سندھ میں لڑکیاں کاروکاری کا شکار ہوتی ہیں،پنجاب میں یہ کالا کالی،کارو کاری کہلاتا،کے پی کےمیں طورطورہ جبکہ بلوچستان میں سیاہ کاری کہا جاتا ہے،نام الگ الگ ہیں مگر جرم ایک ہی ہے غیرت کے نام پر قتل۔
بلوچستان کی ایک وڈیو آج کل سوشل میڈیا پر نظر آرہے جس میں 20 سے زائد مسلح افراد ایک جوڑے کو پہاڑوں میں لے جاکر بے دردی سے قتل کر رہے ،جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نےایک سال قبل پسند شادی کی تھی ، خاندان والوں نے دعوت کے بہانے جوڑے کو واپس بلایا۔جب یہ جوڑا اپنے آبائی علاقے میں پہنچا تو خاندان کے افراد نےفائرنگ کرکے سر عام موت کے گھاٹ اتار دیا۔
غیرت کے نام پر ایسے قتل کے واقعات ہر تھوڑے عرصے بعد دیکھنے کو ملتے ہیں. رواں سال اپریل میں مانسہرہ کی رابعہ شاہ اور اس کی 18 ماہ کی شیر خوار بچی کو مقتولہ کے خاندان نے قتل، 2012،یونیورسٹی کی طالبہ صدیقہ، جسے امبر کے نام سے جانا جاتا تھا، نے اپنی مرضی سے شادی کی۔ اس ‘جرم’ کی پاداش میں اس کے اپنے بھائی نے اسے گولی مار دی۔یہ کیس اس لیے منفرد اور ہولناک تھا کہ قاتل بھائی نے سوشل میڈیا پر فخریہ انداز میں قتل کا اعتراف کیا ، 2014 فرزانہ پروین کا ہولناک قتل جب انہیں اینٹیں اور پتھر مار کے والد، دو بھائی اور سابق منگیترسمیت تقریبا بیس حملہ آوروں کے ہاتھوں قتل کیا گیا،فرازانہ کا قصور بھی پسند کی شادی تھی،فرازنہ کے والد نے بیان دیا کہ "میں نے اپنی بیٹی کو قتل کیا کیونکہ اس نے ہماری رضامندی کے بغیر شادی کرکے ہمارے پورے خاندان کی بے عزتی کی تھی اور مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ پاکستان کی پہلی سوشل میڈیا اسٹارقندیل بلوچ کا اپنے بھائی کے ہاتھوں قتل ، جس کا چرچا دنیا بھر میں ہوا تھا۔
پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل ایک سنگین مسئلہ ہے، جس میں خاندان کے افراد، خاص طور پر خواتین کو، خاندان کی نام نہاد "عزت” کی خاطر قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ قتل اکثر ان خواتین کے خلاف کیے جاتے ہیں جن پر خاندان کے مردوں کو یہ شک ہوتا ہے کہ وہ کسی ایسے تعلق میں ملوث ہیں جو خاندان کی روایات کے خلاف ہے انہوں نے برادری سے باہر شادی کر لی ہے یا گھر سے بھاگ گئی ہیں خاندان کے افراد کو معاشرے کی طرف سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان پر دباو ڈالا جاتا ہےکہ وہ خاندان کی "عزت” کو برقرار رکھیں ۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی خواتین کا غیرت کے نام پر قتل بھی ایک پیچیدہ اور افسوسناک مسئلہ ہے، جس میں خاندانی اقدار، ثقافتی روایات اور قانونی پیچیدگیوں کا امتزاج شامل ہے۔ یہ واقعات اکثر اس وقت پیش آتے ہیں جب خاندان کے افراد کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کسی خاتون کے اعمال سے ان کی "عزت” کو خطرہ لاحق ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانی خاندان اکثر دو مختلف ثقافتوں کے درمیان کشمکش کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوان خواتین مغربی طرز زندگی سے متاثر ہوتی ہیں، جو ان کے روایتی خاندانوں کے ساتھ تنازعات کا باعث بن جاتی ہیں خاندان کے بزرگ اکثر نوجوان خواتین پر روایتی اقدار پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں، اور نافرمانی کو "بے عزتی” سمجھا جاتا ہے۔رواں سال کے آغاز میں امریکہ سے کوئٹہ شفٹ ہوئی ایک فیملی میں والد نے بیٹی کو اس لیے قتل کر دیا کہ وہ نامناسب لباس پہنتی ہے اور ٹک ٹاک بناتی ہے ،2016 میں سامعہ شاہد برطانیہ سے جھوٹ بول کر پاکستان بلایا گیا ،ان کوریپ کے بعد گلہ گھونٹ کے قتل کیا گیا ۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً ایک ہزار خواتین قریبی رشتہ داروں، باپ، بھائی یا بیٹے کے ہاتھوں ”خاندانی عزت‘‘ کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں جنوری سے نومبر تک 392 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں۔ ان میں سے پنجاب میں 168، سندھ میں 151، خیبر پختونخوا میں 52، بلوچستان میں 19 جب کہ اسلام آباد سے دو کیسز رپورٹ ہوئے۔پنجاب میں گذشتہ 13 برسوں یعنی 2011 سے 2023 کے دوران تین ہزار 480 افراد نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیے جا چکے ہیں۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ اعداد و شمار صرف ان واقعات کی عکاسی کرتے ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
سماجی رہنما فرزانہ باری نے ان واقعات کو افسوسناک قرار دیا انہوں نے غیرت کے نام پر قتل کے نام کو بدلنے کی بات کی ان کا کہنا تھا کہ کسی کو قتل کرنے میں ٖغیرت کا کوئی کردار نہیں ہےاور جو غیرت کے نام پر قتل کئے جاتے ہیں اکثر ان کے پیچھے محرکات کوئی اور ہوتے ہیں جائیدان کے تنازعات یا ذاتی رنجشیں ۔ہم بالغ عورتوں اور اکثر مردوں کو اختیارات نہیں دینا چاہتے مار پیٹ اور ڈر کے زریعے خاندان پر اپنا روب رکھنا چاہتے ہیں۔
غیرت کے نام پر قتل کوئی نئی بات نہیں ہے صدیوں سے یہ فرسودہ روایات چلی آرہی ہیں اس کو ختم کرنے کے لئے جرگہ سسٹم کا ختم ہونا ضروری ہے جس کے تحت کارو کاری کے فیصلے سنائے جاتے ہیں۔لوگوں میں شعوراجاگر کرنا اور تعلیم کی فراہمی اور مجرموں کو معاف نہ کرنا اس مسئلے کا حل ہے اکثر کیسسز میں ورثا ملزم کو معاف کر دیتے ہیں ۔