معذوروں کا مشغلہ

دنیا میں ایک ایسا مشغلہ یا ایک ایسا کھیل بھی ہے جس کی نہ کوئی تُک بنتی ہے نہ لوجک
جس کے اندر نہ سوچ بچار کا عمل دخل ہے نہ ذہانت کا
جو ایک بےکار دماغ اور بیکار جسم سے بھی کھیلا جا سکتا ہے
جی ہاں میں گالف کا ذکر کر رہا ہوں

گالف ایک ایسا مشغلہ ہے جسے کھیل کہنا خود کھیلوں کی توہین ہے۔ یہ دراصل اُن لوگوں کی ایجاد ہے جو نہ ذہانت میں شمار ہونے کے قابل رہے اور نہ صحت میں۔ جو شطرنج کھیلنے کے قابل نہ تھے کیونکہ دماغ کی جگہ صرف برانڈڈ چشمے لگا کر ذہانت کا تاثر دیتے تھے، اور جو فٹبال، ٹینس یا کسی بھی اصل کھیل میں خود کو دو قدم بھی چلا نہیں سکتے تھے کیونکہ جسم صرف مہنگے لباس کے لیے ہوتا تھا، حرکت کے لیے نہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو نہ ذہنی طور پر کسی سنجیدہ سرگرمی کے اہل ہوتے ہیں، نہ جسمانی طور پر کسی اصل کھیل کے لائق۔ نہ ان کے پاس ایسا دماغ ہوتا ہے جو حکمت عملی کا بوجھ اٹھا سکے، نہ ایسا جسم جو پسینہ برداشت کر سکے۔ یہ ان تھکے ہوئے ذہنوں اور بیکار جسموں کا اجتماع ہے جن سے دنیا کی کوئی اصل سرگرمی نہ ہو سکی، تو وہ ایک جعلی کھیل ایجاد کر کے خود کو مصروف رکھنے لگے۔ ان کے لیے گالف ایک ایسا فریب ہے جو انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ابھی بھی کسی قابلِ فخر مشغلے میں شریک ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف وقت اور پیسہ ضائع کرنے کا شوق پال چکے ہیں۔

ان لوگوں نے ایک چالاکی یہ کی کہ ایک ایسا "کھیل” ایجاد کر لیا جس میں نہ تو دوڑنا پڑتا ہے، نہ پسینہ آتا ہے، نہ دماغی زور لگتا ہے، اور نہ ہی کوئی حقیقت میں جیتتا یا ہارتا ہے۔ بس ہاتھ میں ایک لکڑی پکڑ کر ایک چھوٹی سی گیند کو میدان میں ادھر ادھر مارتے رہو، اور جوں جوں گیند آگے جاتی ہے، آدمی اپنے پیچھے وقت، وقار اور عزت تینوں کو روندتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ بالآخر گیند سوراخ میں پہنچ ہی جاتی ہے — اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب وہ لوگ تالیاں بجاتے ہیں، گویا انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا ہو۔

حیرت تو یہ ہے کہ یہ عمل صرف ایک بار نہیں، اٹھارہ بار دہراتے ہیں۔ ہر بار نئے سرے سے گیند کو سوراخ تک لے جانا گویا ایک نیا "کارنامہ” ہے۔ اور اگر گیند ایک اسٹروک میں نہ جائے تو کوئی مسئلہ نہیں، سات میں چلی جائے تو بھی کارکردگی کہلاتی ہے۔ یہ وہ کھیل ہے جس میں ہارنے کا کوئی امکان ہی نہیں کیونکہ کھیلنے والا صرف اپنے وقت، پیسے اور خوداعتمادی کو مات دے رہا ہوتا ہے — اور اسے اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

اصل میں گالف اُن لوگوں کی تسکین کا ذریعہ ہے جنہیں دنیا نے سنجیدگی سے لینا چھوڑ دیا ہو۔ وہ اپنی دولت اور فارغ وقت کو معنی دینے کے لیے کسی ایسے مشغلے کی تلاش میں ہوتے ہیں جو انہیں باوقار بھی دکھائے، اور جس میں ان کی ذہنی یا جسمانی کمزوری بے نقاب نہ ہو۔ چنانچہ وہ گالف کھیلتے ہیں، کیونکہ وہاں صرف ایک اسٹک مارنی ہوتی ہے، اور اگر وہ بھی غلط لگ جائے تو کوئی اعتراض نہیں کرتا — کیونکہ اردگرد کھڑے سبھی اسی کشتی کے سوار ہوتے ہیں۔

یہ کھیل ایک علامت ہے اُس طبقے کی جو زندگی سے فرار چاہتا ہے مگر وقار کے ساتھ۔ جو ذلت کو مشغلے میں بدل دیتا ہے، اور بیزاری کو شوق کا نام دے دیتا ہے۔ گالف نہ کھیل ہے، نہ مقابلہ۔ یہ ایک بےکار، بےفائدہ، اور بےجوہر تماشا ہے — جس پر داد بھی دی جاتی ہے، اور ٹرافی بھی۔

اگر کسی کو شک ہے، تو صرف اتنا سوچ لے کہ دنیا کے کسی محنت کش، کسی ذہین طالب علم، کسی کھلاڑی، کسی مزدور، کسی مفکر، یا کسی فنکار نے کبھی گالف کو اپنا مشغلہ نہیں بنایا۔ اس کے لیے وہ ہونا ضروری ہے جو سب کچھ رکھتے ہوئے بھی اندر سے خالی ہو۔

یہ کھیل صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو زندگی میں سب کچھ خرید سکتے ہیں، مگر دلچسپی، جوش اور مقصد نہیں خرید سکتے۔ جن کے پاس قیمتی گاڑیاں، بڑے فارم ہاؤس، اور سونے کے کلب کارڈز تو ہوتے ہیں، لیکن اندر کوئی چنگاری نہیں ہوتی۔ وہ صبح صبح جاگ کر گالف کورس پر اس امید کے ساتھ جاتے ہیں کہ شاید ایک چھوٹی سی گیند کو سوراخ میں ڈال کر انہیں اپنی زندگی کی کوئی معنویت مل جائے، لیکن وہ نہیں جانتے کہ اصل خلا گیند کے سوراخ میں نہیں، ان کی روح میں ہوتا ہے۔

عوام اگر کبھی گالف کورس کے باہر سے گزر جائیں تو حیرانی سے سوال کرتے ہیں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ ہاتھ میں ڈنڈا، سامنے گیند، اور سارا دن ایک بےہنگم مشق — جس میں نہ آواز ہے، نہ جذبہ، نہ مقصد۔ لیکن جو اندر موجود ہوتے ہیں، وہ اسے "اعلیٰ طبقے کا ذوق” کہتے ہیں، حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ صرف فارغ الذہن اور خالی دل افراد کی اجتماعی بیزاری کا ایک مہنگا مظاہرہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے