کیا کرونا وائرس سنجیدہ خطرہ نہیں؟

31 دسمبر 2019 کو چین نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کو نول کورونا وائرس کی وجہ سے صوبہ ہوبی کے شہر ووہان میں نمونیا کے واقعات کی اطلاع دی تھی ، جو اب کم از کم چار براعظموں تک پھیل چکا ہے ۔ چین نے 7 جنوری کو کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے اپنی کوشش تیز تر کر دی تھی اور اسکے تین دن بعد وائرل وائرس کے متعلق ڈیٹا کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کیا۔

اب متعدد ممالک نے آمد و رفت کی وجہ سے پھیلتے وائرس کی تصدیق کردی ہے ، جن میں آسٹریلیا ، کمبوڈیا ، کینیڈا ، فرانس ، جرمنی ، جاپان ، نیپال ، سنگاپور ، جنوبی کوریا ، تائیوان ، تھائی لینڈ ، متحدہ عرب امارات ، امریکہ اور ویتنام شامل ہیں۔ ویتنام نے چین سے باہر انسان سے انسان کو کورونا وائرس کی پہلی منتقلی کی نشاندہی کی جبکہ چین سے باہر پہلی موت فلپائن میں ریکارڈ کی گئی۔ چین میں ہلاکتوں کی تعداد سات سو تک پہنچ چکی ہے جو ہر لمحے تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے جبکہ متاثر مریضوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا اب ممکن نہیں رہا –

بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز کی طرف سے امریکی سرزمین پر پہلی بار انسان سے انسان کو کورونا وائرس کی منتقلی کے اعلان کے بعد ڈبلیو ایچ او کے عہدیداروں نے اس وبا کو پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آف انٹر نیشنل کنسرن (پی ایچ ای آئی سی) قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے عالمی سطح پر کوششیں تیز کردی گئیں ہیں –

ووہان میں وائرس پھیلنے کے باوجود امریکہ نے اس وقت تک اسکو بین الاقوامی وبا ڈکلیر نہیں کیا جب تک خود امریکہ میں وائرس کی موجودگی کا پتا نہ چلا ، ایسا کیوں کیا گیا ہے اس پر متعدد متنازعہ آرا سامنے آ رہی ہیں –

ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جب ہنگامی صورتحال کا اعلان ہوا اس وقت تک دنیا بھر میں 8 ہزار2 سو سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے تھے ، ایسا کہا جا رہا ہے کہ پتا چل جانے اور وسائل کی موجودگی کے باوجود بروقت تدارک کی کوشش نہ کرنا ڈبلیو ایچ او کی غفلت تھی –

وائرس کو عالمی وبا قرار دینا اور اس کے خاتمے کے لیے صحت کے عالمی ادارے کو متحرک کرنا پیش بندی کے بجائے امریکہ کا دیر سے آیا رد عمل تھا ، اور امریکہ میں صحت عامہ کے حکام کے مختلف ہنگامی اجلاسوں کے بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اگر کوئی فرد امریکی شہری نہیں ہے اور وہ پچھلے 14 دنوں میں چین گیا ہے تواس کی امریکہ داخلے پر پابندی ہوگی –

اس وقت کرونا وائرس کا پھیلاؤ 20 سے زیادہ ممالک پر محیط ہے عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورتحال کے تناظر میں فوری رد عمل طبی امداد کی فراہمی سے شروع ہو چکا ہے ، 196 ممالک میں سے ہر ایک کو اپنی حدود میں صورت حال کا اندازہ لگانے کے لئے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا جس کے بعد انہیں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد اور ممکنہ کیسز کے متعلق ڈبلیو ایچ او کو رپورٹ دینی ہوگی جو وائرس کے سدباب کے لئے تمام ممالک کی ضرورت ہے –

ڈبلیو ایچ او کی طرف سے کہا گیا ہے کہ موجود کیسوں کے متعلق پتا چلائیں ، نئے کیسوں کے سامنے آتے ہی ان پر فوکس کریں اور بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعہ اپ ڈیٹ شیئر کریں ، ڈبلیو ایچ او کے ساتھ رابطے میں رہیں – ہر ہفتے ڈبلیو ایچ او ان رپورٹوں کی بنیاد پر ہی صورتحال کے متعلق اپنی رپورٹ جاری کرے گا جو کسی بھی جگہ ہنگامی صورتحال میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں –

پی ایچ ای آئی سی کی صورتحال کے دوران ڈبلیو ایچ او کے نظام میں شامل ممالک حفاظتی تدابیر کی طور پر جاری کی گئی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بندرگاہوں ، ہوائی اڈوں اور زمینی گزرگاہوں وغیرہ پر وائرس کی تشخیص اور دوسرے ممالک میں پھیلاو کے روک تھام کے لئے مخصوص ضوابط پر عمل پیرا ہیں ،

بہت سے ممالک اپنے طور پر بھی وائرس کی شناخت اور روک تھام کے اقدامات کررہے ہیں جس میں شہریوں کو درست معلومات کی فراہمی و آگاہی کے لئے فعال میڈیا مہمات وغیرہ بھی شامل ہیں ، اہم اور زندگی بچانے والی معلومات کی مہمات جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطی کے صحت کے مراکز میں تیزی سے سامنے آرہی ہیں ، اگرچہ حکومت پاکستان کا رد عمل ابھی تک ایسا ہی نظر آ رہا ہے کہ جیسے کورونا وائرس کوئی غیر معمولی مسئلہ نہیں اور نہ ہی دنیا اس وقت غیر معمولی صورت حال سے نبرد آزما ہے –

کیا ہمارے ہاں اب کی بار بھی نااہلی کو اللہ تعالیٰ کا عذاب ، امریکی سازش وغیرہ کے کور میں ہی چھپانے کی کوشش ہو گی یا پیش بندی کے طور پر کچھ کیا جائے گا ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے