اسلام آباد ہائیکورٹ کا ربیعہ شہریار آفریدی کو رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی کی اہلیہ ربیعہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

ہائی کورٹ میں ایم پی او کے تحت شہریار آفریدی کی اہلیہ کی گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ اسلام آباد پولیس نے جیل سے ربیعہ شہریار کو ہائی کورٹ میں پیش کیا۔ آئی جی اسلام آباد بھی پیش ہوئے۔

عدالت نے پوچھا انھوں نے کیا کیا ، کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟۔ آئی جی نے جواب دیا کہ معلومات کے مطابق انکے شوہر اور یہ جی ایچ کیو پر حملے میں ملوث ہیں۔
عدالت کے استفسار پر آئی جی نے بتایا کہ تھری ایم پی پبلک آرڈر ہے جس میں نظر بندی ہوتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ ایک ہاؤس وائف خاتون ہیں۔ آئی جی نے جواب دیا کہ ہم بھی بہنوں اور ماؤں کی عزت کرتے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ یہ عدالتوں کے آرڈرز کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت جس کو رہا کرے اسے دوسرے چکروں میں اگر گرفتار کیا تو اس کے نتائج ہونگے، ہماری اس عدالت کا کوئی آرڈر ایسے نہیں ہوگا ، آئی جی صاحب میں آپ کو بتا رہا ہوں ، اس عدالت کی خلاف ورزی اگر کی گئی تو سخت کارروائی ہوگی ، یہ عدالت جو آرڈر کرے گی اس پر عمل درآمد ہوگا اگر گڑ بڑ ہوئی تو آئی جی صاحب ٹھیک نہیں ہوگا۔

ربیعہ شہریار نے روسٹرم پر آکر کہا کہ میرا کوئی سوشل اکاؤنٹ نہیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آئی جی صاحب اس کیس میں آپ کو گڈ ٹو سی یو نہیں کہہ سکتے ، ایک خاتون خانہ کو اٹھایا گیا ہے ،اس لئے گڈ ٹو سی یو نہیں کہہ سکتے، مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ حکومت میں بھی یہ سب ہوتا رہا۔

آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ خاتون کیخلاف شواہد موجود ہیں ،یہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں ، ہم نے دیکھا ہے کہ گھریلو خواتین نے اپنے شوہر بھی قتل کئے ہیں ، گھریلو خواتین کچھ اور سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتی ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں انڈر ٹیکنگ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ ہماری بھی مائیں بہنیں ہیں ، اس عدالت کے آرڈرز کے ساتھ کوئی کچھ کرے گا تو اس کے اثرات بھگتنا ہوں گے، ہماری عدالت کی اگر خلاف ورزی ہوئی تو سنگین نتائج ہونگے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے