سنجیدگی قابل مواخذہ رویہ

یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ پاکستان میں بالعموم اور خیبر پختونخوا میں بالخصوص سنجیدہ سیاست، سنجیدہ کردار، الغرض ہر لحاظ سے سنجیدہ رویہ قابل گرفت بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے مسائل دن بدن بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی سنجیدہ قسم کی بات سوشل میڈیا یا کسی محفل میں کرے تو چھوٹے چھوٹے بچے اسے گالیاں دینے پر اتر آتے ہیں۔ وہ تو خیر بچے ہوتے ہیں، انہیں اس امید پر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ چلو فکر کے ارتقائی مراحل سے گزر رہے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ سیکھتے جائیں گے اور ذہنی بلوغت تک پہنچ جائیں گے۔

مگر قابلِ افسوس اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ان بچوں کے بچگانہ رویوں کی تائید کے لیے انہیں ہر فورم پر اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ مل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بچے اپنی باتوں کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔ اس طرح ان پر ذہنی ارتقا کے راستے بھی بند ہو جاتے ہیں۔ وہ تعلیم یافتہ لوگ جن سے امید تھی کہ یہ قوم کے نوجوانوں کے ذہنی ارتقا میں معاونت کریں گے، انہوں نے اپنے منفی کردار کے ذریعے نوجوان نسل کو مزید جہالت میں مبتلا کر دیا۔ یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اگر اس قسم کے تعلیم یافتہ لوگ نوجوان نسل کو بالکل آزاد چھوڑ دیتے تو ان کی ذہنی بلوغت میں دیر تو لگ سکتی تھی مگر ان کے ذہنوں کا بلوغت تک پہنچنا یقینی تھا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ تعلیم یافتہ حضرات کا نوجوان نسل کے حوالے سے یہ رویہ کسی بد نیتی پر مبنی ہے اور نہ ہی ان کی نیت ہمیں معلوم ہو سکتی ہے۔ وہ تو انہیں اور ان کے خدا ہی کو علم ہے کہ ان کی نیت کیا ہے۔ مگر ظاہری طور پر دیکھا جائے تو محسوس یہی ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں ان حضرات کا کردار قطعی طور پر منفی ہے۔

نوجوانوں کا سنجیدگی کے ساتھ ان منفی رویوں کو اگر ہمارے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات دو اور دو چار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ تعلیم یافتہ حضرات کی طرف سے انہیں جو تائید ملتی ہے وہ بالکل عملی زندگی کے حقائق کے خلاف ہے۔ تعلیم یافتہ حضرات انہیں یہ باور کرا رہے ہیں کہ تمہارا سنجیدگی کے ساتھ یہ رویہ دراصل تمہارے شعور کی علامت ہے اور ذہنی بلوغت کی پہچان ہے۔ نوجوانوں کے اس شعور اور ذہنی بلوغت کے ہم سب عینی گواہ ہیں۔ انہیں جن رویوں کے بارے میں تعلیم یافتہ حضرات باور کرا رہے ہیں وہ ہمیں سوشل میڈیا، نجی محفلوں اور رسمی محفلوں میں ہر وقت نظر آتے رہتے ہیں۔ مگر عملی حالات کے تناظر میں اگر ان کے اس شعور اور ذہنی بلوغت کا جائزہ لیا جائے تو وہ شعور کے نام پر جہالت اور ذہنی بلوغت کے نام پر بند ذہنیت کے علاوہ کچھ بھی معلوم نہیں ہوتے۔

یہ بات اس بنیاد پر کہی جا رہی ہے کہ کیا ایسا ممکن بھی ہے کہ ایک قوم کے اتنے بڑے طبقے میں شعور اتنا عام ہو جائے، ذہنی بلوغت اس قدر درجۂ کمال تک پہنچ جائے پھر بھی اس قوم کے حالات کی نوعیت ایسی ہو جس طرح ہماری ہے! کسی قوم میں جب شعور اس قدر درجۂ کمال تک پہنچے کہ اس کے نوجوان نسل کے عمومی افراد کو اچھے خاصے تعلیم یافتہ لوگ تائید کے لیے میسر آ جائیں، وہاں ترقی کے بجائے تنزل ہو، روشنی کے بجائے اندھیرا ہو! یہ بات تو بعید از عقل ہے۔ تاریخ سے ہمیں کسی ایسے نادر شعور کی مثال نہیں ملتی۔ یہ تو بڑا انوکھا شعور ہے جس کی تائید نہ تو عقل کر سکتی ہے اور نہ ہی تاریخ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔

دراصل یہ شعور نہیں ہے بلکہ نفسانی خواہشات کا سرور اور جوانی کا غرور ہے۔ دو الفاظ سیکھنے کے بعد بندہ یہ تصور کرنے لگتا ہے کہ میں تو اوجِ ثریا پر پہنچ گیا ہوں، اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ اگر ایسے بندے کو تائید کے لیے کوئی ایسا بڑا بھی ملے جو خیر سے تعلیم یافتہ بھی ہو تو پھر تو اس کے پاؤں زمین پر نہیں لگتے۔ اب جب وہ بات کرتا ہے تو اسے حرفِ آخر سمجھنے لگتا ہے اور اسے واقعی محسوس بھی ہوتا ہے کہ میری بات درست ہے۔ اور اگر اس کے خیال کے مخالف کوئی رائے کا اظہار کرتا ہے تو اسے تنقیص کا نشانہ بنانا اپنی ذمہ داری اور حق سمجھتا ہے۔ یہاں لفظ تنقیص قصداً استعمال کیا گیا ہے کیونکہ تنقید علمی رویے کا نام ہے۔ اور اس تنقیص کے دوران وہ ایسے رویے کا اظہار کرتا ہے کہ اس کا یہ رویہ سامنے والے کے دماغ کی شریانوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اس پرتشدد رویے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے پشت پر علم و فہم تو ہوتا نہیں جو تنقید کے دوران اختلاف کو مہذب بنانے میں کارگر ثابت ہو سکے، بلکہ چند رٹے رٹائے جملے ہوتے ہیں جنہیں نادانی میں علمِ کل سمجھا جاتا ہے۔

اس قسم کے رویوں کی اگر اصلاح نہ کی گئی تو ان کے اثرات ہمارے گھروں کے اندر ایسے محسوس ہونے لگیں گے کہ نئی نسل اور بزرگوں کے مابین ایک مسلسل تصادم کی فضا پیدا ہو جائے گی۔ اس تصادم کی وجہ یہ ہوگی کہ بزرگوں کی باتوں کو یا تو بغیر دلیل کے جہالت کی بنا پر رد کیا جائے گا اور یا دلیل تو ہوگی مگر سلیقہ نہیں ہوگا یعنی رد کا انداز جاہلانہ ہوگا۔ غور کیا جائے، جن گھروں میں بزرگوں کے ساتھ نوجوانوں کا رویہ جاہلانہ اور متکبرانہ ہو، ان میں تصادم کے علاوہ اور کچھ ہو بھی سکتا ہے؟

ان رویوں کے نتیجے میں گھروں سے افراد کے مابین باہمی محبت کا خاتمہ ہوگا۔ اگر صورت حال یہی رہی تو گھروں میں بڑوں کے احترام اور چھوٹوں کے لیے شفقت کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ گویا ان رویوں سے گھر، گھر نہیں رہیں گے بلکہ بزرگوں اور نوجوانوں کے مابین جنگ کے میدان کا منظر پیش کریں گے۔

آج جو لوگ نئی نسل کو جن غیر سنجیدہ رویوں کی طرف دھکیل رہے ہیں انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تم نے بھی ایک دن بوڑھا ہونا ہے۔ تم اپنے ہاتھوں اپنے مستقبل کو تاریک بنا رہے ہو اور اپنی آخری عمر کو اپنے ہاتھوں ذلت کے حوالے کر رہے ہو۔

لہٰذا قبل اس کے کہ تم اپنے ہی گھر کے چھوٹوں کے ہاتھوں ذلیل ہو جاؤ اپنے رویوں پر نظر ثانی کرو۔

اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کے اندر علمی رویے کو پروان چڑھایا جائے جبکہ علمی رویے کا مطلب یہ ہے کہ دلیل سے بات کی جائے، دلیل ہی کی بنیاد پر بات کو رد اور قبول کیا جائے۔ کیونکہ دلیل سے بات کرنا، ماننا اور رد کرنا ہی علمی رویہ ہے اور یہی رویہ انانیت اور تکبر کا علاج ہے جو انسان میں دو لفظ سیکھنے کے بعد متوقع طور پر پیدا ہوتا ہے۔ اور رویوں کے لیے دلیل کو بنیاد ماننا بنیادی طور پر اسلام کی وہ مطلوب عاجزی ہے جس کا وہ درس دیتا ہے اور اپنے پیروکاروں سے مطالبہ کرتا ہے۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ انسان جتنا بڑا ہوتا چلا جاتا ہے اتنا ہی وہ متواضع ہوتا جاتا ہے۔ دلیل کی بنا پر رویہ کے استوار کرنے کو عاجزی اس لیے مانا جاتا ہے کیونکہ اس صورت میں انسان اپنی رائے اور مرضی سے دستبردار ہو کر دلیل کے سامنے جھک جاتا ہے۔

نوجوانوں میں یہ رویہ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ علماء، دانشور، اہل علم اور اساتذہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اور نوجوانوں کو ابتدائی طور پر انہیں دو باتوں کی کماحقہ آگاہی دیں:
اوّل یہ کہ جب کوئی بات کرنی ہو تو مناسب دلیل سے کرو۔

دوم یہ کہ خاص طور پر وہ باتیں جن کا تعلق کسی کی تائید یا مخالفت سے ہو انہیں اس وقت تک رد یا قبول نہ کیا جائے جب تک دلیل سمجھ کر تسلی نہ ہو جائے۔ اس ضمن میں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ جب کوئی بات کسی شخص یا گروہ کے خلاف سنی جائے تو اس وقت تک اس حوالے سے اظہارِ خیال نہ کیا جائے جب تک دوسرے شخص یا گروہ کا مؤقف معلوم نہ کیا جائے۔ یہ بھی اسی صورت میں جب کسی شخص یا گروہ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرنا ناگزیر ہو ورنہ بے جا اختلافات سے قطعی طور پر گریز کرنا چاہیے۔

اہل علم، اساتذہ، شعراء، ادیب اور دانشور حضرات نئی نسل کو یہ ذہن نشین کرائیں اور عملاً اس بات کا درس دیں کہ ہر لکھی یا کہی ہوئی بات دلیل نہیں بن سکتی بلکہ دلیل کی اپنی تعریف اور خصوصیت ہوتی ہے۔ پہلے یہ دیکھا جائے کہ جس بات کو پیش کیا جا رہا ہے اس کی دلیل کیا ہے، پھر یہ دیکھا جائے کہ جس بات کو بطور دلیل پیش کیا جا رہا ہے آیا اس میں دلیل بننے کی صلاحیت ہے بھی یا نہیں؟ اس کے بعد آخر میں رد و قبول، اختلاف و اتفاق کا فیصلہ کیا جائے۔

جس معاشرے میں سنجیدگی گناہ بن جائے اس میں سنجیدگی لانے کے لیے بنیادی طور پر یہی طریقہ کار بروئے کار لانا ہوتا ہے جس کا سطورِ بالا میں ذکر کیا گیا۔

اس حوالے سے ایک نہایت قابلِ توجہ پہلو سیاستدانوں کا اندازِ بیان اور رویے بھی ہیں۔ چونکہ سیاستدانوں کو لوگ فالو کرتے ہیں اس لیے ان کی غیر سنجیدگی پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔ لہٰذا سیاستدانوں سے بھی یہ مطالبہ کیا جائے کہ تمہاری غیر سنجیدگی ہمیں بحیثیت قوم تنزل کی طرف لے جا رہی ہے، اس لیے ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تم اپنے رویوں کو درست کرو اور ہمیں ہمارے مسائل کے سنجیدہ حل کا راستہ بتاؤ۔ خدا نخواستہ اگر سیاستدان ایسا نہیں کرتے تو ہمیں اپنی نئی نسل، قوم و ملک کی خاطر ان سے علانیہ براءت کا اعلان کرنا چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے