انسانوں اور فرشتوں میں کیا فرق ہے

ٹھیک سے یاد نہیں یہ بات کہاں پڑھی تھی، بس مفہوم یاد ہے، کچھ اِس قسم کا تھا: ”بندے کا پیٹ بھرا ہوا ہو، بینک میں مناسب سے پیسے ہوں اور کوئی مجبوری نہ ہو تو اخلاقیات کا جھنڈا اُٹھانا آسان ہوتا ہے۔ اخلاقی اقدار کے بارے میں گفتگو اُس وقت اچھی لگتی ہے جب اِن اقدار کو اپنانےکی کوئی حقیقی قیمت نہ چکانی پڑے۔ لوگ اخلاقیات، انصاف پسندی اور نیکی کی تبلیغ اُسی وقت کرتے ہیں جب اُن کی اپنی سلامتی اور وجود داؤ پر نہ لگا ہو اور جب ’درست اور قانونی کام‘ کرنے میں کوئی فوری خطرہ نہ ہو۔ لیکن اگر اخلاقی قدروں سے چمٹے رہنے کی صورت میں انہیں اپنے عہدے، دولت یا طاقت کے چھن جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے تو اُس وقت اُن کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے اور اس امتحان کا پہلا پرچہ اخلاقیات کا ہوتا ہے جس میں وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ یہ بات تاریخ سے بارہا ثابت ہو چکی ہے کہ جنگ، بحران یا مایوسی کے عالم میں وہ لوگ، جو کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی باتیں کرتے تھے، ایک لمحے کا تامل کیے بغیر اپنے ’اعلیٰ اخلاقی اصولوں‘ کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے خیر باد کہہ دیتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اچھے برے کی تمیز مِٹ جاتی ہے۔ وہ لوگ جو کبھی بے رحم اقدامات کی مذمت کرتے تھے اب انہیں ’ضروری قرار دیتے ہیں۔

گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اخلاقیات ’رج کھان کی مستی‘ (بھرے پیٹ کی مستی) ہے، یہ ایک ایسا سماجی معاہدہ ہے جو صرف اُس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک اسے نبھانا آسان ہو۔ لیکن جونہی اخلاقی اقدار کی قیمت چکانے کی نوبت آتی ہے تو انسانی فطرت اپنی ابتدائی حالت میں بدل جاتی ہے، یہ وہ فطرت ہے جو لاکھوں سال پہلے غار میں رہنے والے انسان کی تھی، یعنی غلبہ پانے، زندہ رہنے اور جیتنے کی جبلت۔ اگر کسی انسان کی اخلاقی اقدار وقت اور سہولت کے ساتھ تبدیل ہو جائیں تو وہ اخلاقی قدریں نہیں کہلائیں گی بلکہ اُس کا شوق کہلائے گا۔ اخلاقی اقدار کا تو پتا ہی اُس مشکل وقت چلتا ہے جب انسان کو اُن اقدار کیلئے اپنا وجود یا اپنا سرمایہ، ساکھ یا نوکری داؤ پہ لگانی پڑ جائے۔“

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنیادی اخلاقی اصول و اقدار کیا ہیں اور اُن کی پاسداری کیوں ضروری ہے، یہ اصول قانون کی کس کتاب میں لکھے ہیںاوراِن پر عمل کرنا کیوں ضروری ہے؟یہ اصول کسی قانون کی کتاب میں نہیں لکھے مگر اِن پر عمل کرنا اِس لیے ضروری ہے کہ اِس کے بغیر مہذب انسانی معاشرے کا قیام ممکن نہیں کیونکہ یہ وہ آفاقی اصول ہیں جو اچھائی اور برائی کے درمیان تمیز کرنے کیلئے ایک قطب نما کا کام دیتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اِن میں سے کچھ اصول کسی زمانے میں یا کسی معاشرے میں بالکل متضاد معنی رکھتے ہوں مگر کچھ ایسی بنیادی اقدار ضرور ہیں جو مہذب معاشروں میں باہمی تعاون اور فلاح و بہبود کیلئے ناگزیر ہیں۔ مثال کے طور پر دیانت داری اور سچائی۔ ایک لمحے کیلئے فرض کر لیں کہ مریخ میں کوئی مخلوق بستی ہے اور اُن کے معاشرے میں دیانت داری اور سچائی کو بنیادی اقدار کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا تو کیا وہ معاشرہ پنپ سکے گا؟ظاہر ہے کہ نہیں کیونکہ کوئی بھی سچ بولنے کاپابند نہیں ہوگا اور نہ ہی بددیانتی پر اسے موردِ الزام ٹھہرایا جا سکے گا۔

عدل و انصاف بھی ایک اخلاقی قدر ہے اور احترامِ انسانیت بھی، اور سب سے اہم اخلاقی قدر ہے اپنے اعمال کے نتائج کو قبول کرنا ہے، یعنی ذمہ داری اور احتساب۔ اِن اخلاقی اقدار کی پابندی کیوں ضروری ہے، یہ انسانی تہذیب کے قدیم ترین سوالات میں سے ایک ہے۔ سادہ جواب وہی ہے کہ اِن اصولوں کو تسلیم کیے بغیر کوئی مہذب معاشرہ اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔ اصل بحث پر واپس آتے ہیں۔ کیا انسانوں کو فرشتوں کی طرح ہر حال میں اخلاقیات کا علم بلند کیے رکھنا چاہیے؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ اگر انسان نے فرشتے کی طرح ہی برتاؤ کرنا ہو تو پھر خدا کو یہ دنیا تخلیق کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اِبلیس سے ہی سجدے کرواتا رہتا۔ بے شک سچائی، ایمانداری، انسانی ہمدردی، انصاف، عدل، احتساب، یہ تمام اخلاقی اقدار ہیں مگر کوئی بھی انسان ایک حد تک ہی اِن کی پاسداری کر سکتا ہے۔ جب اُس کا اپنا وجود خطرے میں پڑ جائے، کوئی کنپٹی پر پستول رکھ دے یا اِن اخلاقی اقدار کی ایسی قیمت چکانی پڑ جائے جو اُس کی زندگی سے بڑھ کر ہو تو کیا ایسی صورت میں بھی اخلاقی اصولوں سے چمٹے رہنا چاہیے؟ عمانوئل کانٹ سے پوچھیں گے تو جواب ہاں میں آئے گا، کیونکہ کانٹ کی دلیل بڑی واضح ہے کہ اگر آپ نے اپنے لیے کوئی رعایت تلاش کر لی تو پھر اِس بات کی کوئی حد طے نہیں کی جا سکتی، پھر ہر انسان اپنی سہولت کے مطابق اخلاقی اقدار کی حدود متعین کرے گا اور جب اسے لگے گا کہ اب اُس کے پَر جلنے لگے ہیں تو وہ آرام سے پرے ہو کر چین کی بانسری بجانے لگے گا۔

لیکن یہ مسئلہ خاصا پیچیدہ ہے، بے شک کانٹ کی بات میں وزن ہے مگر سوال وہی ہے کہ انسان اور فرشتے میں کوئی تو فرق ہے۔ اگر کوئی انسان اپنی بساط اور اوقات سے بڑھ کر اخلاقی اصولوں کی پاسداری کرتا ہے اور صرف اُس وقت اُن اصولوں پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جب اُس کا اپنا وجود خطرے میں پڑ جائے تو آج کل کے زمانے میں ایسے انسان کی قدر کرنی چاہیے نہ کہ اسے طعنے دینے چاہئیں۔ اِس خاکسار کی رائے میں کانٹ کا موقف اصولاً درست ہے مگر عملی طور پر شاید نصف فیصد فانی انسان بھی اِس کسوٹی پر پورے نہ اتریں۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ کانٹ کے مثالی اخلاقی ماڈل کو سرے سے خارج از بحث ہی کر دیا جائے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ لوگ جو ہمہ وقت اخلاقی اقدار سے جان چھڑانے کا کوئی نہ کوئی جواز تلاش کر رہے ہوتے ہیں اُن کیلئے معافی یا رعایت کی کوئی گنجایش نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو کسی حوالدار کا فون بھی رکوع کی حالت میں سنتے ہیں اور اُس کے احکامات کی بجاآوری میں ہر قسم کے اخلاقی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر خود کو یہ تسلی دیتے ہیں کہ ’زمینی حقائق کا ادراک رکھنا بھی ضروری ہے۔‘

سو، یہ کہنا کہ اخلاقی اقدار محض سہولت اور آسایش کے دنوں میں ہی انسانوں کا وصف ہوتی ہیں، کوئی درست بات نہیں۔ انسانوں میں عظیم لوگ بھی ہوتے ہیں اور ایسے عظیم نہ بھی ہوں، تو اتنے اعلیٰ ضرور ہوتے ہیں کہ مشکل اور کڑے وقت میں حق سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ہم نے دیکھا بھی ہے، سہا بھی ہے، اور ہم کوئی فرشتے ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کرتے۔ ”پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق، آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا۔“ شعر کی یہاں کوئی تُک نہیں تھی، محض فرشتوں کے ذکر پر یاد آ گیا! آفٹر آل میں انسان ہوں۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے