مایوسی، محرومی اور نوجوان: اصلاح اور رہنمائی کا اسلامی نقطہ نظر

مسائل:

اگر نسلِ نو کے مسائل کا جائزہ لیا جائے تو واضح طور پر یہ چیزیں نمایاں ہوتی ہیں: احساسِ محرومی، لاپرواہی، والدین اور اساتذہ سے دوری، غصہ، ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل، صحت کی خرابی، برداشت کی کمی، مذہب سے دوری، خود اعتمادی کا فقدان، نصیحت کو ناپسند کرنا اور حد سے زیادہ جذباتیت۔

وجوہات:

موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، جس میں بڑی سے بڑی منازل بھی مہینوں نہیں بلکہ بعض اوقات دنوں یا گھنٹوں میں طے ہو جاتی ہیں۔ ترقی کی یہ رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ اگر کوئی انسان معمولی سی بھی غفلت کرے، تو وہ خود کو بہت پیچھے محسوس کرنے لگتا ہے۔ اسے یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ دنیا کے اس تیز رفتار سفر میں وہ ہمیشہ کے لیے پیچھے رہ گیا ہے، اور دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا اس کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔

نتیجتاً، نوجوان مایوسی، احساسِ محرومی، غصہ، ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل، جذباتیت، والدین، اساتذہ، اچھے دوستوں حتیٰ کہ مذہب سے دوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں وہ ہر وہ چیز بری سمجھنے لگتے ہیں جو انہیں ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے، جیسے مذہب، دینی نصیحتیں، اچھی کتابیں اور اصلاحی باتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ منفی سوچ کے اس قدر شکار ہو چکے ہوتے ہیں کہ اپنے ذہن میں یہ طے کر لیتے ہیں کہ ان کی دنیا سب سے الگ ہو چکی ہے، اور اب وہ زندگی میں کسی ذمہ داری کو نبھانے کے قابل نہیں رہے۔

رفتہ رفتہ وہ معاشرے کے ہر اُس فرد کو اپنا مخالف سمجھنے لگتے ہیں جو انہیں ان کی خواہشات سے روکے یا ذمہ داری کا احساس دلائے۔ اس کے برعکس، وہ لوگ یا نظریات انہیں اچھے لگنے لگتے ہیں جو انہیں خواہشات کی پیروی کی آزادی دیں اور ایک خیالی دنیا میں رکھیں، جیسے سیکولرازم اور لبرلزم، جن کا نعرہ بظاہر "جو جی میں آئے کرو” ہوتا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریات عملی طور پر انسان کو آگے بڑھانے کے بجائے اکثر اسے مزید فکری الجھن اور ذہنی انتشار کا شکار کر دیتے ہیں۔ یہ نظریات نوجوان کو عملی زندگی، ذمہ داری اور خود احتسابی سے دور رکھتے ہیں، اور ان کی نفسیات میں الجھن اور بےچینی پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اصل مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

ایسی صورت میں، نوجوان اتنے غافل ہو جاتے ہیں کہ جب انہیں کسی غلط کام کی طرف متوجہ کیا جائے، تو انہیں یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ انہوں نے وہ کام کیا بھی ہے یا نہیں۔ یہ حالت ان کی شعوری اور اخلاقی بیداری کو مفلوج کر دیتی ہے اور انہیں اپنے اعمال کے نتائج سے بے خبر رکھتی ہے۔ اگر کبھی حالات انہیں اس غفلت اور ذہنی نشے سے بیدار کریں، تو اکثر ان کے پاس سنبھلنے کا وقت نہیں ہوتا۔ نتیجتاً وہ غصے، احساسِ محرومی اور چڑچڑاپن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ان کی نفسیات ایسی بن جاتی ہے کہ وہ ہر ممکنہ ذمہ داری سے فرار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اب جو بھی چیز انہیں ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے، وہ اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کا سارا ملبہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ مذہب میری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، کبھی والدین کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، اور کبھی سرکاری اداروں یا اساتذہ پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے انہیں آزادی یا مواقع فراہم نہیں کیے۔ اس طرح ہر ناکامی کا سبب دوسروں کو قرار دے کر وہ خود احتسابی سے اجتناب کرتے ہیں۔

حل:

یہاں تک ہم نے ان نفسیاتی مسائل اور بیماریوں کا ذکر کیا جو نئی نسل میں زیادہ تر ان کی اپنی کوتاہیوں، غفلت اور غلطیوں کے نتیجے میں پیدا ہو چکی ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کا کوئی حل موجود ہے یا نہیں؟

جدید فلسفوں اور نئے خیالات پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ نظریات بعض اوقات نوجوانوں کے مسائل میں مزید بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں، اور عملی مدد فراہم نہیں کر پاتے۔ یہ نظریات نوجوان کو عملی زندگی، ذمہ داری اور خود احتسابی سے دور رکھتے ہیں، اور ان کی نفسیات میں الجھن اور بےچینی پیدا کرتے ہیں۔ نتیجتاً، اصل مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

ایسی صورت میں اصلاح کا واحد مؤثر راستہ صرف مذہب ہے، اور یہاں مذہب سے مراد اسلام ہے۔ اسلام کی تعلیمات اور نظریات میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ انسان کو نہ صرف عملی بلکہ نفسیاتی مسائل سے بھی نکال سکتی ہیں۔ یہ انسان کو مایوسی، احساسِ محرومی، لاپرواہی، بےجا جذباتیت، اور مذہب و والدین سے بیزاری جیسے حالات سے نکال کر ایک نئی، کارآمد اور بامعنی زندگی عطا کر سکتی ہیں۔

اسلام کی رہنمائی:

مذہب انسان کو شعوری طور پر یہ احساس دلاتا ہے کہ تم جن اندھیروں، مایوسیوں اور محرومیوں کے دلدل میں پھنسے ہو، ان سے نکلنے کے لیے تم اپنے پاس موجود صلاحیت کو بروئے کار لاؤ۔ اگر تمہیں یہ محسوس ہو کہ تمہاری صلاحیت کافی نہیں، تو فکر نہ کرو۔ بس ابتدا کرو اور روشنی کی طرف اپنے سفر کا آغاز کر دو، اور خدا پر بھروسہ رکھو۔ یقیناً جہاں تمہیں اپنی صلاحیت ناکافی محسوس ہوگی، وہیں تمہاری مدد کے لیے خدا موجود ہوگا جس پر تم نے بھروسہ کیا ہے۔

خدا انسان کو یہ شعور اور حوصلہ دیتا ہے کہ دنیا کی جس ترقی سے تم خود کو پیچھے سمجھتے ہو، وہ تمہارے لیے بھی ممکن ہے۔ اسلام انسان کو محض تسلی نہیں دیتا بلکہ خدا کی قدرت، حکمت اور کارسازی پر یقین کے ذریعے عملی امید، اعتماد اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔

خدا انسان کو ایسے دلائل دیتا ہے کہ وہ مطمئن ہو جاتا ہے، مثلاً:

"میں وکیل ہوں، میں کارساز ہوں، تمہارے کسی بھی کام کے بننے کے لیے میری یہ صفات کافی ہیں۔”

"میں ہر چیز پر قادر ہوں؛ میں ارادہ کروں تو مردوں کو زندہ کر دوں، میں ارادہ کروں تو آسمان سے بارش برسا دوں، میں ارادہ کروں تو بغیر باپ کے اولاد پیدا کر دوں، اور میں چاہوں تو آگ کے اندر بھی کسی کو جلنے سے بچا دوں۔”

تم تو صرف دنیا کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہو، لیکن ہم وہ قدرت رکھتے ہیں کہ لاکھوں کلومیٹر کا سفر بھی کسی کے لیے لمحوں میں طے کرا دیں۔

خدا انسان سے کہتا ہے: تم ہماری طرف آؤ، ہم تمہارے ہر دکھ، پریشانی اور ناکامی میں مددگار ہیں۔ ہماری قربت حاصل کرو، تمہیں وہی چیزیں ملیں گی جن کے حصول کے لیے تم بےچین تھے، اور جو تمہیں مایوسی اور محرومی کا شکار کرتی تھیں، وہ سب چھوٹ جائیں گی۔

یہ دنیا تمہیں واقعی ضرورت کے مطابق دی جائے گی، اور ہماری قربت سے تمہیں حقیقی اطمینان حاصل ہوگا، جو ہر دلیل اور حقیقت پر پورا اترنے والا ہوگا۔

نوٹ:

یہ جو مذہب سے بیزاری کا رویہ نئی نسل میں پیدا ہوا ہے، اور جب انہیں کوئی نیا نظریہ یا فلسفہ نظر آتا ہے تو وہ صرف اس کی طرف مائل نہیں ہوتے بلکہ اس کی وکالت بھی شروع کر دیتے ہیں، اس کی وجہ مذہب کی خامیاں نہیں اور نہ ہی نئے آنے والے نظریے کی خوبی ہے۔ اصل سبب وہ نفسیات ہیں جو نئی نسل میں پروان چڑھی ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے اور حقائق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے