ہمیں پیدا ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی معلوم ہو گیا تھا کہ ہم غلط گھر میں، غلط ملک میں اور غلط سیارے پر پیدا ہوئے ہیں اور ہم یہاں ہر لحاظ سے مس فٹ ہیں۔ پیدا ہونے کے بعد سے لے کر آج تک ہمارے ساتھ کبھی کچھ اچھا نہیں ہوا اور اگر کبھی غلطی سے ہو جائے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں کہ یہ کیسے ہو گیا۔
لیکن یہ ہماری وجہ سے نہیں ہوتا۔ ہم تو ہمیشہ ٹھیک ہی سوچتے ہیں اور ٹھیک ہی کرتے ہیں۔ مسئلہ ہمارے آس پاس موجود لوگوں کا ہے۔ ان کی ذہنی سطح اس بلندی تک پہنچ ہی نہیں پاتی جس بلندی پر ہمارے خیالات رہتے ہیں۔
ہمارا بچپن بھی کچھ زیادہ ٹھیک نہیں تھا۔ ماں باپ ہم سے پیار ہی نہیں کرتے تھے۔ ہم سے ہمیشہ عجیب عجیب چیزوں کی ڈیمانڈ کرتے تھے۔ اماں کہتی تھیں ہر روز نہاؤ۔ ہم اس کو انتہائی فضول اور لغو حرکت سمجھتے تھے۔ کیا ضرورت ہے ہر روز کئی گیلن پانی اپنے جسم پر ڈال کر ضائع کرنے کی؟ اس سے معاشرے میں کیا بہتری آ جائے گی بھلا؟ اور پھر یہ کیسی شرمناک حرکت ہے ہر روز کپڑے اتار کے نہانے کے نام پر ننگے ہونا اور اپنی ہی نظروں میں گرنا۔ اماں کہتی تھیں نہانے سے طبیعت ہشاش بشاش رہتی ہے۔ ہم تو موموز کھا کر بھی ہشاش بشاش ہو جاتے تھے۔
سکول میں بھی ہمیں اساتذہ اور کلاس فیلوز ٹھیک نہیں ملے۔ ہمارے ایک استاد محترم نے فرمایا کہ گھر میں بھی سکول کا ماحول بنا کر پڑھائی کیا کرو۔ اگلے دن جب ہم دوست کی مدد سے اپنا ڈیسک اٹھا کر سکول کا گیٹ پار کر رہے تھے، پی ٹی سر نے پوچھ لیا، ڈیسک کہاں لے جا رہے ہو؟ ہم نے بتا دیا کہ گھر میں سکول کا ماحول بنانے جا رہے ہیں۔ اس بات پر پرنسپل کے سامنے پیشی کیوں ہوئی؟ اپنے استاد کی بات ماننے پر سزا کیوں دی گئی؟ ہمیں آج تک سمجھ نہیں آئی یہ بات۔
ہم اس معاشرے میں ہمیشہ سے ہی مس فٹ تھے اور رہیں گے۔ یہاں کے چھوٹی سوچ کے حامل لوگ ہمارے بلند خیالات تک پہنچنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔
نوکری شروع کی تو ہماری بدقسمتی، نہ کوئی افسر ڈھنگ کا ملا نہ کوئی کولیگز۔ ایک دن ہمارا باس ہمارے پاس آیا اور بولا، تم یہ مار دھاڑ والی فلمیں مت دیکھا کرو۔ ہم نے کہا، جناب یہ ہماری ذاتی چوائس ہے، آپ کو کیا۔ بولے، آفس میں مت دیکھا کرو۔
سچ پوچھیں تو یہ آفس اور نوکری کا تصور ہم سمجھ ہی نہیں پائے۔ آپ ہر روز آفس جائیں اور تنخواہ آپ کو صرف ایک دن ملے؟ یہ کیا بات ہوئی؟
ہمارا باس بار بار کہتا ہے، یہ آفس ایک فیملی ہے۔ کیسی فیملی بھائی؟ صرف بنیان پہن کر تو آفس میں جانے نہیں دیتے۔ فیملی تو نہ ہوئی پھر۔
پھر ہم نے جاب چھوڑ دی۔ آفس والے کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے نکالا۔ اس پر ابھی بحث چل رہی ہے۔ جاب چھوڑ کر ہم خوش رہنے لگے۔ لیکن ایک دوست نے بتایا کہ یہی موقع ہوتا ہے ڈپریشن میں جانے کا۔ کوشش کی، کچھ سمجھ میں نہ آیا تو ڈاکٹر کے پاس چلے گئے اور اسے بتایا کہ کسی چیز میں دل نہیں لگ رہا، کوئی کام کرنے پر طبیعت مائل نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر نے بتایا، یہ ڈپریشن نہیں ہے، اسے حرام خوری کہتے ہیں۔ مجھے تو ڈاکٹر ہی جعلی سا لگا۔
شادی ہوئی تو کسی نے کہا بیگم سے ہمیشہ صاف سچ بات کرو گے تو گھریلو زندگی پر سکون رہے گی۔ ایک دن ہماری بیگم بہت لاڈ سے بولیں، اگر میں مر گئی تو آپ کیا کریں گے؟ ہم نے کہا دفنائیں گے۔ صاف اور سچ جواب دیا لیکن آج دو مہینے ہو گئے، اپنی والدہ کی طرف گئی تھیں، واپس نہیں آئیں۔
ایک دن ہمیں محسوس ہوا جیسے ہمارا وزن کچھ بڑھ رہا ہے۔ دوستوں سے مشورہ کرکے ایک جم میں جانا شروع کیا اور ایک ٹرینر بھی ہائر کر لیا۔ ٹرینر نے کہا گرین ٹی پیا کرو۔ ہم گھر آئے اور گرین ٹی بنائی لیکن دودھ ہی پھٹ گیا۔ پھر بنائی، پھر دودھ پھٹ گیا۔ تیسری بار بھی یہی ہوا۔ ہم نے ایسے غبی ٹرینر کو ہی چھوڑ دیا۔
کسی غلط جگہ پیدا ہو جانا اور پھر غلط لوگوں میں زندگی گزارنا کتنے حوصلے اور برداشت کی بات ہے، یہ دکھ تو کوئی ہم سے پوچھے۔