لاک ڈاون کا فیصلہ بلکل درست ہے

گزشتہ ایام پاکستان تحریک انصاف نے ٢ نومبر کو اسلام آباد لاک ڈاون کرنے کا فیصلہ کیا _ یقیناً اس فیصلے کا رد عمل لازم تھا _ عوام اور ایوان اقتدار سے مذمت کی آوازیں آنا شروع ہو گئی _ لاک ڈاون پر مختلف اعتراضات ہیں _ لکن ان سب اعتراضات کا مجموعہ ایک جملے میں ہے _ پہلے اعتراضات پر آیئں _

اعتراضات کچھ یوں ہیں :
اسلام آباد بند ہونے کی صورت میں کاروبار زندگی معطل ہو گا _
شہر بند ہونے سے تعلیمی ادارے بند ہوں گے نتجتاً تعلیم کا حرج ہو گا _
معیشت تباہ ہو گی _
لوگوں کا آپس میں رابطہ ختم ہو جاۓ گا _ کرفیو کا سماع ہو گا _وغیرہ وغیرہ
ان سب کو اگر جمع کیا جاۓ تو حاصل کلام یہ ہے کہ ”نظام زندگی مفلوج ہو جاۓ گی ”

ذہن نشین رہے کہ یہ اعلانیہ لاک ڈاون کے ممکنہ نتائج ہیں _ اب ہم آتے ہیں جو نتائج ہم عوام غیر اعلانیہ لاک ڈاون کی صورت میں آۓ روز بھگتے ہیں _ کیا ان غیر اعلانیہ لاک ڈاون کے نتائج کی صورت ”نظام زندگی مفلوج نہی ہو کر رہتی ” ؟؟

ہمارے ہاں مذہبی ،سیاسی جماعتیں جب جلسے ،جلوس کرتے ہیں تو کیا سڑکیں بلاک نہیں ہوتی ؟؟ کیا موبائل سگنل منقطع نہیں ہوتے ؟ کیا تعلیمی اداروں میں تعلیم کا حرج نہیں ہوتا ؟ کیا ان جلوسوں کی گزر گاہوں سے کاروبار متاثر نہیں ہوتا ؟؟ بلکے متاثر ہونا تو دور کی بات ہے کاروبار کا جنازہ نکل جاتا ہے _ کیا جلسوں جلوسوں کی سیکورٹی کے نام پر معیشت کو کروڑوں کا ٹیکہ نہی لگتا ؟؟

ہر ماہ کسی نہ کسی کی یاد میں چھٹی ہوتی ہے _ پھر جلسے ہوتے ہیں پھر جلوس نکلتے ہیں _ کون سی ایسی مذہبی یا سیاسی جماعت ہے جو یہ سرگرمیاں نہیں کرتی _

بھیا ! جب اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لاک ڈاون کے نتائج ایک جیسے ہیں تو پھر بوکھلاہٹ کیسی ؟؟ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ یہ بوکھلاہٹ نظام زندگی مفلوج ہو جانے کے غم میں نہیں حکومت کے غم میں ہے _

چین ہمارے ایک سال بعد آزاد ہوا _وہاں ٣٠ سال تک ایک بھی غیر ضروری چھٹی نہیں ہوئی اور یہاں الامان والحفیظ _ ہمیں دورنگی چھوڑ کر اب یک رنگ ہو جانا چاہے _ صرف کسی ایک جماعت کے اعلان پر پوا ئنٹ سکورنگ کرنا مسلے کا سولیوشن نہیں _ ویسے بھی آپ کی دانش کا عملی مظاہرہ عوام تو عوام چشم وفلک نے بھی دیکھ لیا _ پاکستان تحریک انصاف نے تو ٢ نومبر کو لاک داؤن کرنا تھا آپ نے ٢٨ اکتوبر کو ہی لاک ڈاون شروع کر دیا _

اس مسلے کا سولیوشن یہ ہے کہ آپ پارلیمنٹ میں اکثریت رکھتے ہیں _ آپ قانون سازی کریں ٹھیک ہے احتجاج کرنا عوام کا آئینی حق ہے پر اس آئینی حق کا مطلب یہ نہیں کہ احتجاج کے نام پر عوام کو عذاب میں مبتلا کرنا اور دوسروں کے حقوق صلب کر دیے جاۓ _ آج کے بعد ہر قسم کے جلسے، جلوس، دھرنے اور مظاہرے ہر تحصیل و ڈسٹرکٹ میں مخصوص جگہ پر وہاں کی ضلعی انتظامیہ کی اجازت سے ہو گے اور عیدین کے علاوہ تمام مذہبی ،سیاسی اور قومی تعطیلات ختم ہیں _ جس نے جو کرنا ہے انفرادی طور پر مخصوص مقام پر جا کر کریں عوام کو عذاب میں مبتلا نہ کریں _

اگر آپ یہ کرتے ہیں تو ہم سمجھیں گے آپ حقیقتاً نظام زندگی کو مفلوج ہونے سے روکنے میں مخلص ہیں بصورت دیگر صرف اپوزیشن کو روکنے کا مطلب یہی ہے کہ ان کا لاک ڈاون کا اعلان درست ہے _ باقی آپ جانے اور وہ جانے ……… رسیدیں دکھائیں یا نہ دکھائیں _

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے