پاکستان میں 72 گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد موبائل انٹرنیٹ سروس بحال کردی گئی، یوٹیوب، ٹویٹر، فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک عوام کی رسائی ہوگئی۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے بعد ملک بھر میں موبائل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک عوام کی رسائی روک دی گئی تھی۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق وزارت داخلہ کی ہدایت پر موبائل انٹرنیٹ، یوٹیوب ، ٹویٹر اور فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس تک پاکستانی عوام کی رسائی روک دی گئی تھی۔
انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی وجہ سے ملک میں موبائل کمپنیوں اور فری لانسنگ کی صنعت کو بڑا دھچکا لگا تھا جب کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش پر امریکا سمیت کئی ممالک اور عالمی اداروں نے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔
[pullquote]احتجاج، توڑ پھوڑ، انٹرنیٹ بندش سے قومی خزانے کو ساڑھے تین ارب روپے کا نقصان[/pullquote]
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کارکنوں کی جانب سے ملک بھر میں کئے جانے والے احتجاج کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراو اور حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کی بندش سے تین دن کے دوران قومی خزانے کو مجموعی طور پر ساڑھے تین ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا ہے۔
کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے سے ایف بی آر کو بھی ریونیو کی مد میں 2 ارب روپے کے لگ بھگ ریونیو کا نقصان ہوا ہے البتہ پاکستان سافٹ وئیر ایکسپورٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر کا ایک دن کا کاروبار 12 ملین ڈالر ہے اور تین دن میں آئی ٹی سیکٹر کو 10 ارب کا نقصان پہنچا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کارکنوں کے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو سے سرکاری املاک کو پہنچائے جانے والے نقصان کی مد میں ایک ارب 14 کروڑ کا نقصان ہوا ہے جبکہ ٹیلی کام سیکٹر کو پونے 2 ارب کے لگ بھگ نقصان کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ٹیلی فون، انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا کی بندش سے تقریبا 60 کروڑ روپے ٹیکس ریونیو کا نقصان ہوا۔ احتجاج کے باعث ملک بھر میں لاکھوں دیہاڑی دار مزدور طبقہ روزگار سے محروم رہا جبکہ ٹرانسپورٹ بند ہونے سے ٹرانسپورٹرز کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔