دو بھائی اور ان کا گھوڑا

ایک دفع کا ذکر ہے ایک گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے: اَخپُط کیانی اور نَخپُط کیانی۔ دونوں بھائیوں کی شخصیت اور حیثیت گاؤں میں خاصی مشہور تھی۔ اخپط کیانی باتوں کا بادشاہ، خوش لباس، لطیفوں کا شوقین اور ہر وقت ہنسی مذاق میں مصروف رہنے والا شخص تھا۔ اس کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ دوسری طرف نخپط کیانی نسبتاً سنجیدہ مزاج، خاموش طبع اور ہمیشہ اخپط کیانی کے کاموں میں ہاتھ بٹانے والا تھا۔ اس کے چار بچے تھے۔

گاؤں کی رائے ان دونوں بھائیوں کے بارے میں منقسم تھی۔ آدھا گاؤں انہیں پسند کرتا تھا اور آدھا ناپسند۔ بات یہاں تک پہنچی کہ پسند اور ناپسند کرنے والے آپس میں الجھنے لگے، لڑائیاں ہونے لگیں، اور گاؤں کا سکون خراب ہونے لگا۔

ایک دن گاؤں میں ہلچل مچ گئی۔ خبر پھیلی کہ اخپط کیانی نے ایک نہایت قیمتی اور خوبصورت گھوڑا خریدا ہے۔ وہی اخپط کیانی جس کی آمدنی کے بارے میں سب جانتے تھے کہ محدود ہے۔ فوراً سوال اٹھا:

"یہ گھوڑا کہاں سے آیا؟ اتنے پیسے اخپط کیانی کے پاس کہاں سے آئے؟”

ناپسند کرنے والے تو جیسے اسی موقع کے انتظار میں تھے۔ انہوں نے سوالات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ مگر پسند کرنے والے بھی چپ نہ بیٹھے، جھگڑا شروع ہوگیا۔ طے ہوا کہ معاملہ سلجھانے کے لیے گاؤں کے چند لوگ اخپط کیانی، نخپط کیانی اور ان کے بچوں سے الگ الگ پوچھ گچھ کریں گے۔

سب سے پہلے اخپط کیانی کی محفل میں لوگ جا پہنچے، جہاں وہ حسبِ معمول لطیفے سنا رہا تھا۔

"اخپط بھائی، ایک سوال ہے، برا نہ منائیے گا۔ گھوڑا کہاں سے خریدا؟ پیسے کہاں سے آئے؟”

اخپط کیانی مسکرایا، قہقہہ لگایا اور بولا:

"اگر میری آمدنی کم ہے اور میں نے پھر بھی گھوڑا خرید لیا ہے، تو کسی کو کیا تکلیف ہے؟ اور ویسے بھی، میرا باپ تو بڑا امیر آدمی تھا!”

دوسری جانب لوگ نخپط کیانی کے پاس پہنچے۔ اس نے سادگی سے جواب دیا:

"یہ سوال میرے بڑے بھائی سے ہی پوچھیں۔ میں تو ایک غریب کسان کا بیٹا ہوں، مجھے کچھ نہیں پتا۔”

اب اخپط کیانی کے بیٹے سے پوچھا گیا:

"تمہارے والد کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے؟”

وہ بولا:

"گھوڑا خریدنا کون سا بڑا مسئلہ ہے؟ ہمارا دادا تو اس علاقے کا سب سے امیر آدمی تھا!”

لیکن جب اخپط کیانی کی بیٹیوں سے پوچھا گیا، تو وہ بولیں:

"ہماری جیبیں تو خالی ہیں، ہم تو سادہ زندگی گزارنے والی عام لڑکیاں ہیں۔”

ادھر نخپط کیانی کا بیٹا صحن میں بیٹھا اپنے بچوں کو سمجھا رہا تھا:

"دیکھو بچو، چھوٹی موٹی بے ایمانی ہو جائے تو برا نہیں منانا چاہیے۔ زندگی ایسے ہی چلتی ہے!”

یہ سن کر لوگ مزید الجھ گئے۔ کسی کا باپ امیر، کسی کا دادا، کسی کی جیب خالی، اور کسی کے اصول مشکوک!

تب سے گاؤں کے لوگ دن رات یہی حساب لگاتے رہے:

کون امیر ہے، کون غریب؟ پیسے کہاں سے آئے؟ سچ کیا ہے، جھوٹ کیا؟

اور ادھر اخپط کیانی اور نخپط کیانی، لوگوں کی اس الجھن پر خوب محظوظ ہوتے رہے۔ ان کے کندھوں سے سوالوں کا بوجھ ہٹ چکا تھا۔ وہ آزاد ہو چکے تھے۔ اب وہ اور بھی گھوڑے خریدتے رہے، پر گاؤں میں کبھی کسی نے دوبارہ سوال نہ اٹھایا۔

کیونکہ گاؤں سوالوں میں ایسا الجھا، کہ سچ کا راستہ دھندلا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے