پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے

یہ برس کچھ عجب رنگ سے نمودار ہوا ہے۔ دلوں کے حوصلے شل کرتا ہوا۔ یوں ہر برس فروری کے پہلے ہفتے کا انتظار رہا کرتا تھا۔ خزاں کی بے برگ شاخوں پر کونپلوں اور شگوفوں کی نمود سے خوابوں کو امید بخشتا ہوا۔ اس برس کیفیت بدل گئی ہے۔ آنکھ کو کچھ اور ہی اشارے مل رہے ہیں۔

پرانی صحبتیں یاد آ رہی ہیں۔ خور و خواب سے وحشت ، محفلوں میں بے گانگی کا احساس، موسیقی کی مانوس بندشیں اور سروں کے کٹیلے اتار چڑھائو میں پچھلی رتوں کی چراغ جل اٹھنے جیسی کیفیت ناپید ہے، گویا ایک خوش رنگ منظر ہے دھیرے دھیرے، ایک ناگزیر قطعیت کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کی نظم ویسٹ لینڈ بہت مرتبہ پڑھی ہو گی۔ ’April is the cruelest month‘۔ اب معلوم ہوا کہ نئی رتوں کی آمد سے پرانے زخم کیسے ہرے ہوتے ہیں۔ جن مہینوں میں پھول کھلتے ہیں، ان موسموں میں فراموش دکھوں کی بازگشت کیسے دلوں کے قتلے کرتی ہے۔

بہت برس پہلے یاروں کی ایک منڈلی ہر ہفتے التزام سے کہیں بیٹھ جاتی تھی۔ یوں جیسے ’حلقہ زن بیٹھ گئے شعلہ ناپید کے بیچ‘۔ اس مجلس میں علی افتخار جعفری، ابرار احمد اور محمد خالد ہوتے تھے۔ عارف وقار، خالد چوہدری اور خالد محمود شامل ہوتے تھے۔ شعر و ادب پہ بات ہوتی تھی۔ کتابوں کا ذکر رہتا تھا۔ مطائب بیان ہوتے تھے۔ رات بھیگتی تھی تو ہفتے بھر کی خجالت مٹانے کا سامان ہوتا تھا۔ فلک ناہنجار کو یاران خستہ پا کا یوں ہنس بول لینا بھی منظور نہ ہوا۔ 9فروری 2014 ءکو علی افتخار جعفری نے رخصت لے لی۔

یہ مجلس تو علی افتخار کے ساتھ ہی برہم ہو گئی۔ دوست اپنے اپنے کنج عزلت میں محصور ہو گئے۔اک سانس کی ڈوری باقی تھی۔ کوویڈ 19کے ہنگام محمد خالد نے یہ تسمہ بھی باقی نہیں رہنے دیا۔ جس خاموشی سے زندگی کی تھی اسی رسان سے 14جون 2020کو رخصت ہو گئے۔ تبھی خبر آئی کہ ابرار احمد سرطان سے نبردآزما ہیں۔

ملتان کی سڑکوں پر عابد عمیق ، صلاح الدین حیدر اور خالد سعید کے ساتھ نئی نظم کی گیسو آرائی سے پہچان پانے والے ابرار احمدنے 29اکتوبر 2021ءکو آنکھیں موند لیں۔ خالد احمد نے ضیا آمریت سے پنجہ آزمائی میں اہل لاہور کی سی جگر داری دکھائی تھی۔

لاہور قلعے کی تیرہ و تاریک کوٹھریوں میں بھری جوانی کے چھ برس کاٹ دیے۔یہ ساونت بھی 15 جنوری 2023 کوسوز ش جگر سے شکست کھا گیا۔اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو۔ ایسے یاران رفتہ کے اوجھل ہونے کا دکھ انہی کے لفظوں میں بیان کیا جائے تو مناسب ہے۔ ہم آپ تو جوہر اور کنکر کی پہچان نہیں رکھتے۔ محمد خالد اختر کے کچھ اشعار دیکھئے۔

کون سنتا ہے ہواؤں کی عجب سرگوشیاں

اور جاتی ہیں ہوائیں در بدر کس کے لیے

اول عشق کی ساعت جا کر پھر نہیں آئی

پھر کوئی موسم پہلے موسم سا نہیں دیکھا

جب یہ طے ہے کہ نہیں لوٹ کے آنا ہم کو

ڈوبنا ہے تو کہیں پار اترنا بھی تو ہے

بیٹھتا جاتا ہے آئینہ ہستی پہ غبار

اس خرابے میں یہی خاک فقط میری ہے

ابرار احمد کی نظم ’قصباتی لڑکوں کا گیت‘ پر تو ظفر اقبال نے بھی داد دی تھی۔ چند سطریں دیکھئے۔

ہم لوٹیں گے تیری جانب

اور دیکھیں گے تیری بوڑھی اینٹوں کو

گزشتہ کے گڑھے میں

ایک بار پھر گرنے کے لئے

لمبی تان کر سونے کے لئے

ہم آئیں گے تیرے مضافات میں

مٹی ہونے کے لئے

علی افتخار،محمد خالد سے قریب بیس برس اور ابرار احمد سے پندرہ برس چھوٹے تھے۔ علی افتخار کا غرفہ امکان تو ابھی ادھ کھلا تھا۔ چنداشعار دیکھئے۔

اب کسی اور خرابے میں صدا دے گا فقیر

یاں تو آواز لگانا میرا بے کار گیا

حد سے حد یہ ہے کہ مٹی میں ملا دے گا مجھے

اور رکھا ہے زمانے کی کرامات میں کیا

آگہی دائو پہ ہے، اب مجھے پر کھولنے دے

تجھ پہ جبریل کے شہپر کی حقیقت تو کھلے

سروں پہ ڈال رہے ہیں دیار خواب کی خاک

زمیں سے اپنی محبت عجیب ہے کہ نہیں

بنانے والے، ترے موسموں کی خیر نہیں

بکھرنے والے بہاراں پہ خاک ڈالتے ہیں

اٹھ گئے ارض ہنر سے ترے عشووں کے اسیر

اے سخن اب ترے پیچاک کسے ڈھونڈتے ہیں
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے