سیاحت اور پاکستان کا ایک خوبصورت علاقہ ضلع دیر

سیاحت سیر و تفریح، خوشی و مسرت، واقفیت و عقیدت اور تلاش و جستجو کے تحت اختیار کیے جانے والے اسفار کو کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سیاحت ایک بہت بڑی عالمی سرگرمی بلکہ انڈسٹری بن چکی ہے۔ ایک تحقیقی اندازے کے مطابق سال 2020ء میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک بغرض سیاحت سفر اختیار کرنے والوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ارب ہے، اس طرح ایک اور اندازے کے مطابق 2011ء میں امریکہ کو بین الاقوامی سیاحت سے 116 ارب، فرانس کو 60 ارب اور چین کو 48 ارب ڈالرز کی آمدن ہوئی تھی مزید برآں سیاحت کی انڈسٹری میں ہر گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

سیاحت کے بڑھتے رجحان کے سبب اب اکثر ممالک میں تفریح گاہوں، ہوٹلوں، مختلف خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں، ٹرانسپورٹیشن، نت نئے جابز اور اشتہاری صنعت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اب سیاحت قومی معیشت کا اہم ترین حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ 2019ء کو دس کروڑ سیاحوں نے فرانس کا رخ کیا تھا یہ ایک ریکارڈ ہے۔ پورا یورپ، امریکہ، آسٹریلیا، چین، جاپان، ترکی، تھائی لینڈ اور ملائیشیا تازہ ترین معلومات کے مطابق سیاحوں کے من پسند مقامات ہیں۔

سیاحت نہ صرف سیر و تفریح، صحت، تجارت، ملازمت، تعلیم اور آگاہی کے لیے ایک مفید سرگرمی ہے بلکہ اس سے مقامی آبادیوں اور ملکی اقتصادیات کو بھی روزگار، خدمات اور خوشحالی کے لامحدود مواقع اور امکانات میسر آرہے ہیں۔ سیاحت کے دوران مختلف ثقافتی اور سماجی پس منظر رکھنے والے لوگوں کو ایک دوسرے سے مفید واقفیت ہو جاتی ہے ان میں ایک دوسرے کے لیے کشش اور مانوسیت کے جذبات محسوس کیے جاتے ہیں اس عمل سے ایک دوسرے میں موجود اچھائیوں، خوبیوں اور صلاحیتوں سے خاطر خواہ آگاہی میسر آتی ہے یوں بہتر اور مفید چیزیں اور اقدار ایک مقام سے دوسرے مقام تک پیش قدمی کرتے اور مختلف دل و دماغ میں جگہ پکڑتے رہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے تمام انسان مختلف قسم کے کمالات کے خزانے ہوتے ہیں، رابطے اور تعلق سے ان خزانوں کو دریافت کرنے میں مدد ملتی ہے۔

سیاحت کی مختلف اقسام دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں مثلاً

تفریحی سیاحت،

مذہبی سیاحت،

علمی سیاحت

اور تاریخی سیاحت وغیرہ

پاکستان اس اعتبار سے ایک خوش قسمت ملک واقع ہوا ہے کہ یہاں کے قدرتی حسن اور مناظر، ثقافتی تنوع، تاریخی پس منظر، مقامی مرنجا مرنجی، موسمی رنگا رنگی، مذہبی مرکزیت اور علاقائی ثقافتوں میں بے تحاشا کشش اور جاذبیت موجود ہے لیکن بد قسمتی سے حکومتیں اپنے ہاتھوں پیدا کردہ پریشانیوں میں اس قدر گرفتار رہتی ہیں کہ انہیں سیاحت جیسے شعبوں کو وقت، وسائل اور توجہ دینے کی مہلت ہی نہیں ملتی۔ عمران خان حکومت آغاز میں سیاحت کے فروغ کے حوالے سے کافی پرجوش دکھائی دے رہی تھی، سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف دعوےٰ اور عزائم بھی ظاہر کیے جا رہے تھے لیکن افسوس عملاً بات زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھی۔

عصر حاضر میں سیاحت کے حیران کن فروغ نے مختلف قسم کی ضروریات، اخلاقیات، اقدار اور سہولیات کو جنم دیا ہے آسانی، نرمی، شائستگی، تحفظ اور آزادی کا احساس جس کی جان ہے۔ پاکستان میں سیاحتی مواقع اور مقامات بہتات سے موجود ہونے کے باوجود وہ ڈھانچہ، سہولتیں، تحفظ اور معلومات دستیاب نہیں جو عالمی اور علاقائی سیاحوں کی توجہ مبذول کرائیں۔ اس کے علاؤہ بین الاقوامی واقفیت اور عالمی اخلاقیات سے عام آبادی بے گانگی ہے اس وجہ سے نئے لوگوں کو اپنے درمیان پا کر انہیں عجیب و غریب نظروں سے دیکھا جاتا ہے یوں وہ عدم تحفظ کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔

حکومت کو چاہیئے کہ وہ نہ صرف سیاحت کے لیے درکار ماحول، ڈھانچہ اور سہولیات کا انتظام یقینی بنائیں بلکہ مقامی آبادیوں کو ضروری تربیت اور کچھ بین الاقوامی اخلاقیات سے بھی روشناس کرائیں تاکہ وہ سیاحوں کو عجیب و غریب نظروں سے دیکھنے کے بجائے انہیں بہتر تاثر دینے میں کامیاب ہوں، یاد رہے بین الاقوامی اخلاقیات کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ مقامی آبادی اپنی تہذیب، اقدار اور اخلاقیات بھول جائیں اور نہ یہ مطلب ہے کہ وہ کوئی بدتمیزی، بداخلاقی یا ہڑبونگ برداشت کریں۔ دونوں فریقین کو اس معاملے میں ففٹی ففٹی کے آفاقی اصولوں کا لحاظ رکھنا چاہیے اور ہاں مقامی آبادی کو سیاحت سے ملنے والے فوائد اور امکانات سے بھی کما حقہ آگاہ کریں۔

دیر (اب دو اضلاع ہیں یعنی بالا اور پائین) پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کا ایک خوبصورت، پُرفضا اور پُرسکون علاقہ ہے۔ ضلع دیر پاکستان کے بہت ہی منفرد علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ ضلع دیر اسلام آباد سے تقریباً 265 کلومیٹر اور پشاور سے تقریبا 180 کلومیٹر مٹر شمال میں واقع ہے۔ حال ہی میں پختونخوا حکومت کا بنایا ہوا ملاکنڈ موٹر وے جو کہ سوات ایکسپریس وے کے نام سے مشہور ہے مکمل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے آمد و رفت بہت تیز اور آسان ہوچکی ہے۔ اسلام آباد سے اب تقریباً ڈھائی تین گھنٹے فاصلے پر دیر واقع ہے۔

ملیزی اقوام جو کہ یوسفزئی قبیلے کے ذیلی شاخیں ہیں اور جنہوں نے طویل عرصے سے ضلع دیر کو اپنا مسکن بنایا ہوا ہیں۔ اتمان خیل یہاں کی اکثریتی برادری ہے جبکہ سادات، صاحب زادگان، سواتی اور گجر بھی قدیمی اور اصلی باشندے ہیں۔

ساڑھے پانچ ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ضلع دیر پاکستان میں شمولیت سے پہلے باقاعدہ ایک ریاست تھی جس پر اخون خیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا نوابی خاندان حکمرانی کر رہا تھا۔ 1969ء میں (شاہجہان دور میں) یہ پاکستان میں ضم کی گئی اور 1970ء کو مالاکنڈ ڈويژن بننے کے بعد اس کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔1996 ميں ضلع دير کو مزيد دو حصوں یعنی لوئر دیر اور اپر دیر میں تقسيم کيا گيا۔ يہ ضلع اپنے خوبصورت مناظر، دل آویز وادیوں، تاریخی حیثیت، معتدل موسم اور محنت کش افرادی قوت کے سبب کافی مشہور ہے۔ معاشی ذرائع ميں جنگلات، معدنی دولت، مال مویشی، کھيتی باڑی ،تجارت اور سمندر پار روزگار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

پینتیس لاکھ سے زائد آبادی رکھنے والا ضلع دیر دل فریب وادیوں کا ایک مجموعہ ہے جو مشرق میں سوات، مغرب میں قبائلی علاقہ جات اور افغانستان، شمال میں دیر بالا سے لگا ہوا ہے جبکہ جنوب میں مالاکنڈ واقع ہے۔ یہاں کے مناظر دلکش اور خوشگوار ہیں۔ اب و ہوا متعدل، لوگ تندرست جبکہ پانی کے ذخائر بالکل میٹھے اور قدرتی ہیں۔ یہاں مختلف فصلیں بھی اُگتی ہیں۔ گندم، مکئی اور چاول یہاں کی اہم فصلیں ہیں جبکہ مالٹا اور اخروٹ بھی یہاں کی خاص پیداوار ہے۔ ضلع دیر کی عوام سو فیصد سُنی مسلمان ہیں اور یہاں پشتو کا یوسفزئی لہجہ بولا جاتا ہے۔ یاد رہے پشتو زبان میں دو بڑے لہجے استعمال ہو رہے ہیں ایک قندہاری لہجہ اور دوم یوسفزئی لہجہ۔

دیر پاکستان کے دیگر شمالی علاقوں کی طرح قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہے جو سرسبز وادیوں اور برف پوش پہاڑوں پر مشتمل ہے لیکن بنیادی ڈھانچے کی تشکیل و تعمیر اور ضروری خدمات اور سہولیات کی جانب حکومت کی کوئی خاص توجہ نہیں جس کی وجہ سے یہاں پر سیر و تفریح کو فروغ نہیں مل رہا۔ صوبہ بھر سے تو یہاں لوگ سیر و تفریح کے غرض سے آتے رہتے ہیں لیکن پاکستان کے دیگر صوبوں سے آمد کافی کم جبکہ بین الاقوامی سطح پر سیاحوں کی آمد و رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ میرا خیال ہے ضلع دیر میں سیاحتی کشش بے حد زیادہ ہے بس حکومت ضروری اقدامات اٹھا کر سیاحت کو فروغ دیں۔ اگر دیر کے لوگوں کو قدرتی گیس کی سہولت فراہم ہو جائے تو جنگلات کی کٹائی روکی جا سکتی ہے جو کہ حسین نظاروں کے ساتھ ساتھ ماحولیات پہ بھی اثر انداز ہو رہی ہے اس کے علاؤہ ضرورت کے مطابق بجلی اور پکی سڑکوں کی تعمیر سے نہ صرف عوام کی زندگیاں آسان ہو سکتی ہیں بلکہ یہ سہولیات سیاحت کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

ضلع دیر پاکستان کا ایک ایسا خوبصورت مقام ہے جو نہ صرف قدرتی حسن اور نظاروں سے خوب مالامال ہے بلکہ وہاں کے سماجی، اخلاقی، ثقافتی اور مزاجی ہیئت میں بھی جذب و کشش کا سامان وافر مقدار میں موجود ہے۔ دیر کے لوگ عام طور پر بے حد خوش اخلاق، نرم مزاج، مہمان نواز، شریف النفس اور جلدی میں گھل مل جانے والے ہیں۔ مہمانوں کے نہ صرف خوش دلی سے استقبال کرتے ہیں بلکہ ان کی عزت اور احترام کا پورا پورا لحاظ بھی رکھتے ہیں۔ میں بے شمار لوگ ایسے ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جنہوں نے مختلف اوقات میں دیر کی سیاحت کر کے اپنی بے انتہا خوشی و مسرت کا اظہار کیا ہے اور تو اور خود سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان نے دیر بالا کے علاقے وادی کمراٹ کے حوالے سے حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ایسا مقام تو میں نے یورپ میں بھی نہیں دیکھا”۔ اس طرح دیر پائیں میں میدان کا مشہور مقام گلی باغ اور بن شاہی بھی قدرتی خوبصورتی کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ گلی باغ ایک سحر انگیز سیاحتی مقام ہے، گلی باغ کے پہاڑ، سرسبزی، شفاف پانی اور تازہ خوشبودار ہوائیں لوگوں میں گویا خوشی، تازگی اور توانائی بھر دیتی ہیں وہاں جاکر بندہ دم بخود رہ جاتا ہے اور قدرت کے حسین نظاروں میں کھو جاتا ہے۔

یہ 2007ء کی بات ہے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھ رہا تھا کہ ایک جاپانی نو مسلم سعید سے میرا تعلق بنا، موصوف ڈیڑھ دو سال میری میزبانی میں بھی رہے، ایک موقع پر وہ دیر (کمبڑ، میدان) میرے ساتھ گئے اور تقریباً ہفتے تک وہاں مقیم رہ کر واپس آئے تھے۔ لوگوں نے مقدور بھر ان کی مہمان نوازی اور خدمت کی۔ ہم نے ان کو بعض تفریحی مقامات (سرمخے، سنگولئی، سرلڑہ وغیرہ) پر بھی ساتھ لے کر گئے تھے، ہائی اسکول سنگولئی کے دورے کے دوران اس کو طلبہ سے خطاب کا موقع بھی دیا گیا تھا جب یہ پتہ چلتا کہ یہ نو مسلم ہے تو ان سے لوگ نہایت محبت اور احترام سے پیش آتے۔ کئی لوگوں نے اسے اپنے ہاں مدعو کیا تھا اس سلسلے میں ایک مرتبہ ہم شہید سید عبد الکلام جان (سابق ایس پی پشاور رولر اور میرے ماموں جو کہ 2013ء کو ایک خودکش دھماکے میں شہید ہوگئے تھے) کے گھر موجود تھے۔ عصر کا وقت تھا، محفل میں کافی لوگ موجود تھے اور خوب گپ شپ چل رہی تھی، کوئی اس سے اسلام قبول کرنے کی وجوہات پوچھ رہا تھا تو کوئی جاپان کے بارے میں معلومات لے رہا تھا۔ اسی اثناء میں سعید نے کلام شہید کو مخاطب کرتے ہوئے اچانک کہا "محترم میں یہاں شادی کر سکتا ہوں”؟ یہ بات سن کر پوری محفل زعفران زار بن گئی۔

مرحوم نے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا سعید پہلے آپ یہاں رہنے کی ہمت پیدا کریں پھر ہم آپ کی شادی بھی کر دیں گے یہ جواب سن کر مسکراتے ہوئے کہنے لگا "ٹھیک ہے جی، ٹھیک ہے جی” (جو اس کا ایک مخصوص انداز تھا)۔ بعد میں متعدد مرتبہ مجھے کہنے لگے "عنایت! آپ کا علاقہ اور لوگ دونوں بہت اچھے اور خوبصورت ہیں”۔

ضلع دیر اور ملک بھر کے دوسرے بے شمار مقامات پاکستان کے لیے سیاحت کے حوالے سے ایک اچھا امکان ہے۔ قوم اور حکومت کو ایک پیج پر آکر سیاحت کے فروغ کے لیے مطلوبہ نظام، انتظام، ماحول اور سہولیات، مزاج اور اخلاق پروان چڑھائیں جن کی مدد سے سیاحت ترقی کر کے پھر قوم پر ترقی اور خوشحالی کے دروازے وا کر دے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے