سکوت کی صدا

اتوار کا دن تھا، اور دن کے اواخر میں عصر کی اذان کی صدا فضامیں گونجی۔ میں نے وضو کیا اور نماز پڑھنے بیٹھ گیا۔ نماز ختم کی تو موبائل پر ابو کی کال آ گئی۔ میں نے کال اٹھائی تو ابو کی آواز میں عجب سی گھبراہٹ محسوس ہوئی،
"بیٹا، تمہاری امی چھت سے گر گئی ہیں، ہم بٹخیلہ ہسپتال جا رہے ہیں۔”
اس کے بعد کال کٹ گئی۔….

میری روح میں کائنات کا سارا اضطراب بھر گیا۔ دل میں امی کی سلامتی کی دعائیں اٹھنے لگیں، مگر کچھ نہ جانتے ہوئے دل کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی۔ ہر لمحہ میری جان کھینچتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ابو کی دوبارہ کال آئی، تو میرا دل بیٹھنے لگا،

"ہم پشاور آ رہے ہیں، تمہاری امی بے ہوش ہے۔”

بس یہ جملہ کافی تھا جس کے بعد مجھے یوں لگا جیسے میرا دل کسی نے ایک تاریک وادی میں دھکیل دیا ہو۔ میں فوراً اپنے بھائی کے ساتھ پشاور ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا۔

ہسپتال کے باہر رات کے سکوت میں بھی ایک عجیب سی ہلچل تھی۔ جب ہم وارڈ میں داخل ہوئے اور امی کو دیکھا: تو ان کے سر پر سفید پٹی بندھی ہوئی تھی، وہ بند آنکھوں سے لمبی اور بھاری سانسیں لے رہی تھیں۔ یہ منظر میری زندگی کا سب سے تاریک لمحہ تھا۔ دل و دماغ میں مسلسل ایک تناؤ محسوس ہو رہا تھا، جیسے کوئی گہرا خلا میرے وجود کو نگل رہا ہو۔

ڈاکٹرز جلدی جلدی امی کی طرف لپکے اور ہمیں ذرا دور ہونے کو کہا۔ اس وقت پہلی بار ابو پر نظر پڑی تو ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے نظر آئے، ان کی آنکھوں میں موجود خوف اور بے بسی نے ان کے چہرے پر تھکن کا غبار نمایاں کیا تھا اور یوں لگ رہا تھا جیسے وہ ایک بھاری پہاڑ اٹھے کھڑے ہوں۔

ان کو دیکھ کر میری روح کانپ اٹھی۔ امی کے جسم سے بہتا خون، ان کی خاموشی، اور ڈاکٹرز کی سرگوشیاں دل میں عجیب سا خوف پیدا کر رہی تھیں۔ ہم وہاں بےبس کھڑے تھے، وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا۔ دل میں ایک سوال گونج رہا تھا: کہ یہ سب حقیقت ہے یا میں کوئی خوفناک خواب دیکھ رہا ہوں؟

رات کے بارہ بج چکے تھے، اور امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی تھی۔ استاد محترم اور دیگر رشتہ دار بھی ہسپتال پہنچ چکے تھے، مگر ہم سب خاموش تھے۔ وقت کی دیواریں ہمیں قید کر رہی تھیں۔

اب رات کی تاریکی میں تنہائی اور خوف بڑھتا جا رہا تھا کہ ایک نرس آئی اور کہنے لگی،
"آپ کی امی کی حالت بہت خراب ہے، دعاؤں کی ضرورت ہے۔”

اس لمحے جیسے دل کی تمام دیواریں گر گئیں۔ اس کی باتوں میں ایک تلخی تھی جو میری روح میں اتر گئی۔ دعائیں کرتے کرتے اذانِ فجر کی آواز سنائی دی۔ میں اور چچا مسجد چلے گئے، نماز ادا کی، اور امی کی سلامتی کی دعائیں مانگیں۔ ہر دعا کے ساتھ میرا دل کسی معجزے کی توقع کر رہا تھا۔

واپس وارڈ میں پہنچے تو امی کی حالت مزید بگڑ چکی تھی۔ نرسیں، ڈاکٹرز، سب دوڑ رہے تھے، جیسے زندگی اور موت کی کشمکش میں کوئی جنگ چھڑ چکی ہو۔ میں نے نرس کو بلایا، ڈاکٹرز جلدی جلدی امی کی طرف آئے، مگر ان کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ سانسوں کی مشین پر موجود گراف کی سیدھی لکیر نے دل کی آخری امید بھی ختم کر دی۔ ڈاکٹر کی آواز گونجی،
"معذرت، آپ کی امی اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔”
یہ وہ جملہ تھا جو میں کبھی نہیں سننا چاہتا تھا۔ …!

میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، دل چیخ اٹھا، اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ ابو بھی پہنچ گئے اور امی کی خاموش لاش کو لے کر ہم گھر روانہ ہوئے۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک دھندلا سا منظر تھا، جیسے سب کچھ دھندلا گیا ہو۔ میرے دل میں جیسے کوئی گہری کھائی بن چکی تھی، اور اس کے کنارے پر میں اکیلا کھڑا تھا۔

امی ہمیشہ کے لیے جا چکی تھیں، اور میں بےبس، سوچتا رہ گیا: کیا موت واقعی اتنی اچانک ہوتی ہے؟ کیا وقت کسی اشارے کے بغیر ہی ہماراسب کچھ چھین لیتا ہے؟ زندگی کی حقیقت کیا ہے؟ ایک پل کی سانس، یا لمحوں میں ختم ہونے والی داستان؟

گھر پہنچ کر جب ہم نے امی کو آخری بار دیکھا تو دل میں ایک زوردار چوٹ لگی۔ وہ جو ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتی تھیں، وہ جو میری ہر کامیابی کا جشن مناتی تھیں، اب خاموش تھیں۔

وقت گزرتا گیا، لیکن ان سوالات کے جواب نہیں ملے۔ میں نے محسوس کیا کہ زندگی کے اس سفر میں ہر لمحہ ایک قیمتی خزانہ ہے، مگر کبھی کبھی ہمیں اس کی قیمت اس وقت چکانی پڑتی ہے جب وہ خزانہ ہمیشہ کے لیے چھین لیا جاتا ہے۔

امی کی یادیں میری زندگی کا حصہ بن گئیں، مگر ایک دردناک حقیقت کے ساتھ: محبت کبھی ختم نہیں ہوتی، مگر ہم صرف اس کی گمشدگی کو محسوس کرتے ہیں۔

آج بھی جب کوئی رات سکوت میں گزرتی ہے، تو دل میں وہی سوالات جنم لیتے ہیں: کیا ہم کبھی اس درد کو بھول پائیں گے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے