قینچی اُس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر گئی۔ نرس نے آنکھیں پھاڑ کر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ لمحہ بھر کو کمرے میں سانس رک گئی۔ سامنے لیٹی عورت نے کمزوری سے آنکھ کھول کر بس اتنا پوچھا: “سب خیریت ہے نا” مگر خیریت کہاں تھی۔ کمرے کے وسط میں میز پر ایک بچی لیٹی تھی . اُس کے جسم سے چار ٹانگیں جھول رہی تھیں۔
یہ کوئی افسانہ نہیں، کوئی من گھڑت سرکس کی کہانی نہیں، بلکہ سچ مچ کا ایک طبی معجزہ تھا، جس نے 19ویں صدی کے امریکہ میں سب کو حیران کر دیا۔
اس غیرمعمولی بچی کا پورا نام تھا "مرٹل ہنی کوربن” (Myrtle Corbin)۔ یہ 12 مئی 1868 کو امریکی ریاست ٹینیسی میں پیدا ہوئی۔ پہلی ہی جھلک میں ڈاکٹرز کے ہوش اُڑ گئے۔ اس بچی کے جسم کے نچلے حصے میں دو الگ الگ pelvis (کولہے) تھے، اور اُن سے جُڑی ہوئی چار ٹانگیں تھیں — دو اپنی، اور دو اُس کے ایک جُڑواں بہن کی، جو جسم کے نچلے حصے میں جزوی طور پر اس میں ضم ہو گئی تھی۔
طبّی زبان میں اِسے Dipygus کہتے ہیں، اور اردو میں اگر سمجھایا جائے تو یہ وہ حالت ہے جب رحمِ مادر میں ایک بچہ دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کی کوشش کرتا ہے مگر مکمل علیحدگی نہیں ہو پاتی۔ نتیجہ یہ کہ اوپر سے ایک اور نیچے سے دو۔
یہ بات شاید آپ کو حیرت میں ڈال دے یا خفیف سی ہنسی آ جائے، مگر سچ یہ ہے کہ مرٹل ہنی کے جسم میں دو مکمل reproductive systems بھی تھے۔ یعنی دو رحم، دو اندام نہانی، دو سب کچھ… اس پر مزید وضاحت دینے کی نہ ضرورت ہے نہ اجازت۔
جہاں آج کل کوئی بچہ دو دانت لے کر پیدا ہو جائے تو انسٹاگرام بھر جاتا ہے، وہاں اُس دور میں مرٹل ہنی نے اپنی حالت کو شرمندگی بنانے کے بجائے سرکس کا ٹکٹ بنا لیا۔ اسے "The Four-Legged Girl from Texas” کے نام سے پورے امریکہ میں جانا گیا۔ فریک شو (Freak Show) میں اس کی موجودگی ایک طرح سے "چار گنا کشش” بن گئی۔
اس نے نہ صرف سرکس میں اپنی چار ٹانگوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا بلکہ اُس دور کے تمام فنکاروں میں اس کا معاوضہ سب سے زیادہ ہوتا تھا۔
لوگ دور دراز سے آتے، ٹکٹ خریدتے، اور حیرت سے مرٹل کو گھور گھور کر دیکھتے۔ وہ خود بھی اتنی ہوشیار تھی کہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے جسمانی فرق کو ایک تماشہ نہیں بلکہ "خصوصی ایڈیشن” کے طور پر پیش کرتی۔
سب سے دلچسپ بات یہ کہ مرٹل ہنی کی شادی ہوئی۔ ایک نیک، شریف، تھوڑے سے بہادر مرد سے، جس نے دل کی آنکھوں سے دیکھا۔ شادی کے بعد نہ صرف انہوں نے ازدواجی زندگی گزاری بلکہ پانچ بچوں کی ماں بھی بنی۔ طبی طور پر یہ بات ممکن تھی کیونکہ اس کے ایک reproductive system بالکل نارمل اور functional تھا۔
ایسے کیسز دنیا بھر میں انتہائی نایاب ہیں۔ مکمل چار ٹانگوں والے "Dipygus” کے واقعات اب تک دنیا بھر میں بمشکل 15 سے 20 بار رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر بچے پیدائش کے فوراً بعد وفات پا گئے یا شدید معذوری کا شکار ہوئے۔ Myrtle Corbin ان چند خوش نصیبوں میں شامل تھی جو نہ صرف زندہ بچیں بلکہ مکمل اور بھرپور زندگی گزاریں۔ ایسے نقائص کی شرح پیدائش ایک ملین میں شاید ایک کے برابر ہے، اور بعض صورتوں میں یہ جُڑواں بچوں کی ناکام تقسیم کی وجہ سے ہوتا ہے جسے parasitic twinning کہا جاتا ہے۔
مرٹل ہنی نے 60 سال کی عمر میں 1928 میں وفات پائی۔ مگر اس کی کہانی آج بھی دنیا کے میڈیکل جرنلز، عجائب گھروں، اور انسانی جسم کے حیرت ناک مطالعے میں زندہ ہے۔ کچھ لوگ آج بھی ماننے کو تیار نہیں ہوتے کہ کوئی چار ٹانگوں کے ساتھ پیدا ہو سکتا ہے اور کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دو پاؤں کے ساتھ بھی ہمیں سیدھا چلنا نصیب نہیں ہوا، چار پاؤں والوں سے ہم کس نسبت پر فخر کریں۔
دنیا میں بہت سے لوگ "الگ” ہوتے ہیں — کچھ دماغ سے، کچھ زبان سے، اور کچھ مرٹل ہنی کوربن کی طرح جسم سے۔ مگر جو انسان اپنے فرق کو اپنی پہچان بنا لے، وہی اصل میں مکمل ہوتا ہے۔ مرٹل ہنی نے ثابت کیا کہ اگر دو اضافی ٹانگیں ہوں تو اُنہیں چھپانے سے بہتر ہے کہ ان پر روشنی ڈال دی جائے — کیونکہ کچھ لوگ بوجھ کے ساتھ جیتے ہیں اور کچھ لوگ بوجھ کو اپنا جھنڈا بنا لیتے ہیں۔