کبھی کبھی زندگی ایسا پلٹا کھاتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے، نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہوتے ہیں اور اسی کے ساتھ زندگی گزرتی ہے، بس اس نشیب و فراز میں صبر کا دامن انسان کا ساتھی ہوتا ہے، میری زندگی بڑی اچھی گزر رہی تھی، چار بچے اللہ نے دئیے، میں سکول ٹیچر تھی شوہر بھی اچھی پوسٹ پر تھے اللہ کا شکر تھا، اچانک ایسا واقعہ میری زندگی میں پیش آیا کہ میں دنگ رہ گئی .
ایک دن جب میرے شوہر شادی کے 18 سال بعد مجھ پر خرچ کیےپیسے گننے لگے حالانکہ میری پوری تنخواہ وہی لیتے تھے مگر میں کچھ نہیں کہتی تھی میں گھر میں ٹیوشن پڑھاتی تھی اور اسی ٹیوشن کی فیس سے اپنی ضروریات پوری کرتی تھی اور یہ سوچ کر چپ رہتی تھی کہ چلو لوگوں کے تو اس سے بھی برے حالات ہیں کم ازکم مجھے اجازت تو ہے کام کرنے کی، بچے بھی اچھے سکول میں پڑھتے تھے گھر بھی تھا گاڑی بھی تھی اور اللہ کا شکر گھر میں سکون بھی تھا اس لئے میں نے کبھی بھی اس بات کا شکوہ نہیں کیا کہ میری تنخواہ کیوں لیتے ہیں اور کبھی کسی کو کچھ بتایا بھی نہیں، بس اس وقت تھوڑا سا شرمندہ ہوتی تھی جب بہن بھائیوں کو کچھ ادھار مانگنا ہوتا تھا، جب وہ مجھ سے پیسے مانگتے تم تو جاب کرتی ہو میں کسی بھی ٹیچر سے ادھار لے کر دیتی تھی۔مگر پھر وہ ادھار میں کیسے اتارتی تھی یہ میں اور میرا اللہ ہی جانتا ہے، خیر بس دن گزر تے گئے مجھے سکول کی طرف سے اچھی ٹیچر ہونی کی وجہ سے کچھ بونس ملا تھا ،میں نے خوشی خوشی شوہر کو وہ لفافہ دیا اور اس میں سے کچھ پیسے لے لیے کوئی تقریبا تین ہزار روپے….
ایک ہفتے بعد جب میں نے دودھ کے پیسے مانگے تو میرے شوہر ہتھےسے اکھڑ گئے اور مجھے باتیں سنانے لگےابھی تو تم نے پیسے لیے تھے ان کا کیا کیا اتنا خرچہ ہے کیسے پورے کروں میرے شوہر نہ جانے کیا کیا بول رہے تھے اور میں حیرانی سے انہیں دیکھ رہی تھی، پھر بڑی ہمت کر کے کہا کہ وہ پیسے میں نے درزی کو دینے تھے اور یہ تو میں آپ سے دودھ کے پیسے مانگ رہی ہوں مہینہ پورا ہو گیا ہے، بس اتنا کہہ کے میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور مجھ سے پھر کچھ بولا نہیں گیا اور میں سوچنے لگی میں نے خود کو کتنا محدود کردیا تھا اپنے سارے شوق ختم کر دیے تھے، ایک پالرجانے کا شوق تھا تو وہ بھی پورا نہیں کرسکتی تھی کیونکہ بچے چھوٹی چھوٹی ضروریات مجھ سے کہتے تھے، یہ پیسے نہیں دیتے تھے تو میں کیسے پھر اپنے اوپر خرچ کرتی حالانکہ میرے شوہر کی بھی بڑے مہنگے مہنگے شوق تھے اور وہ انہیں پورا بھی کرتے تھے.
میری صرف اتنی سی خواہش تھی کہ وہ مجھے مہینے کے جیب خرچ دیں ، میں اکثر باتوں باتوں میں ان کو کہتی تھی مگر وہ میری بات کو دھیان سے نہیں سنتے تھے اور کوئی نوٹس نہیں لیتے تھے آخر میں نے بھی کہنا چھوڑ دیا، مجھ سے پیسے مانگے نہیں جاتے تھے اور میں سوچتی تھی کہ کیا ان کو نہیں پتا کہ کتنے خرچےہوتے ہیں، انہوں نے کبھی عیدوں پر کپڑے بھی نہیں بنا کے دیئے اور پوچھتے بھی نہیں تھے کہ عید پر کیا پہننا ہے کیا بنانا ہے اور اسی طرح کی نہ جانے چھوٹی چھوٹی 18 سالوں کی باتیں سب مجھے یاد آ رہی تھیں اور آنکھوں سے آنسو تھے کے رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے.
آج چند ساعتوں میں پورا ماضی گھوم گیا تھا میری نظروں کے سامنے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر اچانک مجھے اپنی ٹیچر کے کچھ جملے یاد آئے جن پر میں ہنسا کرتی تھی اور کہتی تھی کہ ایسے نہیں کہا کریں وہ کہتی تھی کہ شوہر اور سانپ دونوں کا کام ڈسنہ اور میں اس بات پر ان کو منع کرتی تھی، ایسے نہیں کہا کریں مگر آج میں ایک بات ضرور سوچتی ہوں ایک سین ہے دوسرا شین ہے نقطوں کے واضح فرق کے ساتھ ایک فرق یہ بھی ہے کہ سین کا ڈنسا فورا مرجاتا ہے مگر شین کا ڈنسا پل پل مرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔!