یوروپی کمپنیوں کا چین کی منڈی پراعتماد کا اظہار

متعدد یورپی کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ چین میں اپنے کاروبار کو مزید تو سیع دیں گی اور اپنی سرمایہ کاری بڑھائیں گی۔ کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ چین کی منڈی اب بھی صحت مند ترقی کررہی ہے اوران کا مستقبل چین میں زیادہ محفوظ اور روشن ہے ۔ان کمپنیوں نے چینی منڈی، چین کے اندر سرمایہ کار ی اور کاروبار کے بہتر ماحول کے بارے میں اعتماد کا اظہار ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکہ کے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو یورپی ممالک اور یورپی ممالک کی بڑی کمپنیوں کو چین سے ڈی کپل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔اور اسی مقصد کیلئے حال ہی میں یورپ کا دورہ مکمل کرکے آئے ہیں۔

یوروپی کمپنیوں کے نمائندوں کے مطابق امریکہ چین کی عالمی سطح پر مضبوط پوزیشن سے خوفزدہ ہے۔ امریکہ سمجھتاہے کہ چین کی مضبوط پوزیشن سے امریکہ کو خطرہ ہے حالانکہ چین عالمی امور کے بارے میں بہت مثبت اور واضح موقف رکھتاہے ۔ چین پر امن بقائے باہمی ، کثیر الجہتی اورعالمگیر ہم نصیب معاشرے کے قیام پر یقین رکھتاہے اور اس کے لیے کوششیں کرتاہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امریکہ کی سیاست سے کوئی غرض نہیں۔ ان کے پیداوار اور کاروبار کے لیے چین ایک بہترین ملک ہے۔ لہذا وہ کسی سیاسی کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے ۔

مشرقی چین کے صوبے جیانگ سو کے صوبے تائکنگ سوزہو میں متعدد جرمن کمپنیوں کے نمائندوں نے چینی میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنی کمپنیوں کو چینی سرزمین سے باہر منتقل کرنے کے لئے امریکی کمپنیوں کی پیروی نہیں کریں گے ، اس کے بجائے وہ اپنے چینی شراکت داروں کے ساتھ اپنے کاروبار کو مزید مضبوط کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں چین کی بڑی مارکیٹ اور امید افزا معیشت کی بہت قدرہے۔

1993 میں تائکانگ میں قائم کی جانے والی پہلی جرمن کمپنی ، کارن-لیبرس تائکنگ کمپنی کے ڈویژن منیجر ایمن گیمیوس نے کہا کہ جو کچھ امریکہ یورپ میں کررہا ہے "احمقانہ” ہے ، اور یورپی کمپنیاں ، خاص طور پر جرمن کمپنیاں ٹرمپ انتظامیہ کی بات نہیں سنیں گی۔

انہوں نے کہا ، "ایک آٹوموٹو کمپنی کی حیثیت سے ، ہم منڈیوں کو ان کی قدر کے حساب سے دیکھتے ہیں اور امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں چین ایک بہت بڑی آٹوموبائل کی منڈی ہے۔ چین ہر سال تقریبا پچیس ملین کاریں تیار کرتا ہے ، جب کہ یورپ صرف پانچ ملین پیدا کرتا ہے۔ یہ کمپنی عالمی سطح پر آٹوموٹو ، ٹیکسٹائل اور صارفین کی مصنوعات کی صنعتوں کو سپلائی کرتی ہے اور اگلے دس سال کی طویل مدتی ترقیاتی حکمت عملی کے تحت تائیکنگ میں ایک نئی فیکٹری بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی کی کمپنیاں چینی مارکیٹ سے باہر نہیں نکلیں گی ، کیونکہ یورپ میں معاشی بدحالی کے تنا ظر میں چین کی بڑی منڈی روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا ، "یورپ کے لوگوں کو اپنے کنبہ کی کفالت کے لیے ملازمتوں کی ضرورت ہے ، اور ہمیں چین میں مواقع نظر آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی طرز عمل کے پیچھے اصل محرک امریکہ کا یہ خدشہ ہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت امریکہ کی سپر پاور کی حیثیت کےلیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کوویڈ19 کے معاملے میں چین پر مسلسل تنقید کی ہے حالانکہ امریکی ردعمل کے برعکس چین کے کے شاندار نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ گیمیوس نے مزید کہا کہ مستقبل میں مزید ممالک مضبوط تر ہوں گے ، اوراب صرف ایک سپر پاور والی دنیا نہیں چلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تائکانگ میں کچھ جرمن کمپنیوں کے کاروبارکا ایک حصہ موجودہ چین امریکہ کشیدگی سے متاثر ہوا ہے، لیکن یہ اثرعارضی ہے۔

تائکانگ میں مہلے الیکٹرک ڈرائیوز کے منیجنگ ڈائریکٹر متجاز بریزیگر نے کہا کہ بعض مصنوعات جو چین میں تیار کی جاتی ہیں امریکہ برآمد پر بلند شرح محصول سے بچنے کیلئے یورپ بھیجنے پر غور کیا جارہاہے تاکہ وہاں سے امریکہ برآمد کی جائیں۔

انہوں نے کہا اس وقت یہ مسئلہ ایک بڑا چیلنج ہے ، کیوں کہ امریکی برآمدات ان کے کاروبار کا پچاس فیصد ہیں۔ تاہم وہ اگلے پانچ سالوں میں چینی مارکیٹ میں توسیع کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے ان کے کاروبار کا تقریبا ستر فیصد حصہ چین سے ہوجائے گا اس طرح اس کا اثر بہت کم ہوگا۔

تائکانگ میں ، ایسے حالات عام نہیں ہیں کیونکہ چین میں زیادہ تر جرمن کمپنیوں کی توجہ چینی مارکیٹ پر مرکوز ہے، تائکانگ مقامی حکومت سے جرمن کمپنیوں کو جوڑنے والے پلیٹ فارم ، تائیکانگ راؤنڈ ٹیبل کے چیئرمین ژانگ زینوی نے کہا ۹۸ جرمن کمپنیاں اس پلیٹ فارم کی رکن ہیں۔ ژانگ کے مطابق ، جرمن کمپنیاں عالمگیریت اور کاروبار کرنے میں عالمی سطح پر تعاون کو ترجیح دیتی ہیں ، اور تجارت میں تحفظ پسندی کو "نہیں” کہتیں۔

چین میں فرانسیسی کمپنیاں بھی سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہی ہیں۔

ژو مارک ڈگوا ، جو ایک فرانسیسی کمپنی بائیو ماریکس کے اکثریتی حصص کے ساتھ خودکار امیونو ازم ٹیسٹوں پر توجہ مرکوز کرنے والی کمپنی ، سوزو ہائوبوم بائیو میڈیکل انجینئرنگ کمپنی کے چیف ٹیکنیکل آفیسر ہیں نے چینی میڈیا کو بتایا کہ ان کی کمپنی سوزہو میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔ کچھ عرصہ قبل ، کمپنی نے اپنی موجودہ سائٹ کے قریب ایک نئی بڑی سائٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں چین کی معیشت پر اعتماد ہے۔ اوران کی کمپنی کووڈ۱۹ کی اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹس بنانے کیلئے اندراج کیلئے نئی درخواست دے رہی ہے۔ اور امید کی جارہی ہے کہ ٹیسٹ کٹس دوسرے ایشیائی ممالک میں بھی برآمد کی جائیں گی۔

اس سال کی پہلی سہ ماہی میں ، سوزہو نے 4.23 بلین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کا استعمال کیا جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 163 فیصد زیادہ ہے۔

جون میں یوروپی چیمبر کے ایک سروے کے مطابق ، سروے کے شرکا کے ۶۰ فیصد کی نظرمیں چین سرمایہ کاری کے لیے پہلے تین منزلوں میں سے ایک ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے