہلکاروں کی مدعیت میں درج ہونیوالے مقدمات میں مارا گیا ہے۔
[pullquote]پرویز الہی کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے روکنے کی استدعا مسترد[/pullquote]
لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعلی پنجاب پرویز الہی کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے فوری روکنے کی استدعا مسترد کردی۔
ہائی کورٹ میں پرویز الہی کی رہائش گاہ پر پولیس اور اینٹی کرپشن کے آپریشن کے خلاف پرویز الٰہی کے بیٹے راسخ الہی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پولیس اور اینٹی کرپشن کی جانب سے روز چھاپے مارے جار رہے ہیں، ہر روز نئی ایف آئی آر درج کرکے ریڈ کر دیا جاتا ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کرنے اور نئے مقدمے درج کرنے سے روکا جائے ۔
جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیئے کہ کس قانون کے تحت عدالت گرفتاری سے روک سکتی ہے ، جب تک رپورٹ نہیں آتی کیسے آپکی بات مان سکتے ہیں، پولیس کو اپنا زور لگانے دیں جب معاملہ عدالت آئے گا تو دیکھ لیں گے۔
عدالت نے آئی جی اور ڈی جی اینٹی کرپشن کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ڈی جی اینٹی کرپشن اور آئی جی پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
عدالت نے پرویز الہی کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے روکنے کی فوری استدعا مسترد کردی۔