چین مخالفت میں امریکہ کی پیروی بھارت کیلئے خطرناک ہوگی

بھارت میں چین مخالف قوم پرستی بڑھنے کی تازہ ترین علامت ٹویٹرپر رجحان ہیش ٹیگ تھرو چائنا آوٹ ہے۔ جو حکومت کے رجحان کے مطابق ہے ۔ یاد رہے بھارتی حکومت نے چینی لنکس کے ساتھ درجنوں ایپس پر پابندی عائد کردی ہے۔ دوسری طرف ، سیاسی فائدہ اٹھانے کے چکر میں ، بھارت کی موجودہ حزب اختلاف کی پارٹی ، انڈین نیشنل کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو چین کے خلاف سخت موقف نہ اپنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت میں حکمراں اور حزب اختلاف دونوں جماعتوں کے درمیان اصل مقابلہ یہ ہے کہ کہ کونسی جماعت چین کے خلاف زیادہ سخت موقف اپناتی ہے ، وہی حربہ جو امریکی سیاستدانوں میں بھی مقبول ہے۔

بھارت کی حکمراں اتحاد ، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) ، بی جے پی کی زیرقیادت ، ہندوستان کی مرکز کے دائیں اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو اپنی نا قص پالیسیوں کی وجہ سے بھارتی عوام کے غم و غصے کا سامنا ہے۔ حکمران اتحاد کئی محاذوں پر ناکا م رہا ہے۔ اس نے عوام کی فلاح و بہبود اور مفاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان میں سب سے بڑی معاشی محاذ پر ناکامی ہے – کسی قسم کے دوررس نتائج کی حامل معاشی اصلاحات نہیں لائی گئیں ۔ بھارت کی سست معیشت میں تیزی لانے کیلئے کوئی تحریک یا منصوبہ نہیں بنایا گیا ۔ معاشرتی حکمرانی کے معاملے میں بھی اتحاد اپنے متنازعہ دائیں بازو کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ جس کی بڑی مثال شہریت کا ترمیمی قانون ہے، جس نے بڑے پیمانے پر بے چینی پیدا کی اور جس کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرے احتجاج ہوا جس کے نتیجے میں قیمتیں جانیں بھی گئیں ۔

ایک طرف کووڈ 19 کے خلاف بھارتی حکومت کی ناقص کارکردگی نے ملک کے اندر دباؤ بڑھایا تو دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے بین الاقوامی تجارتی ماحول نے ہندوستانی معیشت کو مزید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت اور امریکہ دونوں کو سب سے آسان ہدف چین ملا ہے جس کو یہ دونوں ممالک قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ بی جے پی کے لئے یہ نسخہ کارآمد تو ثابت ہو ہی رہا ہے اب اپوزیشن کی طرف سے حکمران جماعت کو شکست دینے کے لئے بھی اسی کا سہارا لیا جارہا ہے ۔

اپوزیشن جماعت چین کو باہر کرو ٹویٹر ٹرینڈ کی بھر پور حمایت کررہی ہے۔ در اصل حزب اختلاف کی جماعت کو اچھی طرح پتہ ہے کہ خارجہ پالیسی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اندرونی پالیسی کی بنیاد پر انتخابات میں کامیابی یا ناکامی ملے گی۔ اس کو یہ بھی پتہ ہے کہ بھارت کی چین سے ڈی کپلنگ کی پالیسی سے بھارتی معیشت پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ لہذا وہ چین مخا لف پالیسی سے حکمران جماعت کو نا کام بنتا دیکھنا چاہتی ہے۔ اس وقت بھارت کی تمام سیاسی قوتیں بھارت چین تعلقات کم کرنے پر متفق ہوچکی ہیں اور اب ان کے درمیان مقابلہ اس بات کا ہے ۔ کہ دونوں بڑی جماعتوں میں سے کونسی جماعت چین مخالفت میں زیادہ آگے جاتی ہے ۔ دراصل حکمران جماعت اپنی داخلہ پالیسی میں ناکامیوں کے لئے قربانی کا بکرا تلاش کررہی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی کی ایسی پالیسیوں کو اپنانے پر زور دے رہی ہے جس سے بھارت کی معاشی ترقی کو نقصان پہنچے ۔

بھارتی سیاستدانوں نے امریکہ سے کچھ اور سیکھا نہ سیکھا ہو ، یہ ضرور سیکھا ہے کہ چین مخالف موقف اپنانے سے انتخابات میں فوری فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ، طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھیں تو، بھارت کی یہ پالیسیاں بیک فائر کریں گی۔ امریکہ ایک مثال قائم کر رہا ہے کہ کس طرح چین مخالف پالیسیاں دوغلی تلوار کی طرح کام کر سکتی ہیں۔ ایک طرف یہ پالیسی اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے استعمال کی جارہی ہیں تو دوسری طرف اپنے تحفظ پسندانہ مقاصد کے حصول کیلئے یہ عالمی سطح پر ڈی گلوبلائزیشن کی نئی کوشش بھی ہے۔

امریکہ کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو وہ اس طرح کی مہمات کرتارہتاہے کیونکہ اس کے پاس بہت بڑی معیشت ہے لہذا وہ پھر بھی اس کا متحمل ہوسکتاہے۔ لیکن اگر بھارت امریکہ کی نقل کرتاہے، تو اس کا اس کو زبردست نقصان اٹھا نا پڑے گا۔۔ آنکھ بند کرکے امریکہ کی پیروی کرنابھارت کے اپنے معاشی امکانات کو ختم کردے گا۔ ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے ، عالمگیریت اور کثیرالجہتی کا دفاع کرنا بھارت کے مفاد میں ہے کیونکہ ایک عالمگیر ایپروچ ہی غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی لانے میں مدد دیتی ہے ، اور دیگر ممالک اور بیرون ملک کے اداروں کے ساتھ صحت مندانہ مقابلہ ملکی معاشی اصلاحات کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس وقت ہندوستانی سیاسی جماعتیں عوامی مفاد پر مبنی طویل مدتی معاشی اور معاشرتی ترقی کے اہداف کی بجائے مختصر مدت کے انتخابی نتائج پر ہی نگاہ جمائے ہوئے ہیں۔ جس سے عام لوگوں کو نقصان ہوگا۔

اب بھارت سے چین پالیسی کے بارے میں عقلی آوازیں بہت کم آرہی ہیں اگرکوئی چین کے بارے میں مختلف رائے کا اظہار کرنے کی جرات کرتا بھی ہے تو اسے آڑے ہاتھوں لیا جاتا ہے ۔ جبکہ عام لوگ جو زیادہ سو جھ بو جھ والے نہیں ہیں ان سیاسی جماعتوں کی حمایت کررہے ہیں جو آنکھیں بند کر کے چین مخالف جذبات کو بھڑکارہے ہیں اور ان کے مفاد کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں ۔ ۔ لیکن یہ کھیل ہمیشہ نہیں چلےگا۔ آج کی عوامی جماعتوں کو نئی عوامی مقبولیت کا سامنا کرنا پڑے گا یا جب انہیں سیاسی جماعتوں کی حقیقت کا لوگوں کو ادراک ہو گا تو عوام انہیں ترک کردیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے