فِفتھیئے بمقابلہ نواز لیگ جرنلسٹ وِنگ

پاکستان میں دو طرح کے صحافی پائے جاتے ہیں، فِفتھیئے اور نواز لیگ جرنلسٹ وِنگ ۔ ایک وہ ہیں جو منتخب حکومت یا اداروں کے ہرغلط کام کو صیح ثابت کرنے میں دن رات ایک کرتے ہیں، جبکہ باقی ماندہ آزدی صحافت کے وہ چیمپین ہیں ، جنہیں ملک میں ہونے والی ہر سرگرمی کے پیچھے خفیہ ہاتھ دکھائی دیتا ہے۔ درحقیقت پاکستان میں صحافت کا ننگا ناچ جاری ہے، جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

سینیٹ انتخابات کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی پریس گیلری سیاسی اکھاڑہ بن جائیگی، کس نے سوچا ہو گا۔ جیسے ہی سینیٹ کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی غیر متوقع جیت کا اعلان ہوا۔ صحافیوں کا ردعمل دیکھنے کے قابل تھا، جو ردعمل کم اور جشن زیادہ تھا۔ صحافی ایک دوسرے کو مبارکبادیں پیش کرتے نظر آ رہے تھے، اکثر کے تو خوشی کے مارے آنسو تک نکل آئے۔دو روز کے بعد اسی پارلیمینٹ سے عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا تو پریس گیلری میں لگائے گئے نعروں کی گونج پورے پارلیمینٹ ہاؤس میں سنائی دی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ ایک خاتون صحافی زمین پر گُھٹنوں کے بل بیٹھے عمران خان زندہ باد عمران خان زندہ باد کے نعرے لگا رہی تھیں۔ صحافیوں کی سیاسی وابستگیوں کو چیلنج تو نہیں کیا جا سکتا ، البتہ یہاں سوال اٹھتا ہے، ایک صحافی اور سیاسی کارکن میں فرق کیسے ہو گا؟

بارہ مارچ کو چئیرمین سینیٹ کے انتخابات کور کرنے کیلئیے بیشتر صحافی سارا دن پارلیمینٹ ہاؤس میں اپنی زمہ داریاں ادا کرتے نظر آئے، اپوزیشن رہنماؤں نے پولنگ بوتھ سے خفیہ کیمرے برامد کیے تو ایک نئی بحث نے جنم لے لیا، ٹویٹر اور فیس بک پر صحافی آمنے سامنے آ گئے۔کیمروں کی حد تک حکومت کے حامی صحافیوں کیلے حکومت کا دفاع کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا، مگر وہ ڈٹے رہے۔ شام چھ بجے کے قریب گنتی کا عمل مکمل ہوتا ہے ، پریس گیلری میں تِل دھرنے کی بھی جگہ نہیں مگر جیسے ہی صادق سنجرانی کی جیت کا اعلان ہوتا ہے، پریس گیلری میں خاموشی چھا جاتی ہے، اکثر صحافیوں کی مایوسی دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے یوسف رضا گیلانی کی ہار نہیں خدا نا خواسطہ کسی کی موت واقع ہو گئی ہے۔

ہماری تاریخ اس طرح کے صحافتی ایڈوینچرز سے اَٹی پڑی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تو ایک بڑے چینل کا نامور اینکر ، اس قدر خوش تھا کہ اسکی خوشی ٹی وی اسکرین پر بھی خاصی نمایاں تھی، موصوف پَنچوں پر کھڑے ہو کر براہ راست رپورٹنگ کر رہے تھے۔ دیکھنے والوں کو یوں لگ رہا تھا جیسے فیصلہ نواز شریف کیخلاف نہیں اینکر موصوف کے اپنے حق میں آیا ہو۔ اسی سپریم کورٹ میں موجود کچھ صحافی نا صرف فیصلے پر نالاں نظر آ رہے تھے بلکہ حکومتی نمائیندوں کو فیصلہ لکھنے والے ججز کیخلاف ریفرنس تیار کرنے کا مشورہ بھی دے رہے تھے۔

ہم نے سیاسی جماعتوں کو مذہبی کارڈ کھیلتے دیکھا ہے ، حب الوطنی کے سرٹیفکیٹس بانٹنے والے بھی اسی معاشرے کی ایک تلخ حقیقت ہیں ۔ بدقسمتی سے دورِ حاضر کے افلاطون صحافی انہی غلطیوں کو دہرارہے ہیں۔ حال ہی میں ہوئے عورت مارچ کو ہر سال کی طرح بین الاقوامی سازش قرار دیا گیا۔ علماء حضرات یا سیاسی جماعتوں سے کیونکر شکوہ کریں، جب صحافی بھی غیر اخلاقی اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کا حصہ بن جائیں تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔ اپنے حقوق کیلیے آواز اٹھاتی خواتین کو اول تو انکے لباس پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اس سے بھی جی نہ بھرا تو مارچ میں اٹھائے گئے پلے کارڈذ کو ٹیمپر کیا گیا۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کہ ان خواتین کی بھی ذاتی زندگیاں ہیں، انہیں بھی لوٹ کر گھروں کو جانا ہے، اپنے خاندانوں کا سامنا کرنا ہے۔

نہ جانے کس کس کو قائل کر کے اور لڑ جھگڑ کر وہ اس مارچ کا حصہ بنی ہوں گی، مگر ہم صحافی یہ سب کیوں سوچیں، ہمیں تو غرض ہے ٹویٹر پر فالورز بڑھانے سے، سوشل میڈیا پر متحرک کئی صحافیوں نے بِنا تحقیق کیے غیر مصدقہ معلومات شئیر کرنا ضروری سمجھا۔ صرف یہ ہی نہیں بلکہ مبینہ طور پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عورت مارچ میں لگائے گئے نعروں کی آڈیو کو بھی ایڈٹ کیا گیا۔ جس کو بنیاد بنا کر کئی نام نہاد صحافیوں نے سوچے سمجھے بغیر انتہائی بے شرمی کیساتھ مارچ کے منتظمین کیخلاف توہین مذہب کی کاروائی کا مطالبہ کردیا. کسی نے عورت کے مسائل پر بات نہیں کی، کسی کو ریپ ، وراثت سے محرومی ، غیرت کے نام پر قتل ، تیزاب گردی، جبر کی شادیاں ، گھریلو تشدد، حراسگی ، تعلیم سے محرومی سمیت عورت کے مسائل نظر نہیں آئے۔

ایک سوال ہم صحافیوں کو خود سے کرنا چاہیے،کیمروں کی فلیش لائیٹس اور میڈیا کی چکا چوند میں ہم نے کہیں اس غریب اور پسے ہوئے طبقے کو بھلا تو نہیں دیا، جس کی آواز بننے کیلئے ہم میں سے اکثر نے اس شعبے کو چُنا تھا۔ یہ وقت شطر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرنے کا نہیں بلکہ سچائی کا سامنا کرنے کا ہے۔صحافیوں کو معاشرے کی آنکھ اور کان کہا جاتا ہے۔ زرا سوچیں جس معاشرے کی آنکھیں دھندلا جائیں اور کان سُن پڑ جائیں، کیا وہ زندہ معاشرہ کہلاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے