آزاد لوگ

بہت کم لوگ اپنے اندر گڑے ہوئے تعصبات سے اُوپر اٹھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یہ کشٹ صرف بہادر اور دیانت دار لوگ اُٹھا سکتے ہیں اور وہ ہمیشہ کم ہی ہوتے ہیں۔

اس کائنات اور اس میں پھیلی چیزوں یا نظریات کے بارے میں ہماری رائے ابتدائی طور پر ہماری مرضی سے نہیں بنتی۔ بے شمار نظریات اور تعصبات ہمیں وہ ماحول اور حالات دیتے ہیں جن میں ہم پلے بڑھے ہوتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم بہت حد تک بے اختیار ہوتے ہیں۔

شروع میں ہمارا ذہن ایک خالی میموری کارڈ جیسا ہوتا ہے جس میں خود کار عمل کے تحت خاندان ، سماج اور سماجی ادارے اپنا اپنا ڈیٹا فیڈ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ اس کا تیار کردہ ڈیٹا زیادہ درست اور معتبر ہے حالانکہ وہ ان کا تیار کردہ بھی نہیں ہوتا بلکہ ان کو منتقل شدہ ہوتا ہے۔

اگر ہم بلوغ اور شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی فیڈ کیے گئے اُسی ڈیٹا میں ہی اُلجھے ہوئے ہیں تو یہ کوئی امید افزا علامت نہیں ہے۔ شعور کی عمر میں پہنچنے کے بعد ہمیں اس فیڈ کیے گئے ڈیٹا کو اپنے ذہن میں دیانت دارانہ تجزیاتی پراسسنگ سے گزارنا چاہیے۔ سوچ کی Active اپروچ ہی یہاں کام آتی ہے۔

اس تجزیاتی پراسسنگ کے نتائج کی روشنی میں بے شمار چیزیں ہمیں Un-learn کر دینی چاہییں، دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ جو بھی بات منطق اورمعقولیت کے پیمانے سے فروتر ہو، اسے اُن چیزوں کی فہرست میں ڈال دیں جن پر ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔ اگر کچھ ڈیٹا کے بارے میں آپ کو یقین ہو جائے کہ یہ محض کچرا ہے تو اسے فوراً Delete کر کے نئے ڈیٹا کے لیے جگہ خالی کریں۔

اگر آپ نے شعوری عمر کے بعد بھی دیانت دارانہ ڈیٹا پراسسنگ نہ کی تو آپ کا میموری کارڈ کرپٹ ہو جائے گا۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ایک کرپٹ میموری کارڈ ڈیوائس کی جیکٹ میں ایک غیر ضروری بوجھ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ کارڈ اگر وائرس زدہ ہو تو ڈیوائس کی کارکردگی کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ سہولت کی خاطر ایک سیکنڈ کے لیے آپ اپنی ذات کو میموری کارڈ اور اس کائنات کو ڈیوائس تصور کر سکتے ہیں۔

میرا یہ خیال دراصل ایک اور خیال سے جُڑا ہوا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ بہت سارے لوگ زندگی چند تعصبات کی پُوجا میں گزار دیتے ہیں، ان کی عمر اس تگ دو میں کٹتی ہے کہ کس طرح اپنے تعصبات کے موافق چیزیں ڈھونڈی جائیں اور ان تعصبات کو مزید مستحکم کر کے انہیں پھیلایا جائے۔وہ اس فکر میں گُھلتے رہتے ہیں کی کس طرح نئے آنے والوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ ان تعصبات کی کُھونٹیوں سے ’رضاکارانہ‘ طور پر بندھ جانے پر تیار ہو جائیں۔

مورخوں اور محققوں کا معاملہ بڑا دلچسپ ہے۔ تاریخی واقعات ، مذہبی قصے اور سیاسی داستانیں مختلف رنگوں اور تعصبات کے تحت لکھی جاتی رہی ہیں۔ ان واقعات اور قصوں کے بارے میں ایک سے زائد بیانیے موجود ہیں۔ یعنی لوگوں نے اپنے اپنے ذوق کے حساب سے مسالوں کا استعمال کیا ہے جو آج تک بحثوں کو چٹخارے دار بنانے کا کام کرتے آ رہے ہیں۔

تحقیق کا عنوان باندھ کر کچھ لوگ تاریخ کے گودام سے اپنے تعصبات کے موافق سودا نکال لاتے ہیں اور اس کا چرچا کرنے لگتے ہیں۔ اس بیچ کوئی اور اُٹھتا ہے جو اُسی واقعے یا قصے کا دوسرا ورژن لے آتا ہے۔ یوں تعصبات کے دونوں طرف کے پُجاریوں کی تسکین کا سامان ہوتا رہتا ہے لیکن یہ ساری پریکٹس تکرارِ محض سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ یہ ’دانش گردی‘ ٹائپ چیز بن جاتی ہے۔

میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فکر کی اس سطح سے اُوپر اُٹھ سکتے ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کی انفارمیشن کو ایک خاص ذہنی و فکری ریاضت کے بغیر جذب نہیں کرتے۔ان کے ہاں عربی محاورے ’’خُذ ما صفا دَع ما کَدِر‘‘ والی چھلنی مسلسل بروئے کار آتی رہتی ہے۔ وہ تعصبات کی غیر مشروط غلامی گوارا نہیں کرتے۔ پیشہ ور بیانیہ بازوں کے بھونپو بھی وہ نہیں بن سکتے۔ ان کی فکر میں تطہیر کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔

ایسے لوگ اپنے کہے کو پتھر پر لکیر کہتے ہیں اور نہ ہی اس پر ایمان لانے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ وہ ایک خاص تَجَسُس کے ساتھ کائنات کے مظاہر، مظاہر کی حرکت، انسانوں کے خیالات اور افعال کا مشاہدہ و مطالعہ کرتے رہتے ہیں ، اپنے نتائج فکر ارزاں کرتے رہتے ہیں اور بغیر کسی اصرار کے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔اس کی پروا انہیں نہیں ہوتی کہ ان کے نتائج فکر کتنے لوگ قبول کرتے ہیں اور کتنے نہیں۔عقیدت گُساروں کی گنتی بڑھانے کا انہیں کوئی شوق نہیں ہوتا۔ اسے وہ مداری پن سمجھتے ہیں۔

یہ حقیقی معنوں میں آزاد یا آزادی پسند لوگ ہوتے ہیں ۔ یہ گلوب کے اندر گُھس کر کسی تنگ گلی میں بنے مکان کے روزن سے گلی میں چلنے پھرتے کرداروں میں ڈوب جانے کی بجائے گلوب اپنے سامنے ذرا نیچے رکھ کر اس پر نگاہ ڈالتے ہیں اور اس عمل کے دوران ان کی کیفیت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی غالب نے اپنے شعر میں بیان کی تھی ؎

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے