ابوطبیلہ،پشاورکاقاتل یامعمار؟

[pullquote]اٹلی سے تعلق رکھنے والے کرایے کافوجی ابوطبیلہ،پشاوریوں کاقاتل یا پشاورکامعمارہے ؟؟[/pullquote]

تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہے کہ رنجیت سنگھ کے دور میں پشاورکے گورنر ابوطبیلہ نے ہزاروں پشاوریوں کو صرف انتظامی امور اور اپنی عملداری قائم کرنے کےلئے قتل کیا اور سینکڑوں لوگوں کے ہاتھ اورپاﺅں کاٹے ، دوسری طرف پشاورکے فصیل شہر،قلعہ بالا حصار کی تعمیر، مین بازارکے قیام اورشہر میں نکاسی آب کا سب سے بڑانظام شاہی کٹھہ بھی اسی ابو طبیلہ نے تعمیرکیا،

[pullquote]ابوطبیلہ(Avitabile )کون تھا؟؟[/pullquote]

ابو طبیلہ

25اکتوبر 1791کو ابوطبیلہ اٹلی کے شہر نیپلزکے قریب پیداہوئے،16سال کی عمر میں انہوں نے فرانسیسی جنگجونیپولین کی ملیشیاءمیں شمولیت اختیار کی اور1810میں فرانسیسی فوج کے توپ خانے میں شامل ہوکر 1915ءمیں لیفٹیننٹ بن گیا،1816میںبرطانوی جنگجولارڈویلنگ ٹن کے ہاتھوں نیپولین کے شکست کے بعد ابو طبیلہ فوجی ملازمت چھوڑکر قسطنطنیہ آگئے جہاں ایران کے سفیرسے انکی ملاقات ہوئی اور اور ان کی درخواست پر ابوطبیلہ کو 1818میں ایرانی فوج میں انسٹرکٹرکے عہدے پر تعینات کیاگیا جہاں وہ 1826تک اپنی خدمات انجام دینے کے بعد واپس اپنے ملک اٹلی چلے گئے ۔اٹلی میں مختصر عرصہ قیام کے بعد ابو طبیلہ اپنے دوساتھیوں جان فرانکوئس الارڈاور جین بیپٹیسی کے کہنے پرہندوستان آگئے اور اس وقت پنجاب میں سکھ حکمران رنجیت سنگھ کے فوج میںکرایے کے کمانڈر کی حیثیت سے اپنے فرائض سنبھالے، ابو طبیلہ نے رنجیت سنگھ کے فوج میں توپ خانے کےلئے انسٹرکٹر کی خدمات بھی انجام دیں اور رنجیت سنگھ کے فوج کےلئے توپ خانے کومکمل طو رپرمنظم کیا، دسمبر1829میں رنجیت سنگھ نے ابو طبیلہ کو وزیرآبادکا کاردار(گورنر)بنایا جہاں انہوں نے کاروباری وتجارتی مراکز کےلئے یورپی نظام کومتعارف کرایا ،تاہم علاقائی روایات کو برقراررکھتے ہوئے. انہوں نے مذہبی اورقومی رسومات میں کسی قسم کی ترامیم نہیں کی، 1835میں ابوطبیلہ کوپشاورمیں اسوقت کے گورنر ہری سنگھ نلواہ کےساتھ ریونیوآفیسربنایاگیا ، تاہم جب1837میں جمرود قلعے میں ہری سنگھ نلواہ کوقتل کیاگیا تورنجیت سنگھ نے ابوطبیلہ کو پشاورکا گورنر مقررکردیا۔

 

 

 

[pullquote]بحیثیت گورنر ابوطبیلہ نے پشاوریوں کاکس طرح قتل عام کیا؟؟[/pullquote]

اس وقت پشاورکے رہنے والے اور دیگرمقامی قبائل سکھوں سے شدیدنفرت کرتے تھے، انہیں جب بھی موقع ملتا سکھ فوجیوں پر حملہ کرتے ، ابوطبیلہ نے سکھوں پر حملوں کے سدباب کےلئے سخت ترین اقدامات اٹھائے، ان کا عدالتی نظام دنیاکے متنازعہ ترین نظام میں شمار کیاجاتاہے،ابو طبیلہ نے فصیل شہر کے باہر پھانسی گھاٹ بنائے جہاں ہر روز50 سے 60 افراد کی لاشیں لٹکی نظرآتی تھیں،ابو طبیلہ جھوٹ بولنے والوں کی زبانیں کاٹتے ،اورجو طبیب انکاعلاج کرتا ان کی بھی زبان کاٹ دیتا ، ابو طبیلہ نے ٹیکس کی وصولی کےلئے انتہائی سخت نظام بنایا،وہ ہرشخص سے ٹیکس وصول کرتے اور جوکوئی انکارکرتاانہیں پھانسی دی جاتی، معمولی ،معمولی باتوں پر چوکوں میں لوگوں کو جوتوں سے مارنا ان کا معمول تھا،ابوطبیلہ روزانہ کی بنیاد دربارلگاتے ،دربارمیں مسلمان ،سکھ اورہندو مذہبی پیشواﺅں کی خدمات بھی حاصل کرتے ، جن سے وہ اپنے مذاہب میں جرائم کی سزا تجویز کرتے اور پر فوری عملدرآمد کرتے،ابو طبیلہ سکھ فوج پر حملہ کرنےوالوں کو مغل دور کی تعمیرکردہ مسجد مہابت خان کی میناروں کئی دنوں تک لٹکائے رکھتے، ابو طبیلہ باغیوں کو دوطریقوں سے سزادیتے یاتو انکے گلے میں پھنداڈالتے یا انہیں پاﺅں سے پکڑ کر الٹالٹکادیتے ، ابو طبیلہ کے بارے میں مشہورہے کہ وہ ٹیکس سے انکاری لوگوں کو انار کلی کی طرح دیواروں میں چنوا دیتے جس سے ایک شخص کی موت بھی واقع ہوئی۔ قرب وجوارکے قبائل کو قابومیں رکھنے کےلئے ابوطبیلہ نے ان کی پشاورآمدپرپابندی عائد کی تھی، اگران قبائل کا کوئی شخص شہر میں دیکھا جاتاتواسے فوری طو رپر پھندے سے لٹکایاجاتا،اس کے علاوہ ابو طبیلہ نے درجنوںافرادکو تندورمیں جلایا ۔عام لوگو ں کی طرح وہ اپنے فوج میں کسی قسم کی بدنظمی پر سخت سزاﺅں پر عملدرآمدکرتا ، کہاجاتاہے کہ ایک دفعہ سکھوں کی ایک فوجی دستے نے تنخواہوںکی بندش پر بغاوت کی جسے ابو طبیلہ نے چمکنی کے مقام پرباغیوں کو پیسے دےکر حملہ کروایا،1842میں آفریدیوں کے ہاتھوں سکھ فوجی جب شکست کے بعد جب واپس پشاورلوٹے تو ابو طبیلہ نے سرے بازار اپنی ہی فوجیوں کو جوتوں سے مارا۔

 

[pullquote]ابوطبیلہ نے پشاورمیں کونسے تعمیراتی کام کئے؟؟[/pullquote]

کرایے کے فوجی کی حیثیت سے اٹلی سے آنے والے رنجیت سنگھ کے گورنر ابوطبیلہ نے پشاور شہر کو و سعت دیکر مٹی سے نیا فصیل تعمیرکیا جسے بعدازاں انگریزوں نے پختہ کیا ،پشاورمیں نکاسی آب کا سب سے بڑانظام شاہی کٹھہ کی تعمیر بھی ابوطبیلہ کی مرہون منت ہے ، اس کے علاوہ قلعہ بالاحصار کو جدید خطوط پر استوارکرکے اسے دوبارہ تعمیر کرایاجسے بعدازاں انگریزوں نے اینٹوں سے مزئین کیا،ابو طبیلہ نے اندورن شہر پیپل منڈی کا مشہور بازار قائم کیا،شہر میں نکاس آب اور گلیوں کی تعمیرکے علاوہ انہوں نے کئی مقامات پربرگد کے درخت بھی لگائے۔

[pullquote]ابوطبیلہ کاانجام کیاہوا؟؟[/pullquote]

1843میں رنجیت سنگھ کے قتل کے بعد ابوطبیلہ نے فوجی ملازمت چھوڑدی،پشاور چھوڑنے سے قبل انہوں نے اپنی حرم میں رکھی ہوئی تمام خواتین کومقامی دوستوں میں تقسیم کیا،اپنی بیٹی کی باورچی سے شادی کرائی اورواپس اٹلی چلاگیا، مورخین لکھتے ہیں کہ ابوطبیلہ نے بعدازاں ایک19سالہ لڑکی سے شادی کی، تاہم1850میں انہیں قریبی رشتہ داروں نے رقم کےلئے زہردے کر ماردیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے