امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی کے تعاون سے تشکیل شدہ ایکسپینڈڈ پروگرام آن امیونائزیشن ( ای پی آئی) کا فیڈرل کمپلیکس انتہائی کارآمد اور مفید ثابت ہوا ہے۔ اس اعلیٰ پائے کے ویئر ہاؤس کی بدولت ملک میں بہترین اسٹوریج اور جدید ترین نظام قائم ہوگیا جس سے پاکستانی عوام کو بے پناہ فائدہ حاصل ہوا۔ یہ ویئر ہاؤس کورونا کے خلاف جنگ میں بھی وبا پھوٹ پڑنے کے پہلے دن سے کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے چارجڑ ڈی افیئرز ولیم اے سٹیورنے ویئرہاؤس کے خصوصی دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیشہ سے پاکستان کے ہر شعبے میں تعاون کررہا ہے اسی طرح اس عالمی وبا کے خاتمے تک وہ پاکستان کے ساتھ ہم ممکن تعاون کرتا رہے گا جو ہمیشہ جاری رہے گا۔ ولیم اے سٹیور کا کہنا تھا کہ امریکہ اب تک کورونا ویکسین کے 2 کروڑ 30 لاکھ خوراکیں پاکستان کو عطیہ کرچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ میں بہترین کارکردگی دکھانے پر حکومت پاکستان اور پوری قوم تعریف کی مستحق ہے۔
انہوں نے 10 کروڑ کورونا کی خوراکیں عوام کو دینے کا سنگ میل حاصل کرنے پر حکومت پاکستان کو خراج تحیسن پیش کیا۔ وئیر ہاؤس میں ویکسین لاجسٹکس مینیجمنٹ انفارمیشن سسٹم (وی ایل ایم آئی ایس) بھی نصب ہے جو ای پی آئی کے اسٹاف کو ملک بھر میں ویکسین کی سپلائی کو مانیٹر کرنے میں مدد دے رہا ہے۔فیڈرل ای پی آئی ویئر ہاؤس میں مختلف ویکسینز کئی سال تک محفوظ رکھی جاسکتی ہیں۔یہ بات عیاں ہے کہ اگر پاکستان کے پاس امریکہ کے تعاون سے بننے والا یہ ویئر ہاؤس موجود نہ ہوتا تو کورونا کے خلاف ویکسین حاصل کرنا اور ان ویکسینز کو محفوظ طریقے سے اسٹور کرنا نا ممکن ہوتا۔ امریکہ کی طرف سے پاکستانی عوام کو عطیے میں دیے جانے والا یہ تحفہ آج تک کئی جانیں بچانے میں مدگار ثابت ہوا۔