امریکہ ڈائری: قسط نمبر 2

مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب اور امریکہ کا پہلا سفر

پہلی قسط پڑھنے کے لیئے امریکہ ڈائریز: (قسط اول) پر کلک کریں؛
امریکہ ڈائریز: (قسط اول)

تو سفرنامے کی شروعات ہوتی ہے رات کے 2 بجے یا 3 بجے کی فلائٹ سے جس کے لیے عموماً 11 بجے ایئرپورٹ پہنچنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول کچھ یہی ہوتا ہے، بہت صبح یا نیم شب۔ اس کا فائدہ یہ ہو جاتا ہے کہ انسان دو چار رکعت نوافل پڑھ کر ہی گھر سے نکلتا ہے اور یہی موقع ایئرپورٹ پر بھی میسر ہوتا ہے، الحمدللہ علیٰ کل حال۔

میرا یہ جناب ڈپٹی اسپیکر صاحب کے ساتھ پہلا سفر تھا۔ ہم پشتو میں کہتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ کسی انسان کو سمجھنا ہو تو ان کے ساتھ سفر کر لیں۔ البتہ جب مرتضیٰ جاوید عباسی کو ایئرپورٹ پہ تہجد پڑھتے اور دعائیں مانگتے دیکھا تو دل پہ بہت اچھا تاثر ہوا۔

میری جناب مرتضیٰ جاوید صاحب سے ملاقات پہلی دفعہ 2013 کے اوائل میں ہوئی تھی جب وہ نئے نئے ڈپٹی اسپیکر کے منصب پر فائز ہوئے تھے اور غالباً ان کی امریکہ کے قونصل جنرل پشاور سے ملاقات کے دوران میں نے ان کی ترجمانی کی تھی۔ اسی طرح ایک دفعہ سعودی عرب کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں میٹنگ منٹس لکھنے کا موقع ملا تھا۔ وہ اکثر فرمایا کرتے: "آپ میرے ساتھ کام کریں مگر رزق اور نصیب جب تک ساتھ نہ لائے انسان جتنی بھی کوشش کر لے ممکن نہیں ہوتا”۔

پھر ایک مرتبہ حج کے دوران رمیِ جمرات (شیطانوں کو کنکریاں مارنے) کے موقع پر ایک پشتون خاتون راستہ کھو بیٹھی تھیں اور حج میں رش کی وجہ سے میں اور وہ ضعیف خاتون پیدل کعبہ سے منیٰ کی جانب رواں دواں تھے تو محترم مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب سے راستے میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب نے مجھے دیکھ کر جب پہچانا اور ضعیف خاتون کے گم ہو جانے کا سنا تو فوراً گاؤں کے کسی بڑے زمیندار کے سے انداز میں جیب میں ہاتھ ڈال کر کہا: "اگر پیسوں کی ضرورت ہے اماں کو تو (بتائیں) رحیم شاہ”۔ نہ میں نے وہ پیسے لیے اور نہ اس اماں کو ان پیسوں کی ضرورت تھی مگر میرے دل میں مرتضیٰ صاحب کے لیے خصوصی عزت پیدا ہوئی کہ یہ ایک اچھے اور نیک انسان کی صفات ہیں۔ مزید یہ کہ وہ پروٹوکول سے ہٹ کر ایک گاؤں کے پہاڑی سی سادہ طبیعت کے مالک انسان ہیں جو نڈر بھی ہیں اور بے خوف و خطر بس لوگوں کے لیے کام کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اللہ پاک ان کو ایبٹ آباد کے لوگوں کے لیے سلامت اور صحت مند رکھے۔ ان کے ساتھ بہت سارے مواقع پر سفر کیے ہیں اور میرے کالموں میں ان کا تذکرہ آپ کو وقتاً فوقتاً ملتا رہے گا، ان شاء اللہ۔

واپس آتے ہیں امریکہ کی جانب۔ مرتضیٰ صاحب کے ساتھ ساتھ ہم بھی قطر ایئرویز کی پرواز میں بیٹھ گئے۔ صاحب بزنس کلاس اور ہم اکانومی کلاس۔ قطر پہنچنے پر صاحب جب آرام کی غرض سے اور ناشتے کے لیے خصوصی لاؤنج میں بیٹھے تو میں نے پورا دوحہ ایئرپورٹ گھوم لیا۔ شاندار عمارت، شاندار انفراسٹرکچر۔

ایک دو گھنٹے کے ٹرانزٹ کے بعد ہم الصبح 7 بجے روانہ ہوئے بجانب ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے لیے۔ 14 سے 16 گھنٹے کی پرواز میرے لیے نیا تجربہ تھا کیونکہ اس سے پہلے 6 سے 8 گھنٹوں تک کا سفر ہی کیا ہوا تھا۔ میرے ساتھ والی سیٹ پہ نیپال کی خاتون بیٹھی تھیں جنہوں نے نیپالی روایتی لباس پہنا ہوا تھا اور جب بات کرتی تھیں تو نیپالی انداز میں گاؤں کے لہجے میں انگریزی بھی بولتیں جس سے مزاح کا پہلو نکلتا تھا۔ بہر حال اب 16 گھنٹے بھی گزارنے تھے تو راستے میں ان کی آپ بیتی اور امریکہ کی کہانیاں سنیں۔ سارے راستے میں ظہر کا ہی وقت چلتا رہا اور ظہر ہی پڑھی۔ امریکہ جاتے ہوئے اکثر آپ ایک مخصوص وقت کے ساتھ یا سورج کے مخالف یا سورج کے ساتھ چلتے ہیں۔ ایک اور موقع پہ امریکہ کے سفر کے دوران کئی گھنٹے رات سے بلکہ سحر سے واسطہ پڑا اور سورہ آلِ عمران کی آخری رکوع کی آیات کی سمجھ آئی: "اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ” اور سمجھ آئی کہ آخر اللہ کے نبی ﷺ تہجد میں ہی کیوں یہ آیات تلاوت فرماتے۔

بہر حال جب ہم ڈلاس اترے تو تب تقریباً عصر کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ احتیاطاً جہاز میں ہی نماز پڑھی، ویسے بھی امریکہ پہلی دفعہ اترتے ہوئے ڈر کا احساس ہوتا ہے مگر اللہ کریم تھا، خوش اسلوبی سے آمد ہوئی اور سفارت خانے کے اہلکاروں سمیت نوشہرہ سے آئے ہوئے ندیم خان اور صاحب کے علاقے ہزارہ سے وقار خان صاحب بھی موجود تھے۔ پاکستانی اوورسیز کی محبت لازوال ہوتی ہے۔

وہ ہمارے لیے ایک لمبی گاڑی جسے "لیموزین” کہتے ہیں (جو اکثر ہم WWE میں ریسلرز کے ساتھ دیکھتے ہیں) لے کر آئے تھے۔ امریکہ میں اترتے ہی اس لیموزین میں بیٹھتے ہوئے جذبات میں خوشی کا عنصر چہرے پہ آیا تھا، بس سنجیدہ رہنے کی اداکاری بھی کرنی تھی۔ الحمدللہ علیٰ کل حال۔ چلیں میرے خیال میں آج کے لیے اتنا ہی، ملتے ہیں اگلے کالم میں امریکہ ڈائری کے ساتھ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے