وہمِ مرکزیت میں گرفتار انسان

یہ ایک سادہ مگر تکلیف دہ حقیقت ہے کہ ہمارے شمسی نظام میں آٹھ سیارے ہیں، اور یہ نظام خود کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں۔ یہ محض ایک اوسط درجے کا نظام ہے جو ایک عام سی کہکشاں کے کنارے پر موجود ہے، اور ایسی کروڑوں کہکشائیں اس کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں جن کا نہ آغاز ہمیں معلوم ہے اور نہ اختتام۔ اس بےحد و حساب وسعت میں زمین ایک معمولی ذرّہ ہے، اور اس ذرّے پر رہنے والی انسان نامی مخلوق اس سے بھی زیادہ معمولی۔ مگر اس سب کے باوجود انسان نے خود کو غیرمعمولی مان لیا ہے۔ اس نے یہ فرض کر لیا ہے کہ وہ کائنات کا مرکز ہے، کہ اس کی زندگی کسی بڑے مقصد کے تحت ترتیب دی گئی ہے، اور کہ اس کے دکھ سکھ کسی کاسمک اہمیت کے حامل ہیں۔ یہی وہ وہم ہے جو انسان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔

انسان اس لیے نہیں ٹوٹتا کہ دنیا بےرحم ہے، بلکہ اس لیے ٹوٹتا ہے کہ وہ دنیا سے نرمی کی توقع رکھتا ہے۔ وہ یہ ماننے سے انکار کرتا ہے کہ کائنات اندھی ہے، بہری ہے، اور مکمل طور پر لاتعلق۔ وہ خود کو کہانی کا مرکزی کردار سمجھتا ہے، حالانکہ حقیقت میں کوئی کہانی ہے ہی نہیں۔ انسان اپنے گرد معنی کا ایک خول بنا لیتا ہے، اور جب حقیقت اس خول کو توڑ دیتی ہے تو وہ خود کو مظلوم سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ سوال کرتا ہے کہ “میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟” گویا کائنات کے پاس اس کے لیے کوئی منصوبہ تھا جو ناکام ہو گیا۔

فریڈرک نیٹشے نے کہا تھا کہ انسان کوئی آخری منزل نہیں بلکہ ایک عبوری مرحلہ ہے، ایک پل ہے جسے عبور کیا جانا ہے۔ مگر انسان نے خود کو اس پل کا اختتام سمجھ لیا۔ اس نے خدا کو قتل کیا، جیسا کہ نیٹشے نے کہا، مگر خدا کی جگہ کسی اعلیٰ سچ کو بٹھانے کے بجائے خود کو تخت پر بٹھا لیا۔ انسان نے معنی کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی، حالانکہ وہ اس بوجھ کے قابل کبھی تھا ہی نہیں۔ جب نیٹشے یہ اعلان کرتا ہے کہ زندگی میں کوئی فطری معنی موجود نہیں، تو لوگ اسے خطرناک فلسفہ سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ اعلان انسان کے غرور پر حملہ کرتا ہے۔ مگر اصل خطرہ معنی کی عدم موجودگی نہیں، بلکہ یہ اصرار ہے کہ معنی ہونے ہی چاہییں۔

اوشو نے انسان کے دکھ کو اس کی خواہشوں سے جوڑا، حقیقت سے نہیں۔ انسان کو تکلیف اس بات سے نہیں ہوتی کہ زندگی بےمعنی ہے، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اسے بامعنی دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کوئی خاص نشان چھوڑے، کہ اسے یاد رکھا جائے، کہ اس کا درد عام نہ ہو بلکہ منفرد ہو۔ مگر کائنات اس خواہش کو تسلیم نہیں کرتی۔ انسان جتنا زیادہ اہم بننے کی کوشش کرتا ہے، اتنا ہی زیادہ اس کی بےاہمیتی اس پر آشکار ہوتی جاتی ہے۔ ستارے انسان کی کامیابی پر نہیں چمکتے، اور نہ ہی اس کی ناکامی پر بجھتے ہیں۔

البر کامیو نے اس کیفیت کو “absurd” کا نام دیا۔ انسان معنی مانگتا ہے، اور کائنات خاموش رہتی ہے۔ یہی خاموشی انسان کو پاگل کر دیتی ہے۔ وہ اس خاموشی کو ظلم سمجھتا ہے، حالانکہ یہ ظلم نہیں بلکہ محض لاتعلقی ہے۔ کائنات دشمن نہیں، مگر دوست بھی نہیں۔ وہ انسان سے نفرت نہیں کرتی، کیونکہ نفرت کے لیے شعور درکار ہوتا ہے، اور کائنات کے پاس انسان کے لیے ایسا کوئی شعور موجود نہیں۔ انسان اپنی چیخوں کی بازگشت خود سنتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ کوئی سن رہا ہے۔

انسان نے اپنے وجود کو جواز دینے کے لیے مختلف کہانیاں تراشی ہیں۔ مذہب، قوم، نظریہ، کامیابی، قربانی یہ سب ایسے تصورات ہیں جو انسان کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ اس کی زندگی کسی نہ کسی سطح پر ضروری ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان آج مکمل طور پر ختم ہو جائے تو کائنات میں کوئی خلا پیدا نہیں ہو گا۔ کوئی نظام درہم برہم نہیں ہو گا۔ کوئی ستارہ اپنی روشنی کم نہیں کرے گا۔ انسان کی غیرموجودگی کائنات کے لیے اتنی ہی غیر اہم ہو گی جتنی اس کی موجودگی ہے۔

ہم خود کو کمتر ماننے سے ڈرتے ہیں، اس لیے عظمت کا لباس پہن لیتے ہیں۔ ہم اپنے دکھ کو مقدس بنا دیتے ہیں اور اپنی خوشیوں کو کامیابی کا ثبوت سمجھتے ہیں۔ ہم یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہم محض حیاتیاتی حادثات ہیں، وقت کے ایک مختصر لمحے میں ابھرنے والا شور، جو جلد ہی خاموش ہو جائے گا۔ انسان کو سب سے زیادہ تکلیف اس خیال سے ہوتی ہے کہ اس کی جدوجہد، اس کی محنت، اس کی قربانی کسی بڑے کاسمک حساب میں صفر کے برابر ہے۔

اور شاید یہی سچ آزادی بھی ہے۔ جب کچھ بھی فطری طور پر معنی نہیں رکھتا، تو انسان پر یہ ذمہ داری بھی نہیں رہتی کہ وہ خود کو عظیم ثابت کرے۔ ناکامی اب لعنت نہیں رہتی، اور کامیابی کوئی الوہی انعام نہیں بنتی۔ جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ وہ ایک Worthless Creature ہے، تو وہ خود کو ثابت کرنے کے عذاب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ جینا سیکھتا ہے بغیر اس توقع کے کہ اس کا جینا کسی کو متاثر کرے گا۔

آخرکار، nihilism انسان کو مایوسی نہیں دیتا، بلکہ اس کے غرور کو توڑتا ہے۔ یہ اسے یہ سچ دکھاتا ہے کہ وہ نہ مرکز ہے، نہ مقصد، نہ ضرورت۔ اور اسی سچ کے بعد شاید پہلی بار انسان خود کو ایک عام، خاموش، اور غیر اہم وجود کے طور پر قبول کر پاتا ہے۔ ایک ایسا وجود جو کسی کہانی کا ہیرو نہیں، بلکہ محض ایک سطر ہے—جو پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے، کائنات کے لیے یکساں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے