اسلامی نظریاتی کونسل نے گھریلو تشدد کے قانون کی کئی شقوں کے حوالے سے 2020ء میں اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا تھا اور سفارش کی تھی کہ جب تک کونسل اس قانون کے مسودے کا جائزہ نہ لے اس وقت تک اس بل پر قانون سازی کا عمل روک دیا جائے۔ قومی اسمبلی میں بل پیش کیے جانے کے بعد، کونسل نے نومبر 2020ء میں مسودے پر غور کیا۔ تاہم، کونسل کے فیصلے سے وزارت انسانی حقوق کو گزشتہ ماہ کے تیسرے ہفتے میں اس وقت آگاہ کیا گیا جب یہ بل سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد تنازع پیدا کر گیا۔ وزارت انسانی حقوق کے سینئر عہدیدار نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کونسل کا خط ملنے پر وزارت نے کارروائی روک دی تھی اور اب وزارت اسلامی نظریاتی کونسل کے مشورے کے بعد آگے کوئی اقدام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ بل اس وقت قومی اسمبلی کی ملکیت ہے۔ کونسل کے تحفظات کے بعد اور وزیراعظم کی جانب سے قانون سازی کا عمل کونسل کی رائے سامنے آنے تک روکنے کی ہدایت دیے جانے کے بعد گھریلو تشدد کے بل کے حوالے سے تمام کارروائی روک دی گئی ہے۔ یہ بل فی الوقت قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں موجود ہے جسے دوبارہ پیش کیا جائے گا تاکہ سینیٹ کی جانب سے کی جانے والی ترامیم کو منظور کرکے اسے باضابطہ طور پر قانون کی شکل دی جا سکے۔ جب یہ بل سینیٹ سے منطور ہوا تو ایک تنازع پیدا ہوگیا، کئی ارکان پارلیمنٹ، سیاست دانوں بشمول جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، سینیٹر مشتاق احمد اور جے یو آئی ف کے سینیٹر عطاء الرحمان اور مبصرین نے تحفظات کا اظہار کیا اور قانون کو انتہائی حد تک قابل اعتراض قرار دیا۔
حکومت سے سوشل میڈیا اور مرکزی میڈیا کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جائے کیونکہ اس کی کئی شقیں اسلامی تعلیمات کیخلاف ہیں۔ عوامی دبائو پر وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امُور بابر اعوان نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سے رابطہ کرکے کہا کہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا جائے۔ بابر اعوان نے یہ خط وزیراعظم عمران کان کی ہدایت پر لکھا جنہیں بتایا گیا تھا کہ بل میں کچھ شقیں غیر اسلامی نوعیت کی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ منگل کو کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اپنے وزراء سے کہا کہ معاملہ کونسل کو بھیجنا درست فیصلہ ہے۔ اگرچہ کونسل کو اب تک اس معاملے پر کچھ موصول ہونا ابھی باقی ہے لیکن کونسل کے سینئر عہدیداروں نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ وزارت انسانی حقوق کو کونسل نے پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ قانون سازی نہ کی جائے کیونکہ کونسل کو بل کی کئی شقوں پر تحفظات ہیں۔ دی نیوز کی جانب سے جمع کی گئی معلومات کے مطابق اکتوبر 2020ء میں بل قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد کونسل نے اس کا جائزہ لیا تھا۔ کونسل کے 222ویں اجلاس میں بل کی کچھ شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ان تحفظات سے وزارت انسانی حقوق کو آگاہ کیا گیا۔
وزارت کو بتایا گیا کہ بل کا مفصل جائزہ لینے اور مشاورت کیلئے وقت درکار ہے تاکہ کونسل حتمی رائے پیش کر سکے۔ حکومت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مفصل جائزے اور کونسل کی جانب سے حتمی رائے پیش کیے جانے تک قانون سازی نہ کی جائے۔ متعدد فون کالز کے باوجود متعلقہ وزیر دستیاب نہ ہو پائے، انہیں واٹس ایپ پر پیغام بھی بھیجا گیا۔ تاہم، جب وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بالاتر ادارہ ہے اور یہ کوئی بھی قانون منظور کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل صرف اپنی سفارشات پیش کر سکتا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ کابینہ اور اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کیے گئے بل میں کوئی بات غیر اسلامی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بل کا مقصد خواتین، بچوں اور دیگر کو گھریلو تشدد سے بچایا جا سکے گا اور یہ اسلام کی روح ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ جن لوگوں نے کابینہ میں بل منظور کیا اور اس کے بعد جن لوگوں نے پارلیمنٹ میں اسے منظور کیا وہ سب مسلمان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں ایسا ہی قانون منظور ہو چکا ہے تو ایسی صورت میں یہ بل کیسے غیر اسلامی ہو سکتا ہے؟