منی کے ایک قطرے سے وجود پانے والا انسان، جب تھوڑی سی عزت، چھوٹا سا عہدہ، معمولی سا اختیار، تھوڑا سا مال و دولت اور ذرا سا حسن و جمال پا لیتا ہے، تو عجب غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ بھی انسان ہے اور اس کے اردگرد بسنے والے بھی اسی مٹی کے بنے انسان ہیں، جی ہاں انسان! وہ بھی دکھ درد رکھتے ہیں، حساس دل کے مالک ہوتے ہیں، وہ بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور مسائل میں گھرے ہوتے ہیں، وہ بھی آزمائشوں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
ایسے میں انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے سینے میں دل کو زندہ رکھے، ایسا دل جو دوسروں کے مسائل و مشکلات کو محسوس کرے، جو درد سمجھے، جو دوسروں کے لیے نرم ہو۔
یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عزت، یہ عہدہ، یہ اختیار، یہ دولت اور یہ حسن و جمال، یہ سب کچھ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانتیں ہیں، دائمی ملکیت نہیں۔ دنیا ہی دائمی نہیں تو تمہارا یہ اختیار، تمہاری یہ دولت، تمہارا یہ حسن اور تمہارا یہ عہدہ کیسے دائمی ہوسکتا ہے؟ کھبی سوچا بھی ہے!
جب انسان تعصب، کینہ اور تکبر کی دھند میں گم ہو جاتا ہے تو وہ یہ حقیقت بھول ہی بیٹھتا ہے کہ جس رب نے عزت عطا کی ہے، وہی ایک لمحے میں اسے چھین بھی سکتا ہے۔ غرور کے نشے میں چور یہ انسان یہ نہیں جانتا کہ قدرت اسے کب، کہاں اور کیسے اس کی اصل اوقات یاد دلا دے۔ اور قدرت کو یاد دلانے کے لیے فقط "کن” کی ضرورت ہوتی ہے اور "فیکون” ہوجاتا ہے۔ اور اس کے لیے سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔
تو اس لیے سینے میں دل ہونا ضروری ہے، ایسا دل جو عاجزی سکھائے، محبت بانٹے، اور انسان کو انسان رہنے دے۔
اس دل کے بارے پیارے حبیب صل اللہ علیہ والہ سلم نے فرمایا ہے۔
"أَلَا وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ القَلْبُ”(بخاری: 52)
یعنی "خبردار! جسم میں ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔”
اسی حقیقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو انسان کی اصل اصلاح اور بگاڑ کا مرکز یہی دل ہے۔ جب دل میں عاجزی، رحم، اخلاص اور خوف خدا ہو تو انسان کا کردار بھی سنور جاتا ہے، اس کا اختیار انصاف بن جاتا ہے اور اس کی دولت خیر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لیکن جب یہی دل تعصب، تکبر، کینہ اور نفرت سے بھر جائے تو پھر عہدہ ظلم میں ، دولت فتنہ میں اور عزت زوال میں بدل جاتی ہے۔ اس لیے اصل فکر ظاہری مقام کی نہیں بلکہ دل کی اصلاح کی ہونی چاہیے، کیونکہ سینے میں زندہ دل ہو تو انسان انسان رہتا ہے، ورنہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ اپنی حقیقت کھو بیٹھتا ہے۔ اور بہائم سے بھی پرلے درجے میں پہنچ جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے نہایت سخت اور چونکا دینے والے انداز میں بیان کیا ہے۔
"أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ” (الأعراف،179)
یعنی "یہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔”
یاد رہے! نفرت، تعصب اور تکبر سے لبریز انسان کا یہ وجود، جو کبھی ایک معمولی قطرہ تھا، اللہ کی پکڑ سے کب تک بچ سکتا ہے؟
لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقت نہ بھولے، اپنی اوقات کو یاد رکھے، اور ہر حال میں انسانیت کا دامن تھامے رکھے۔ اور سینے میں ایک دردمند دل کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔