مسٹر گنڈاپور! آپ وزیر اعلیٰ ہیں مغلیہ دربار کے مسخرے نہیں. ۔ ۔

8 اگست 2025 کو مختلف قومی اخبارات اور نیوز ویب سائٹس، مثلاً ڈان اور جیو نیوز کے مطابق، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک پریس کانفرنس میں کہا:

"خیبر پختونخوا اب اپنے پیروں پر کھڑا ہو چکا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم وفاق کو بھی قرض دینے کی پوزیشن میں ہیں۔”

یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ایک صوبہ اتنا تگڑا ہو گیا ہے کہ وہ وفاق کی مالی مدد کرے گا۔ ہماری دعا ہے کہ سارے صوبے اتنے تگڑے ہو جائیں کہ وفاق کی مدد کریں، اور وفاق اتنا تگڑا ہو جائے کہ وہ صوبوں کی مدد کرے۔ اور پھر یہ سارے اتنے تگڑے ہو جائیں کہ انہیں ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت نہ پڑے۔ اور یورپ امریکہ اور اسٹریلیا سے لوگ یہاں مزدوری کرنے آیا کریں۔ مشرق وسطی کے شیوخ اور مشرق بعید کے لوگ لائنوں میں کھڑے ہو کر پاکستان کا ویزہ لگوائیں اور یہاں آ کر نوکریاں کریں۔ اور افریقہ کے لوگ اپنی سونے کی اور معدنیات کی کانیں چھوڑ کر پاکستان کے کھیتوں میں کام کرنے کے خواب دیکھیں۔

خیبر پختونخوا کے ہی حوالے سے چند اور خبریں ملاحظہ ہوں۔

زرعی یونیورسٹی پشاور کے اساتذہ اور ملازمین کو ماہ جولائی کی تنخواہ کا صرف 24 فیصد جاری کیا گیا، باقی 76 فیصد کا اللہ ہی مالک ہے کہ کب ملے گی (ذرائع: ایکسپریس نیوز، 9 اگست 2025)۔

ڈان (7 اگست 2025) کے مطابق صوبائی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ 50 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے فنڈز کی کمی کے باعث تاخیر کا شکار ہیں۔

جیو نیوز (5 اگست 2025) نے خبر دی کہ صوبے کے کئی محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کی ادائیگیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون (4 اگست 2025) کے مطابق محکمہ صحت کے تحت چلنے والے کئی ہسپتالوں کو ادویات اور آلات کی خریداری میں شدید مالی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

گنڈاپور صاحب کو وزیرِ اعلیٰ کے پی کے ہونے کے ناطے اتنی بڑی بڑی بڑھکیں نہیں مارنی چاہییں۔ وہ کسی پشتو فلم کے گنڈا سا بردار ہیرو یا ولن نہیں ہیں۔ اپنے صوبے کے اندر پہلے مالی معاملات سلجھا لیں، مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری فراہم کریں۔ بحیثیت وزیرِ اعلیٰ گنڈاپور صاحب کو اس چیز کا ادراک ہونا چاہیے کہ صوبہ سنگین ترین معاشی ایمرجنسی کا شکار ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ سنجیدگی سے کام لیں۔ وفاق کی فکر کرنا چھوڑ دیں، وہ اپنے آپ کو سنبھال لے گا۔

گنڈاپور صاحب کی شخصیت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ اکثر ایسے بیانات اور حرکتیں کرتے ہیں جو حقیقت سے دور اور سیاسی طور پر غیر ذمہ دارانہ ہوتے ہیں۔ بڑی باتیں کرنے کے بجائے اگر وہ اپنے صوبے کے مسائل پر توجہ دیتے تو آج خیبر پختونخوا کے تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز، اور سرکاری ملازمین اس طرح کے بحران کا شکار نہ ہوتے۔ وہ عوامی جلسوں میں بڑھکیں مار کر وقتی تالیاں تو بجوا لیتے ہیں، مگر عملی اقدامات میں ہمیشہ کمزور اور غیر سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں سیاسی شو بازی کے پردے میں چھپانے کی عادت نے صوبے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ گنڈاپور صاحب کی جتنی ایکسپرٹیز اور نالج شہد اور اس کی اقسام کے بارے میں ہے اس کا پانچ فیصد بھی اپنے صوبے کے بارے میں رکھتے تو حالات بہتر ہوتے۔

یہ غیر سنجیدہ آدمی بدقسمتی سے اپنی ہی پارٹی کے اندر کبھی ایک لمحے کے لیے بھی اپنا اعتبار اور اعتماد نہیں بنا سکا۔ موصوف عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں، کبھی لوگوں کو جلسوں اور دھرنوں پر بلا کر غائب ہو جاتے ہیں، کبھی عمران خان کے حوالے سے ایسا بیان دے دیتے ہیں جو خود عمران خان کو بھی نہیں معلوم ہوتا۔ قابلیت ان کے اندر اتنی ہے کہ عمران خان کے بعد ایک دن کے لیے بھی پارٹی کو متحد نہیں رکھ سکے۔ پارٹی کے اندر کئی قسم کے گروپ بن گئے ہیں۔ گنڈاپور کا الگ گروپ، بیرسٹر گوہر کا الگ گروپ، عمر ایوب کا الگ گروپ، شاہ محمود قریشی کا الگ گروپ۔ یہ سارے گروپ تحریک انصاف کی جو کسر اور عزت تھی، اسے بھی تہس نہس کر چکے ہیں۔

عمران خان کی ایک پرانی بدقسمتی ہے کہ نہ تو وہ مردم شناس رہے اور نہ موقع شناس، اور گنڈاپور جیسے لوگوں نے ان کی اس کمزوری کو استعمال کرتے ہوئے ان کا سیاسی گھیراؤ کیے رکھا۔ گنگا عمران خان بہاتے رہے اور ہاتھ یہ لوگ دھوتے رہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے