سوات سانحہ: 21 دن بعد بھی بشری لاپتا

لاہور/سوات: سوات کی سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے المناک کشتی حادثے کے 21 روز گزر جانے کے باوجود لاپتا خاتون بشری سموئی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور امدادی اداروں کا سرچ آپریشن جاری ہے۔

بدقسمت خاندان کے سربراہ، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل کے بھتیجے ذیشان ہندل نے بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ خاندان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہمیں امید تھی کہ بشری زندہ ہوں گی اور بروقت انہیں تلاش کر لیا جائے گا، مگر 21 دن گزرنے کے باوجود حکام انہیں ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔”

ذیشان ہندل نے بتایا کہ حادثے کے وقت وہ بھی اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ کالام میں موجود تھے۔ پاکستان نیوی کی جانب سے اطلاع ملنے پر وہ فوری طور پر کالام اسپتال پہنچے، جہاں خاندان کے چھ افراد کی لاشیں موجود تھیں، جن میں ان کے چچا کی بیٹی کے دو کم عمر بچے بھی شامل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کے دوران پانی میں ڈوب گئے، حالانکہ وہ پوری زندگی سمندر سے وابستہ رہے اور ایک ماہر تیراک تھے۔

حادثے میں عامر ہندل، ان کی شادی شدہ بیٹی فروا، ان کے دو کم عمر بچے، راویل ہندل اور عبداللہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کی تیسری بیٹی بشری، جو امریکا سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی تھیں، تاحال لاپتا ہیں۔

ذیشان ہندل کے مطابق سوات کا یہ سیاحتی دورہ بھی بشری کی خواہش پر ترتیب دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بشری کو پہاڑوں اور پانی سے غیر معمولی محبت تھی اور امریکا سے روانگی سے قبل انہوں نے اپنے والد اور بہنوں سے کہا تھا کہ اس بار وہ ضرور سوات جائیں گے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیف اللہ جھیل سے دریائے ایشو اور بحرین تک تقریباً 80 کلومیٹر سے زائد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کشتی کا انجن بروقت اسٹارٹ نہ ہونے کے باعث وہ تیز بہاؤ میں بہہ گئی اور چند ہی لمحوں میں اس مقام تک پہنچ گئی جہاں جھیل کا پانی دریائے ایشو میں گرتا ہے۔ ان کے مطابق پورا حادثہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پیش آیا۔

دوسری جانب مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر آفس اور متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے پر یہی بتایا جا رہا ہے کہ سرچ آپریشن بدستور جاری ہے، تاہم تاحال کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے