شخصیت :
سہیل احمد صدیقی سے جب بات ہوئی تو پہلا احساس یہ ہوا کہ یہ شخص اپنے بارے میں بات کرنے کا عادی نہیں، کام کرنے کا عادی ہے۔ سوالوں کے جواب مختصر، مگر ہر جواب میں گہرائی۔
شعبہ ہائے مہارت پوچھے تو بتایا کہ دو شعبے قریب ترین ہیں: لسانی تحقیق اور ہائیکو شاعری کا فروغ۔ اور سب سے پسندیدہ کام؟ تحقیق زبان و ادب، دین، مذاہب اور تاریخ پر۔ یعنی وہ شخص جو اردو کے ایک پکوان کے نام "تاہری” کی لسانی جڑیں تلاش کرتا ہے، وہی شخص مذاہب کی تاریخ میں بھی اتنی ہی گہرائی سے اترتا ہے۔
پسندیدہ کامیابی کے بارے میں جو بتایا، وہ دلچسپ ہے۔ ۱۹۸۷ء میں نوجوان سہیل صاحب نے پاکستان ٹیلی ویژن کے انتہائی مقبول کوئز اسٹیج شو "نیلام گھر” میں کار کا انعام جیتا، جو اُس زمانے میں پورے براعظم ایشیا میں معلوماتِ عامہ کا سب سے بڑا انعام تھا۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اس انعام کو اپنی "پسندیدہ کامیابی” نہیں سمجھتے یہ تو بس ایک واقعہ تھا۔ اصل کامیابی وہ خاموش علمی کام ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔

1987ء میں یہ انعام نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیا کا سب سے بڑا انعام تصور کیا جاتا تھا جو کسی کوئز شو میں دیا گیا ہو۔
یہ وہ سنہری دور تھا جب نیلام گھر ہر گھر کی زینت تھا اور طارق عزیز صاحب کی میزبانی میں یہ شو لاکھوں دلوں کی دھڑکن بنا ہوا تھا۔ سہیل احمد صدیقی اس کار کے فاتح بنے اور یہ جیت اس وقت کسی خواب کے پورا ہونے سے کم نہ تھی۔
تعلیمی پس منظر کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے فیڈرل اردو کالج فنون، کراچی سے بی اے اور ایم اے کی تعلیم حاصل کی، جسے بعد میں جامعہ کا درجہ ملا۔ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن، فیڈرل بی ایریا، کراچی سے بی ایڈ کیا، اور دیگر کورسز مستزاد۔
زبانوں سے شغف کے بارے میں جو بتایا، وہ دلچسپ ہے۔ کہتے ہیں کہ زبانیں سیکھنے کا شوق پیدائشی تھا۔ اسکول کے زمانے میں انگریزی، سندھی اور فارسی پڑھی؛ کالج کے دور میں عربی۔ فرنیچ باقاعدہ سیکھی اور دو جگہوں سمیت آلیانس فرانسیز سے کورس کیا۔ خانۂ فرہنگِ جمہوریۂ ایران کے فارسی کورس میں بھی داخلہ لیا مگر جلد چھوڑ دیا، اس لیے کہ وہاں سب بنیادی تعلیم کے لیے آئے ہوئے تھے، جبکہ انھیں ثانوی درجے میں پڑھنا تھا۔ یہ چھوٹا سا واقعہ اُن کی علمی سنجیدگی اور خودآگاہی کا آئینہ ہے۔
خاندانی پس منظر پوچھا تو ایک پوری تاریخ کھل گئی۔ والدین قیامِ پاکستان کے وقت بچے تھے۔ والد نے سابق ریاست کوٹہ، راجستھان سے ہجرت کی، اور دلچسپ بات یہ کہ وہ راجستھان میں دو سال اپنی پھوپھی کے ہمراہ مقیم رہے، جہاں اُن کے سسر شاہی معالج اور مجسٹریٹ تھے۔ والدہ نے کپورتھلہ، مشرقی پنجاب سے ہجرت کی اُن کے بچپن کے دس سال کپورتھلہ میں گزرے، جہاں اُن کے ننھیالی بزرگ شاہی معالج اور فوج سے منسلک تھے۔ تاہم دونوں کا اصل تعلق ہاپڑ، ضلع میرٹھ سے تھا اور آج بھی وہاں اُن کے بزرگوں کی ایک حویلی موجود ہے۔ والد حیدرآباد آئے، والدہ پہلے لاہور اور پھر بہاول پور۔
مقصدِ زیست ایک جملے میں بیان کیا: اللہ کو خدمتِ خلق کے ذریعے راضی کرنا۔ سادہ الفاظ، مگر پوری زندگی کا نچوڑ۔
پچھتاوے کے بارے میں صرف اتنا کہا: کئی ایک ہیں۔ اس اختصار میں ایک پوری کہانی ہے جو انھوں نے بیان نہیں کی اور شاید بیان کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔
۱۹۷۱ء کے محصورین کے بارے میں جو کہا، وہ قابلِ غور ہے: سانحۂ سقوطِ مشرقی پاکستان میں وہاں رہ جانے والے محصورینِ پاکستان کے محسن ہیں۔ اُن کی وطن واپسی اور آبادکاری کے لیے حکومت، عوام اور تمام مقامی و غیر ملکی تنظیموں کو اجتماعی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ایک واضح، دوٹوک اور انسانی موقف ہے۔
میڈیا اور ادب سے منسلک خدمات
سہیل احمد صدیقی کا تعارف کسی ایک خانے میں نہیں سماتا۔ محقق، شاعر، ادیب، صحافی، نشریاتی فنکار اور اردو میں ہائیکو کے فروغ کا ایک مضبوط ستون۔
ریڈیو پاکستان پر "AA کیٹیگری” اور پی ٹی وی پر ابتدائے نشریات، یعنی جنوری ۱۹۹۳ء سے "A کیٹیگری” یہ اعزازات صرف اعلیٰ پائے کے نشریاتی فنکاروں کو ملتے ہیں۔ بارہ کتابیں اردو اور انگریزی میں، ساڑھے آٹھ سو کے قریب تحریریں، اور چار عالمی انگریزی انتھالوجیز میں شمولیت جن میں ایک ہائیکو کی انتھالوجی بھی ہے۔ وہ واحد اردو شاعر ہیں جو چار عالمی انگریزی مجموعوں میں شامل ہوئے۔
انھوں نے "ہائیکو انٹرنیشنل” نکالا، جاپانی سفیروں سے مکالمہ کیا، عالمی ہائیکو تنظیموں سے رابطے قائم کیے اور پاکستانی ہائیکو کو عالمی منچ تک پہنچایا۔ جاپان کے سفیر سدا کی نُوماتا نے اُنھیں خط لکھا،امریکی ماہرجاپانیات سوزین ایٹ کن لیپ نے اُن کی تحریر کو سراہا، اور عالمی ہائیکو کلب کے صدر نے اُن کی کاوشوں کو تسلیم کیا۔
اُن کا سلسلہ "زباں فہمی” تین سو سے زائد مضامین پر مشتمل ہے۔ حال ہی میں منتخب ساٹھ مضامین پر مشتمل "زباں فہمی — نقشِ اوّل” کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا ہے۔
اُن کا یہ ہائیکو دیکھیے:
دل دھڑکن اک ساز
چیری کھلتے کھلتے سُن
بلبل کی آواز
تین مصرعوں میں فطرت، موسیقی اور احساس کا ایسا سنگم جو خالص جاپانی ہائیکو کی روح سے ہم آہنگ ہے۔ یہ اُس شخص کا قلم ہے جس نے اس صنف کو برسوں سمجھا، برتا اور پھیلایا۔
جمیل الدین عالی جیسے قد آور ادیب نے اُن کی تعریف کی، محسن بھوپالی جو میرے ذاتی پسندیدہ شعرا میں سے ہیں نے اُن کے کام کو سراہا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔
مرکزی دھارے سے باہر ایک فکری سوال
اب وہ بات جو مجھے اصل میں لکھنی تھی۔ ابتدا ہی میں یہ واضح کر دوں کہ میں ادبی نقاد نہیں ہوں؛ یہ تحریر رسمی تنقید نہیں بلکہ ایک ذاتی فکری اضطراب کی تحریری صورت ہے یہ وہ فکری اضطراب ہے جو مجھے عرصے سے بے چین کیے ہوئے ہے۔ مقصد موازنہ، مقابلہ یا مناظرہ نہیں مقصد یہ سوال اٹھانا ہے کہ بہت سے سچے قلم کار اور فنکار مرکزی دھارے سے باہر کیوں ہیں؟ انھیں وہ پذیرائی کیوں نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہیں؟
ہمارے مین اسٹریم چینلز بے ہنگم ٹی وی شوز اور ٹی آر پی کی بے حس دوڑ میں ملوث ہیں۔ بے ہودہ اور جنس پرستانہ "مزاح” کو تفریح کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں فکری بلندی کی جستجو کب ہوگی؟
ہمارے ادبی میلوں میں، ٹی وی کے نام نہاد ادبی پروگراموں میں، اخباری ادبی صفحات پر زیادہ تر ایک مخصوص قسم کی یکسانیت نظر آتی ہے۔ وہی چہرے، وہی گفتگو، وہی حلقے۔ یہ الزام نہیں یہ ایک مشاہدہ ہے جو ہر سنجیدہ قاری کو ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کسی ادیب کی "مرکزی دھارے” تک رسائی کا معیار کیا ہے؟ جب جمیل الدین عالی جیسا معتبر نام کسی ادیب کی تعریف کرے، جب محسن بھوپالی جیسا استاد اُسے سراہے تو پھر وہ ادیب ادبی فیسٹیولز کے اسٹیج سے کیوں غائب رہتا ہے؟
یہ محض ایک فرد کی بات نہیں۔ اشاعت کی سیاست، ادبی انعامات کی تقسیم، فیسٹیولز کے مدعوین کا انتخاب یہ سب سوالیہ نشان ہیں۔ کیا ہمارے ادبی ادارے واقعی میرٹ کی بنیاد پر چلتے ہیں؟ کراچی اور لاہور کے مرکز میں کون نظر آتا ہے اور کون غائب رہ جاتا ہے؟ کیا باقی شہروں کے اہلِ قلم کو وہ پذیرائی اور جگہ ملتی ہے جس کے وہ مستحق ہیں، یا لابی بازی اور اشرافیہ کے سائے میں خاموشی ہی نصیب ہوتی ہے؟ کیا ادبی شہرت کا تعلق قلم کی طاقت سے ہے یا تعلقات کی مضبوطی سے؟ کیا ادبی شہرت واقعی میرٹ کی بنیاد پر ہے، یا تعلقات، لابی بازی اور ایلیٹ ازم کے ذریعے محدود حلقوں تک محدود ہے؟
یہ سنجیدہ سوالات ہیں جو ہمارے ادبی اداروں، میڈیا اور فیصلہ سازوں سے پوچھے جانے چاہییں۔ سہیل احمد صدیقی اکیلے مثال نہیں پاکستان کے طول و عرض میں ایسے بہت سے قلمکار ہیں جو خاموشی سے، وسائل کے بغیر، صرف جذبے کے بل پر کام کر رہے ہیں اور مرکزی دھارے کی نظر سے اوجھل ہیں۔ یہ صرف اُن افراد کا نقصان نہیں یہ اردو ادب کے مجموعی ارتقا کا نقصان ہے۔
ادب کو آئینہ کہا جاتا ہے مگر آئینہ تب کام کرتا ہے جب اُس پر دھول نہ جمی ہو۔ ہمارے ادبی منظرنامے کو بھی ذرا خاموش ہو کر اپنے اردگرد بکھرے ہوئے سچے قلمکاروں کی آواز سننی چاہیے بالکل اُس بلبل کی آواز کی طرح جو سہیل احمد صدیقی کے ہائیکو میں چیری کے کھلتے پھولوں کے درمیان گونجتی ہے۔
چند ضروری سوال کے بعد چند عملی اقدامات کی تجاویز
اگر یہ سوال واقعی سنجیدہ ہیں تو پھر اُن کے جواب بھی عملی ہونے چاہییں۔ محض اظہارِ افسوس سے کچھ نہیں بدلے گا۔
۱. ادبی میلوں اور اداروں سے سوال:
کیا مدعوین کے انتخاب کا کوئی شفاف معیار موجود ہے؟
کیا مختلف شہروں اور حلقوں کے لکھنے والوں کا منظم ریکارڈ رکھا جاتا ہے؟
کیا ہر سال نئے اور غیر معروف مگر معیاری قلمکاروں کے لیے مخصوص نشست رکھی جاتی ہے؟
عملی قدم:
ایک آزاد اور غیر جانب دار ادبی مشاورتی پینل تشکیل دیا جائے جو مدعوین اور اعزازات کے انتخاب کے عمل کی نگرانی کرے، اور سالانہ رپورٹ جاری کرے۔
۲. اشاعتی اداروں سے سوال:
کیا مسودات کی جانچ واقعی غیر جانب دارانہ طریقے سے ہوتی ہے؟
کیا تعلقات اور حلقہ بندی غیر محسوس انداز میں فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہے؟
عملی قدم:
Blind review نظام اپنایا جائے، اور مسترد کیے گئے مسودات پر مختصر مگر معیاری فیڈ بیک دینا لازم قرار دیا جائے۔
۳. میڈیا سے سوال:
کیا سنجیدہ علمی و ادبی گفتگو کو ریٹنگ کے خوف سے نظر انداز کیا جا رہا ہے؟
کیا عوامی ذوق کو بہتر بنانے کی ذمہ داری میڈیا پر عائد نہیں ہوتی؟
عملی قدم:
ہر بڑے چینل پر ماہانہ کم از کم ایک پروگرام خالصتاً تحقیق و ادب کے لیے مختص کیا جائے، جس میں علاقائی اور کم معروف اہلِ قلم کو مدعو کیا جائے۔
۴. اہلِ قلم کے لیے بھی ایک سوال:
کیا صرف خاموشی سے اچھا کام کرتے رہنا کافی ہے؟
یا اب وقت آ گیا ہے کہ معیاری لوگ اپنی موجودگی کو منظم، محفوظ اور نمایاں بھی کریں؟
عملی قدم:
ڈیجیٹل آرکائیوز، ذاتی ویب سائٹس، آن لائن لیکچرز اور تحقیقی مواد کی منظم دستاویز بندی کو سنجیدگی سے اپنایا جائے۔
یہ تحریر کسی ایک فرد کی وکالت نہیں یہ ایک اصول کی بات ہے۔
اگر ہم واقعی ادب کو آئینہ سمجھتے ہیں تو آئینہ صاف رکھنے کی ذمہ داری بھی اجتماعی ہے۔
سوال اٹھانا پہلا قدم ہے۔
عملی اقدام دوسرا۔
اور ادارہ جاتی اصلاح سب سے مشکل مگر سب سے ضروری قدم۔
اگر ہم یہ تینوں نہ اٹھائیں تو پھر شکایت محض ایک ادبی مشق بن کر رہ جائے گی۔
ادب کی ایک "نالائق” طالبہ کی حیثیت سے جسے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے مجھے تو یہی سمجھ آیا ہے کہ ادب کا سفر ہجوم سے نہیں، سچ سے طے ہوتا ہے، یا کم از کم ہونا چاہیے۔
مگر وہ سچ مصنوعی نہیں، نامیاتی ہونا چاہیے سقراط والے سچ کی طرح، جو سوال سے جنم لے اور قیمت مانگے۔
جو قلم سچ کے ساتھ کھڑا رہے، وہ مرکزی دھارے سے وقتی طور پر باہر ضرور ہو سکتا ہے،
مگر سنجیدہ قاری کی طلب سے کبھی خارج نہیں ہوتا۔
وقت کی عدالت دیر سے سہی، مگر فیصلہ ضرور سناتی ہے۔
اصل آوازیں اکثر شور میں دب جاتی ہیں،
مگر جب گونجتی ہیں تو صدیوں تک باقی رہتی ہیں۔
وقت خود ان کے گرد دریا کا رخ موڑ دیتا ہے۔
شاید ہمیں صرف اتنا کرنا ہے
کہ چیری کے کھلتے پھولوں کے درمیان
بلبل کی آواز کو پہچاننا سیکھ لیں۔