سال مجھے یاد نہیں، لیکن غالباً پانچ چھ سال قبل تربت میں بلوچی میوزک پروموٹر سوسائٹی نے پہلی بار بلوچ موسیقاروں کے اعزاز میں پروگراموں کا آغاز کیا، خصوصاً ان گلوکاروں کے لیے جنہوں نے اپنی سریلی آوازوں سے بلوچی موسیقی کی روح کو جِلا بخشی۔
اس سلسلے کا پہلا پروگرام تربت لائبریری میں منعقد ہوا، جس میں ناکو سبزل سامگی کے علاوہ دور دراز علاقوں سے آئے دیگر بلوچ موسیقاروں نے بھی شرکت کی۔
پروگرام کے منتظمین نے کئی بار یہ واقعہ بیان کیا کہ جب وہ سبزل سامگی کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی جا رہی ہے تو سبزل سامگی نے کہا کہ وہ، بقول ان کے، "نورک” کے بغیر کسی بھی پروگرام میں شریک نہیں ہوں گے۔
"نورک” سے ان کی مراد استاد نور بخش بینجو نواز تھے۔ یہ نام وہ محبت اور اپنائیت کے اظہار کے طور پر استعمال کرتے تھے، جو ان کی والہانہ وابستگی کی خوبصورت مثال ہے۔
استاد سبزل سامگی بلوچی فن اور موسیقی کی دنیا کا ایک عظیم نام ہیں۔ اگرچہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کی سریلی آواز میں گائے گئے زہیروک، نازینک اور دیگر گیت آج بھی دلوں کو گرما دیتے ہیں۔
اپنے ایک انٹرویو میں سبزل سامگی نے کہا تھا:
"بلوچی موسیقی میں دھن (ترز) کے لیے میں کبھی کسی دوسرے موسیقار کا محتاج نہیں رہا، بلکہ اپنی دھنیں خود تخلیق کی ہیں۔”
اس دعوے میں کتنی صداقت ہے، اس کا بہتر فیصلہ بلوچی موسیقی کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں، لیکن جہاں تک زہیروک، نازینک اور عام بلوچی گیتوں کا تعلق ہے، یہ حقیقت ہے کہ سبزل سامگی نے کسی دوسری زبان کے گلوکار یا موسیقار کی نقل نہیں کی۔
سبزل سامگی ملک ہو یا بیرونِ ملک، جہاں بھی گئے، اکثر استاد نور بخش ان کے ساتھ ہوتے تھے۔
آج سبزل سامگی اس دنیا میں موجود نہیں، لیکن جاتے جاتے وہ استاد نور بخش کو کلانچ کے ایک گاؤں سے نکال کر دوبارہ موسیقی کے افق پر لے آئے۔ زندگی کے آخری ایام تک انہوں نے استاد نور بخش سے وفا نبھائی اور انہیں دوبارہ بامِ عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس کامیابی میں جہاں دانیال احمد کی جدوجہد شامل ہے، وہیں ناکو سبزل سامگی اور بلوچی میوزک پروموٹر سوسائٹی کی خدمات بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
آج یورپ سے لے کر پاکستان تک، استاد نور بخش جہاں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں، میں نے اب تک شاید ہی کوئی ایسی محفل دیکھی ہو جہاں انہوں نے سبزل سامگی کے گائے ہوئے گیتوں سے سامعین کو محظوظ کیا ہو۔
بلاشبہ دیگر بلوچ موسیقار بھی قابلِ قدر ہیں اور ان کے گیت بھی اپنی مثال آپ ہیں، مگر میری ایک گزارش ہے کہ کبھی ناکو سبزل سامگی کے زہیروک، کبھی "بست کتگ وھدے شپ تہار ماہ لنج اتگ”، کبھی "زرگلی ماتءِ گنوکیں” اور کبھی "ننداین ءُ منا زہیرو کنت دیم پہ بارگءِ بازارءَ تو” یا "کلبرءَ ھورے بگوارات” جیسے لازوال گیت بھی بینجو کی سُروں میں چھیڑ کر استاد سبزل سامگی کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے۔
شاید اس سے ان کی روح کو بھی سکون ملے۔
نوٹ: استاد نور بخش کے قریبی احباب، خصوصاً بلوچی میوزک پروموٹر سوسائٹی اور دانیال احمد سے گزارش ہے کہ یہ پیغام استاد نور بخش تک ضرور پہنچائیں۔
شکریہ