مشرف صاحب!سلامت رہو

ہم ماضی کی تلخ باتیں بھولنا چاہتے ہیں لیکن وہ بھولنے نہیں دیتا۔ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن وہ بار بار ہمیں پیچھے کھینچتا ہے اور اپنے سینے پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ دیکھو دیکھو میں اب اقتدار میں نہیں رہا لیکن میں آج بھی پاکستان کے ارباب اقتدار سے زیادہ طاقتور ہوں۔ ہم تو کب کے تسلیم کرچکے کہ سابق صدر پرویز مشرف اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود بڑے مقتدر ہیں، قتل اور آئین سے غداری کے مقدمات میں ملوث ہونے کے باوجود کوئی مائی کا لال انہیں ایک دن تو کیا ایک سیکنڈ کے لئے بھی کسی حوالات میں بند نہ کرسکا لیکن اب پرویز مشرف کا خبط عظمت دیوانگی کی حدوں کو چھو رہا ہے۔ ان کی باتیں سن کر گمان گزرتا ہے کہ یہ ایک ایسا خود کش حملہ آور ہے جو اپنے ساتھ ساتھ پاکستان کے اہم ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی تباہ کرنے پر تلا بیٹھا ہے۔

کچھ دن پہلے موصوف نے ایک انٹرویو میں اپنی بے پناہ دولت اور جائیداد کے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب دولت ایک عرب بادشاہ کا تحفہ ہے۔ ان کا تازہ ترین انکشاف یہ ہے کہ موصوف کی بیماری کے بہانے پاکستان سے روانگی دراصل سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مہربانی کا نتیجہ تھی کیونکہ راحیل شریف نے پس پردہ حکومت اور عدالتوں پر دبائو ڈال کر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹوایا۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے راحیل شریف پر یہ الزام لگادیا کہ انہوں نے حکومت اور عدلیہ پر دبائو ڈال کر آئین سے غداری کے ملزم کو پاکستان سے فرار کروایا۔

مشرف کی زبان سے اتنا بڑا دعویٰ سن کر کچھ لوگوں کی زبان سے بار بار’’تھینک یو راحیل شریف‘‘ کا نعرہ بلند ہورہا ہے کیونکہ راحیل شریف نے منتخب جمہوری حکومت اور عدلیہ کے متعلق ان تمام الزامات کی تصدیق کردی جو عام طور پر بہت’’غیر ذمہ دار‘‘ عناصر کی طرف سے لگائے جاتے ہیں اور جنہیں جسٹس انور ظہیر جمالی’’زرد صحافت‘‘ والے قرار دیتے ہیں لیکن میں ان الزامات کو درست تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ میری ناقص رائے میں پرویز مشرف کو پاکستان سے فرار کرانے میں فوج بحیثیت ادارہ ملوث نہیں ہے۔

فوج کے کئی حاضر سروس افسران آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا آئین سب کے لئے برابر ہونا چاہئے اور مشرف کو اپنے خلاف الزامات کا سامنا عدالتوں میں بہادری کے ساتھ کرنا چاہئے۔ مشرف کو2008میں جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بیرون ملک بھجوایا تھا اور درخواست کی تھی کہ براہ کرم خاموش رہئے گا اور واپس نہ آئیے گا لیکن مشرف2013کے الیکشن سے پہلے واپس آگئے ۔ 2016میں انہیں جنرل راحیل شریف نے باہر بھجوایا اور مشرف نے باہر جاتے ہی راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مطالبہ شروع کردیا۔

ان کی خواہش پوری نہیں ہوئی لیکن اب انہوں نے یہ تاثر دینا شروع کردیا ہے کہ راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ بڑے طاقتور ہیں۔ راحیل شریف نے اپنے ذاتی تعلقات کی وجہ سے پرویز مشرف کی مدد کی۔ یہ ایک فرد کی مدد تھی جس کی اصل طاقت آرمی چیف کا منصب تھا۔ وہ فرد آرمی چیف ضرور تھا لیکن فوج بحیثیت ادارہ آئین سے غداری کے ملزم کو پاکستان سے نہیں بھگا رہی تھی۔ آپ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی پڑھ لیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں آئین سے غداری کا مقدمہ جاری رکھنے کے لئے کہا گیا اور مشرف کی نقل و حرکت کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کو دیا گیا کیونکہ مشرف کے خلاف مقدمے کی مدعی سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی وزارت داخلہ تھی۔ مشرف کو پاکستان سے بھگانے کا اصل کریڈٹ وزیر اعظم اور ان کے وزیر داخلہ کو جاتا ہے۔

آئین کی دفعہ90کے تحت وزیر اعظم اپنے وزراء کے ذریعہ اختیار استعمال کرتا ہے، اگر وزارت داخلہ نے مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالا تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم بھی ہیں۔ اس معاملے پر میری وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ تفصیلی بحث ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا۔ میں نے اصرار کیا کہ سپریم کورٹ نے مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا کوئی حکم نہیں دیا جس پر انہوں نے اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کے بارے میں بڑی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسا اٹارنی جنرل ان کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ کچھ ہی دنوں کے بعد سلمان اسلم بٹ صاحب ا نہیں الیکشن کمیشن اور عدالتوں میں ڈیفنڈ کررہے تھے اور یہ ناچیز اپنی بغلیں جھانک رہا تھا۔

اصل بات یہ ہے کہ چوہدری نثار علی خان اور سینیٹر مشاہد اللہ خان سمیت مسلم لیگ(ن) کی کچھ اہم شخصیات مشرف کو بیرون ملک بھجوانے کی حامی تھیں۔ وزیر اعظم سے کہا گیا کہ مشرف ملکی ترقی کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے۔ مشرف پر غداری کا مقدمہ قائم کرنے کے باعث اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے خلاف دھرنوں پر اکسایا جاتا تھا۔ کہا گیا کہ آپ مشرف کو باہر بھجوادیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔

کچھ عرب شہزادوں کا بھی یہی خیال تھا لہٰذا نواز شریف صاحب نے نیم دلی کے ساتھ مشرف کو بیرون ملک بھجوا کر سارا ملبہ عدالتوں پر ڈال دیا لیکن بھلا ہو پرویز مشرف کا جنہوں نے یہ ملبہ ہر طرف پھیلانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اگر نواز شریف چاہتے تو راحیل شریف کو انکار بھی کرسکتے تھے۔ نواز شریف نے کئی دفعہ راحیل شریف کو انکار کیا۔ راحیل شریف نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی مانگا لیکن نواز شریف نے انکار کیا۔ نواز شریف چاہتے تو پرویز مشرف کو بیرون ملک بھجوانے سے انکار کرسکتے تھے لیکن ان کا انکار آخر کار اقرار میں بدل گیا جس کی تمام ذمہ داری چوہدری نثار علی خان پر نہیں ڈالی جاسکتی۔

اب پرویز مشرف بیرون ملک بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کو بدنام کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو مشرف کے بیانات کا نوٹس لینا چاہئے کیونکہ مشرف نے ملک کے اہم اداروں کی ساکھ کو مشکوک بنادیا ہے۔ کیا مشرف کے حالیہ بیانات کے بعد وفاقی حکومت مشرف کی پاکستان واپسی کے لئے انٹرپول سے رابطہ کر ے گی۔

اگر عذیر بلوچ اور رحمان بھولا کو گرفتار کرکے پاکستان لایا جاسکتا ہے تو محترمہ بینظیر بھٹو اور نواب اکبر بگٹی کے مقدمہ قتل میں ملوث ملزم پرویز مشرف کو
پاکستان کیوں نہیں لایا جاسکتا؟ میں جانتا ہوں کہ نواز شریف اس پھڈے میں نہیں الجھنا چاہتے لیکن پرویز مشرف کا خبط عظمت انہیں چین نہیں لینے دیتا۔

میری اطلاع کے مطابق مشرف صاحب کچھ مزید جھوٹے سچے دعوے بھی کریں گے تاکہ پاکستان کے لوگ یہ سمجھتے رہیں کہ وہ اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود پاکستان کے اہل اقتدار سے زیادہ طاقتور ہیں۔ یہ خبط عظمت مشرف صاحب کو مہنگا بھی پڑسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر آرمی چیف راحیل شریف ہو اور ہر وزیر اعظم نواز شریف ہو، اگر پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے تو پاکستان کا آئین و قانون بھی ہمیشہ قائم رہے گا۔ آج یہ آئین کمزور ہے کیونکہ آئین پر عملدرآمد کرانے والے لوگ کمزور ہیں لیکن جیسے جیسے پاکستان مضبوط ہوگا یہ آئین بھی مضبوط ہوتا جائے گا۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پرویز مشرف کو سلامت رکھے۔ انہوں نے پاکستان کے آئین کو للکارنا بند نہ کیا تو یہ آئین بہت جلد انہیں خود پکارے گا اور اپنے پاس بلا کر خود اپنی گرفت میں لے گا۔ پاکستان کو قائم رہنا ہے تو پاکستان کا آئین بھی قائم رہے گا اور یہ مشرف ضرور دیکھے گا۔

بشکریہ : روزنامہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے